تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چین نے لداخ میں 19 کلو میٹر اندر گھس کر بھارت کے ہوش اڑا دیئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 25 جمادی الثانی 1434هـ - 6 مئی 2013م KSA 08:00 - GMT 05:00
چین نے لداخ میں 19 کلو میٹر اندر گھس کر بھارت کے ہوش اڑا دیئے

گزشتہ چند دنوں سے بھارتی میڈیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھارتی حکومت کا جینا محال کر رکھا تھا، وہ تو بھلا ہو کہ درمیان میں ایک بھارتی جاسوس کی کال کوٹھڑی میں ہلاکت کی سٹوری نکل آئی یا بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے تخلیق کی، اصل حقائق تو تحقیق کے بعد ہی سامنے آئیں گے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ چین کی سپرپاور نے بھارت کے علاقے لداخ میں 19 کلو میٹر اندر آکر اپنے کیمپ لگا کر ثابت کر دیا کہ اب اقوامِ عالم اقوام متحدہ وغیرہ سے مایوس ہو چکی ہیں۔ اگر اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کراتا تو صرف کشمیر کے تنازعہ کی وجہ سے اتنی جانوں کا نذرانہ پیش نہ کرنا پڑتا۔ انڈیا کشمیر کو بھی اسی طرح اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جیسے لداخ کی دیپ سنگ ویلی کو اپنا علاقہ کہتا ہے لیکن چین کی سریح الحرکت پیپلز لبریشن آرمی نے پیش رفت کرتے ہوئے صرف چند گھنٹوں میں 19 کلو میٹر کا اپنا علاقہ واگزار کرا لیا۔ انڈین حکومت اس وقت عجیب وغریب کیفیت میں مبتلا ہے۔ ایک طرف چین نے پندرہ میل اندر گھس کر اپنا کیمپ بظاہر انڈین سرزمین پر قائم کر لیا ہے تو دوسری طرف چین کے وزیراعظم بہت جلد انڈیا کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انڈیا نے نہ صرف دورے کو ملتوی کرنے کی کوئی بات نہیں کی ہے بلکہ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے بیجنگ کا دورہ شیڈول کے مطابق کریں گے۔ اور چینی وزیراعظم کے دورہ بھارت کو آخری شکل دیں گے۔
انڈیا کے سابق وزیر خارجہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر یشونت سنہا نے منموہن سنگھ کی حکومت کو کمزور قرار دیا ہے۔ سابق وزیر دفاع ملائم سنگھ یادوں نے تو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے منموہن گورنمنٹ کو بزدل اور نااہل قرار دے دیا ہے لیکن جواب میں ڈیفنس انتھونی نے کہا ہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے متحد ہیں۔ جواب میں شیوسینا نے 5 مئی احتجاج کرتے ہوئے منموہن سنگھ سمیت کانگریس پارٹی کے لیڈروں کے پتلے جلاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت چین کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔

لیکن بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کی کمزوریوں سے تو فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور نااہل حکمرانوں کی وجہ سے پاکستانی حکومت پر دباو¿ ڈالا جا سکتا ہے لیکن چین کے خلاف وہ کسی قسم کی جوابی کارروائی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے نہیں کہ اسے 1962ءکی ہزیمیت یاد ہے بلکہ اسے حقائق کا علم ہے کہ ارونچل پردیش میں چین نے نوے ہزار کلو میٹر پر اپنے علاقے کا دعویٰ کیا ہے اس میں سے صرف اڑتیس ہزار کلو میٹر چین کے پاس ہے۔ ویسٹرن ہمالیہ میں اگر چین حرکت میں آ گیا تو بھارت کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ اس نازک موقع پر امریکہ کے دفتر خارجہ نے بھی کوئی ایسا بیان جاری نہیں کیا جس سے کم از کم منموہن سنگھ حکومت کا حوصلہ بلند ہو جاتا۔ اب چین کے وزیراعظم بھارت آ رہے ہیں اس وقت چین بھارت کو 75 ارب ڈالر کی مصنوعات فروخت کر رہا جو دورے کے دوران ایک معاہدے کے نتیجے میں ایک سو ارب ڈالر کرنے کا اعلان متوقع ہے ویسے چین نے پاکستان کو بہت اچھا پیغام دے دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند