تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ۔۔۔؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 24 جمادی الثانی 1434هـ - 5 مئی 2013م KSA 08:39 - GMT 05:39
سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ۔۔۔؟

صدر پرویز مشرف سے پیپلز پارٹی اور ایم۔کیو۔ایم کی اکثریت نے این۔آر۔او سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور 31مارچ2008ء کو سابق صدر پرویز مشرف کے ہاتھ حلف اٹھانے والوں کے پاس کیا جواز ہے کہ ان کی تعیناتی کو قانون و آئین کے مطابق سمجھا جائے۔ دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان مملکت میں قتل کئے جانے یا سزائے موت پانے والوں کی اکثریت ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ خصوصاً مسلم ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ہاتھوں ان ممالک کے اپنے عوام ہی کے ہاتھوں ان کے حکمرانوں کو قتل یا معزول کر دیا گیا۔ پھر ان ممالک میں کوئی مستحکم حکومت قائم ہو سکی اور نہ ہی امن و امان اور تعمیر و ترقی کی کوئی صورت پیدا ہو سکی۔ اس لئے اگر پاکستان نے ایک بار پھر قائد ملت لیاقت علی خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق سے لے کر بے نظیر بھٹو اور اب سابق صدر پرویز مشرف تک کے انجام کی وجہ سے جن جن بحرانوں کو پروان چڑھایا ۔ کیا اس سے ملک میں خوشگوار فضا پیدا ہو جائے گی۔ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو ججوں نے سزائے موت دے کر بین الاقوامی عدالتوں سے اپنی عدالت کا مذاق اڑایا ۔

آج سابق صدر پرویز مشرف کو انصاف کے حصول میں دشواری پیش آرہی ہے اور اٹھارہویں ترمیم کے تحت جو معزز ججز عدالت میں موجود ہیں۔ وہ ماروائے آئین ان کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج سابق صدر کے کاغذاتِ نامزدگی نامنظور کرتے ہوئے جو ریمارکس دے رہے ہیں وہ آئین و قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔ ابھی سابق صدر کو کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی اور سزا سے پہلے ہی ان کو نااہل قرار دینا کس آئین کے زمرے میں آتا ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یومِ شہداء کی تقریب میں بات کہہ دی ہے اور ان الفاظ میں وہ کچھ کہا ہے جتنا وہ کہہ سکتے تھے۔ اپنا مؤقف اور حدیں واضح کر دی ہیں لیکن پیغام بالکل شفاف ہے۔ ہم جمہوریت کو ایک اور موقع دے رہے ہیں لیکن اگر آپ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے تو کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ عوامی مفاد کو فوقیت دینا چاہیے (یعنی جمہوریت کے نام پر جاری لوٹ مار بند کی جائے) بصورتِ دیگر یا پھر آمریت ہو سکتی ہے(دوبارہ واپس آسکتی ہے) اور حکومت ایک مرتبہ پھر قومی دولت اور وسائل لوٹنے کا ایک آلہ بن جائے گی (جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا) جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی کا اعصاب شکن کھیل صرف سزا اور جزا کے نظام ہی سے نہیں بلکہ عوام کی آگاہی اور بھرپور شمولیت ہی سے ختم ہو سکتا ہے۔

اگر بین السطور میں جنرل کیانی کے خطاب کو دیکھا جائے تو ان کا مطلب یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے گرد 3نومبر2007ء کولال مسجد اور اکبر بگٹی کے بارے میں جو گھیرا ڈالا ہے اس کو ختم کیا جائے۔ کیونکہ جو گروہ آئین اور مملکت کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا اس کو مملکت کے مفاد میں نپٹایا جائے گا۔ جنرل کیانی نے کہا ہے اگر ہم اپنے لسانی، سماجی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے بلند تر ہو کر صرف اہلیت اور ایمانداری اور نیک نیتی کی بنیادوں پر ووٹ کا استعمال کر سکیں گے توپھر نہ آمریت کا بلاوجہ خوف ہو گا اور نہ ہی جمہوری نظام کی خامیوں کا شکوہ۔ اس وقت جو انتخابی مہم جاری ہے اس میں گزشتہ پانچ سالہ حکومتی دور کا حصہ رہنے والی تین کلیدی جماعتیں اپنی پہچان جس جوش و خروش کے ساتھ لبرل جمہوریت اور سیکولرزم کے جانے پہچانے تصورات کے حوالہ سے کرا رہی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

اے۔این۔پی ، ایم۔کیو۔ایم اور پی۔پی کی قیادتیں اپنا یہ احتجاج بھی ریکارڈ کراتی چلی جارہی ہیں کہ ان کے لبرل اور سیکولر افکار اور امیج کی وجہ سے انتہا پسند قوتیں انہیں اس انداز میں ٹارگٹ کر رہی ہیں کہ ان کے لئے ایک مؤثر انتخابی مہم چلانا ممکن نظر نہیں آتا۔ اس وقت ملک کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس کی جڑیں اس ہلاکت آفرین جارحیت میں ہیں جو امریکہ اور اس کے حلیفوں نے نائن الیون کی آڑ میں اس خطے پر مسلط کی تھی۔ جنرل کیانی نے کاکول اکیڈمی میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام اور پاکستان کے تعلق سے جو باتیں کہیں وہ نہ صرف ان حلقوں کے لئے ایک وارننگ تھیں جو علامہ اقبال اور قائداعظم کے پاکستان کو ایک لبرل اور سیکولر جمہوریہ کے روپ میں ڈھالنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ بلکہ ان غیر ملکی طاقتوں کے لئے بھی ایک پیغام کا درجہ رکھتی تھیں جو پاکستان کا تعلق اسلام سے توڑنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ جنرل کیانی نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کا قیام اسلامی تشخص کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا۔ جنرل کیانی نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلام اورپاکستان لازم و ملزوم ہیں اور ہم سب اس بات کے پابند ہیں کہ پاکستان کو علامہ اقبال کے افکار اور قائداعظم کے خواب کے مطابق ایک اسلامی فلاحی مملکت بنائیں۔

خبریں گردش کر رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے آفیسران کو تبدیل کر کے دیگر سینکڑوں ڈاکٹروں کو اپنے قریب ترین علاقوں میں پریزائیڈنگ آفیسران کے فرائض سپرد کئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں ابھی انتخابی کھیل ختم نہیں ہوا۔ بعض سیاسی جماعتوں کی مقبولیت سے صرف قیاس آرائیاں ہی کی جاسکتی ہیں۔ کیونکہ بعض سیاسی جماعتوں نے اہل دانش خرید رکھے ہیں جو اخبارات میں خبروں کے ذریعے ، کالموں، مضامین اور دیگر ذرائع سے ان سیاسی قیادتوں کے عظیم گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے طرح طرح کی تاویلیں دے رہے ہیں۔ انتخابات مین صرف اسی بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ کونسی جماعت نے ان کے قلعے میں کتنی نقب لگائی ہے۔ ہمارے پیشہ ور دانشوروں نے انتخابات کو ہماری تاریخ کے دلچسپ ترین انتخابات بنا دیا ہے۔ ہر سمندری لہر نے فراز کے بعد نشیب کی طرف سفر کرنا ہوتا ہے کہ یہی قانون فطرت ہے۔ پاکستان میں تبدیلی کی گھنٹی بج چکی ہے، یہ تبدیلی مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی۔ اب سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور، دعوے اور وعدے پورے کرنے ہونگے۔ ان سے انحراف کرنے والوں کا حشر مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ہی ہو گا۔ انہوں نے قوم کو امریکہ کی حاشیہ برادری سے نجات، امریکی پالیسی کا پاکستان میں خاتمہ کرنے کے لئے تمام سوشلسٹوں اور بائیں بازو کے حامیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ اور ملک کا اقتدار سنبھالتے ہی امریکہ کے صدر نکسن کو بڑے فخر سے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے تمام بائیں بازو کے رہنماؤں، ورکروں اور دانشوروں کو اکھٹے کر کے ان کے عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اب پاکستان میں عملاً بائیں بازو کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور حقیقت میں مسٹر بھٹو نے قوم کو فریب دے کر ان کی آزادی کی روح کو ہی سلب کرلیا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں آرٹیکل 6کے نفاذ کے حوالہ سے مقدمہ کی سماعت کے دوران سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے عدالتی نظام اور اس کے طریق کار پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر ضمانت کی منظوری کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ گئے تو ان کو وہیں گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دئیے گئے جب کہ انتخابات کے لئے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ گئے تو ان کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔قانونی تقاضے نہ تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پورے کئے اور نہ ہی پشاور ہائی کورٹ نے ، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو غور کرنا چاہیے کہ پشاور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس نے کس آئین اور قانون کے تحت سابق صدر پرویز مشرف کو تاحیات ناہل قرار دیا۔ انہوں نے بادی النظر میں میری ناقص رائے میں ماورائے آئین فیصلہ سنا دیا۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی آج اِسی طرح سیاست اور میڈیا کے سحر میں مبتلا ہو چکی ہے جس طرح مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا تھا اور چیف جسٹس مشتاق حسین مسٹر بھٹو کی تضحیک کر رہے تھے اور اس وقت وکلاء برادری جنرل ضیاء اور جسٹس مشتاق حسین کے ہر ریمارکس پر پھولوں کی بارش کر رہی تھی۔
 

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند