تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عدالت عظمیٰ نے کسی سربراہِ مملکت کے خلاف فیصلہ نہیں دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 17 جمادی الثانی 1434هـ - 28 اپریل 2013م KSA 12:13 - GMT 09:13
عدالت عظمیٰ نے کسی سربراہِ مملکت کے خلاف فیصلہ نہیں دیا

قومی اسمبلی کے چاروں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد سابق صدر پرویز مشرف انتخابی عمل سے باہر ہو گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این۔اے 32چترال سے سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کی تھی جسے پشاور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے منظور نہ کر کے سابق صدر پرویز مشرف کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونا اورمحض الزامات کی بنیاد پر کسی شخصیت کی ناہلی انتخابی عمل پر سوالیہ نشان ہے۔عوام بلا تکلف سوچ رہی ہے کہ راجہ پرویز اشرف سابق وزیراعظم، جمشید دستی ، ہمایوں عزیز کرد، علی احمد جتک اور جعلی ڈگری رکھنے والے کم و بیش تمام سابق ارکان اسمبلی کو کس بنیاد پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کی روشنی میں انتخابات لڑنے کی اجازت دی جا چکی ہے ۔ کسی اور کا نہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کا حکم تھا کہ جعلی ڈگری رکھنے والوں نے دھوکہ دہی سے کام لے کر جھوٹ بولا ہے اور ایسے لوگ آرٹیکل 62اور 63کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب جب کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور ماتحت عدالتیں ان کی ڈگریوں کو جعلی قرار دلوا چکی ہیں تو پھر کس بنیاد پر انہیں سپریم کورٹ ہی کے ماتحت عدالتوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔اسی طرح ماتحت عدالتوں نے ٹیکس چھپانے،کرپشن میں سزا پانے والوں، قرضے معاف کرانے والوں اور سروس آف پاکستان میں کنٹریکٹ پر اعلیٰ ملازمتیں حاصل کرنے والوں کو بھی ماتحت عدالتوں نے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اسی طرح سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اداروں نے برملا اعتراف کیا تھا کہ ممتاز شخصیات 1985ء سے بینکوں کی نادہندہ ہیں یا انہوں نے اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کی واحد شخصیت سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کو محض آئین سے انحراف کے الزامات پر مسترد کرنا ماتحت عدلیہ کی عقل و دانش پر حیرانگی ہوتی ہے۔

پاکستان کے حقیقی بنیادوں پر تنقید کرنے والے قومی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر سارے لٹیرے ، قومی دولت میں خیانت کرنے والے،ٹیکس چور منی لانڈرنگ والے ایسے میں، ریٹرننگ آفیسران، ایلیٹ ٹربیونلز کے بارے میں فکرات کا گہرا اثر لئے ہوئے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے فیصلے میں درست لکھا ہے کہ ریٹرننگ آفیسران کے اس قسم کے سوالات اور فیصلوں سے عدلیہ کا سر شرم کے مارے جھک گیا ہے۔ ان کے فیصلے قواعد و ضوابط آئین، سپریم کورٹ کے فیصلوں سے ماورا، کیوں نظر آرہے ہیں ۔ اسی پس منظر میں سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی نامنظور کرنے سے یہ تاثر محسوس ہو رہا ہے کہ ہماری ماتحت عدلیہ کے آفیسران اور عدالت عالیہ کے الیکشن ٹربیونل کے ججز صاحبان میڈیا اور سیاست کے سحر میں مبتلا رہے۔ عوام تو موجودہ عدالتوں سے انصاف کی طوفانی بارش کا منظر دیکھنا چاہتے تھے کہ اس بار وہ خواہش مند تھے کہ دن دہاڑے جرائم کر نے والے سرعام شراب نوشی کرنے والے، امریکی ، برطانوی اور انڈین سفارت خانوں سے کھلے عام شراب نوشی کرنے والے پارلیمنٹ کے بعض ارکان ، سرکاری وسائل کے ذریعے جائیدادیں میں بنانے والے اور ترقیاتی فنڈز سے اربوں روپے وصول کرنے والے آئین کے آرٹیکل 62اور 63کا پل صراط عبور نہ کر پائیں گے۔ درمیانے درجے کے امیدواروں کو انصاف کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کہ قومی مجرموں نے انصاف کو خرید لیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان اگر الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جائزہ کے لئے منگوا کر دیکھیں۔ ان الیکشن ٹربیونلز نے چیف جسٹس آف پاکستان کے احکامات کو نظر انداز کر کے قوم پر سابقہ قیادت ہی مسلط کر دی ہے۔11مئی 2013ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں قیام ہونے والی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں حلف اٹھانے کے بعد ان ارکان اسمبلیوں کے ان کے کاغذات نامزدگی میں درج شدہ کالموں کی روشنی میں اور اُس کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بینک آف پاکستان، نیب، ایف۔آئی۔اے اور ایف۔بی۔آر کے ریکارڈ سے جانچ پڑتال کروانے کیلئے پاکستان کی بعض سول سوسائٹیوں کی طرف سے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ جانچ پڑتال کرانے کا مرحلہ شروع ہو جائے گا اور پھر ان کی تحقیقی رپورٹ کی روشنی میں ان ارکان اسمبلیوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پہنچایا جائے گا جس طرح دوہری شہریت کے بعد جعلی ڈگریوں کے حامل ارکان اسمبلیوں کے کیسز سپریم کورٹ میں بھجوائے گئے تھے۔

پاکستان کی آئینی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کبھی بھی کسی برسراقتدار حکمران کے خلاف فیصلہ نہیں دیا۔ غلام محمد گورنر جنرل پاکستان، صدر سکندر مرزا، فیلڈ مارشل لاء ایوب خان، صدر جنرل یحییٰ خان ، صدر پرویز مشرف اور صدر آصف علی زرداری ، جنرل یحییٰ خان کے بارے میں چیف جسٹس حمود الرحمن نے غاصب قرار دیا۔جب کہ اقتدار مارشل لاء آرڈر کے تحت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو منتقل ہوا اور مسٹر بھٹو نے عبوری آئین کی منظوری تک مارشل لاء برقرار رکھا۔ جب عدالت عظمیٰ نے جنرل یحییٰ خان کے خلاف فیصلہ سنایا ، حقیقت میں یہاں پر چیف جسٹس حمود الرحمن نے ملک کی سنگین بحرانی کیفیت کو دیکھتے ہوئے نظریہ ضرورت کا سہارا لیا۔ حالانکہ اِسی آئینی پٹیشن میں ملک غلام جیلانی کی صاحبزادی آصمہ جیلانی کے ساتھ الطاف گوہر بھی شریک تھے۔ الطاف گوہر کا مؤقف یہ تھا کہ چونکہ جنرل یحییٰ خان نے 25مارچ1969ء کو 1962ء کے آئین کے خلاف اقتدار فیلڈ مارشل ایوب خان سے حاصل کیا تھا لہٰذا 25مارچ 1969ء کی پوزیشن بحال کی جائے اور نگران صدر کا تقرر کر کے ملک میں از سر نو انتخابات کرائے جائیں۔ لیکن چیف جسٹس آف پاکستان نے نظریہ ضرورت کے تحت ان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ 5جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی حمایت میں ایک بار پھر نظریہ ضرورت پر انحصار کیا گیا اور مارشل لاء کے خلاف مقدمہ کے فیصلے میں جنرل ضیاء الحق کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ اس کا پس منظر یوں ہے کہ جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انوار الحق نے جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے حق میں فیصلہ لکھ دیا تھا۔ لیکن اس کا اعلامیہ جاری نہیں کیا تھا۔ اسی رات جنرل ضیاء الحق نے جسٹس انوار الحق کو رات کے ڈنر پر مدعو کیا تو جسٹس انوار الحق نے بڑے فخریہ انداز میں بتایا کہ ان کے خلاف آئینی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے اور اعلامیہ جج کے فل کورٹ میں سنایا جائے گا۔

اس پر شریف الدین پیرزادہ جو اس وقت اٹارنی جنرل اور ملک کے وزیر قانون بھی تھے ان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر ضیاء الحق کو آئین میں ترمیم کرنے کا بھی اختیار دے دیا جائے۔ لہٰذا چیف جسٹس انوار الحق رات گئے سپریم کورٹ آئے اور اپنے رجسٹرار غالباً عاشق حسین سے اپنا چمبر کھلوایا اور اپنے رازدان سٹینو گرافر سے اپنے فیصلے کے آخیر میں صدر ضیاء الحق کو آئین میں ترمیم کے وسیع اختیارات دے کر 1973ء کے حقیقی اور جمہوری آئین کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اِسی طرح عدالت عظمیٰ کے فاضل ججوں نے جنرل پرویز مشرف کے معاملے میں جنرل ضیاء الحق کے فیصلے پر ہاتھ صاف کیا۔ اگر سابق صدر پرویز مشرف پر مقدمہ چل سکتا ہے تو اب سب کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔جو صدر ضیاء الحق کی مارشل لاء کی پہلی وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان تھے اور بعد ازاں جو کابینہ 23مارچ1980ء کو تشکیل دی گئی اور اِسی کابینہ کے تحت 3فروری 1985ء کو انتخابات ہوئے اور اس سے پیشتر19 دسمبر 1984ء کو ریفرنڈم کرانے کی صدارتی ٹیم کو سامنا کرنا پڑاجو طاقت کے نشے میں سرشار ہو کراقتدار کے مزے لیتے رہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند