تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شریفوں کا کھیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 28 جمادی الثانی 1434هـ - 9 مئی 2013م KSA 14:03 - GMT 11:03
شریفوں کا کھیل

کرکٹ کو کسی دور میں شریفوں کا کھیل (Gentlmen Game)کہا جاتا تھا کیونکہ اس کے اصول اور قواعد وضوابط سب تہذیب کے تابع تھے۔ امپائر کی انگلی کے اشارے کو اٹل فیصلہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ نہ صرف کھلاڑی امن اور تہذیب کی علامت سفید لباس زیب تن کرتے تھے بلکہ تماشائی بھی باقاعدہ ڈریس اپ ہو کر میچ دیکھنے جاتے تھے۔ دیگر عوامی کھیلوں یعنی فٹبال اور والی بال وغیرہ کی طرح کرکٹ کے کھلاڑی لڑائی جھگڑے اور تلخ کلامی سے مکمل اجتناب کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ کمرشلزم کھیل کے مزاج، لباس اور اطوار پر اثر انداز ہونا شروع ہوا۔ ون ڈے اور ڈے نائٹ میچوں کے اضافے سے نہ صرف گیند کا رنگ بلکہ کھلاڑیوں کے لباس کا رنگ بھی تبدیل ہو گیا اور انچ انچ پر مختلف کمپنیوں کے اشتہارات سجنے لگے۔ کھیل کا مزاج جارحانہ بنانے کے لئے مختلف جنگی ٹرمز کا استعمال ہونے لگا جیسے Bowlingکے لئے اٹیک وغیرہ وغیرہ ۔ وہ بلّا جو رنز کے لئے استعمال ہوتا تھا مخالف ٹیم کے باؤلر کی بدزبانی کے لئے ہوا میں لہرایا جانے لگا جو کہ بدتہذیبی کی علامت ہے۔ آج تحریک انصاف نے بھی وہ بلّا ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

ٹی وی پر ایک اشتہار چل رہا ہے جس میں نوجوان قانون کے بجائے بلّے کو طاقت کا سرچشمہ قرار دے رہے ہیں یعنی مستقبل میں ہر بلّے والا جج کا کردار ادا کرے گا اور دنیا میں اچھائی برائی کو اپنی ذاتی پسند سے دیکھ کر سزا یا جزا طے کرے گا۔ اس حوالے سے رائج تمام قوانین اور کئی محکمے ساقط ہو جائیں گے یعنی بلّے کی مدد سے اصلاح ِمعاشرہ کا ہر عمل سرانجام دیا جائے گا حتیٰ کہ ٹریفک پولیس اور اشاروں کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ بلّے والے جب اور جہاں چاہیں گے ٹریفک رک جائے گا۔ اس اشتہار کے ذریعے بلّے کا پہلا شکار فیض احمد فیض کی مشہور زمانہ نظم ”ہم دیکھیں گے“ ہوئی ہے۔ حیرت ہے اس نظم کا پس منظر بالکل مختلف ہے۔ وہاںآ مریت اور سرمایہ دارانہ نظام کو للکارا گیا ہے جبکہ اس وقت تخت پر بیٹھا ہوا صدر زرداری ایک منتخب نمائندہ ہے، کوئی آمر یا غاصب نہیں اور سوشلزم بھی اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ اس سے تو یوں ظاہر ہوتا ہے جیسے اگر الیکشن کے نتائج مختلف نکلے تو بلّے کی مدد سے تاج و تخت اچھالے جائیں گے۔ نعرہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ عدالتوں کو خودمختاری دیں گے اور ان کے فیصلوں پرعملدرآمد کرائیں گے۔ اس وقت جب ملک میں طویل عرصے بعد عدالتوں کا نظام اور انصاف صحیح معنوں میں معاشرے کو قانون کی چھتری تلے لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں ایک بار پھر پُرتشدد اور غیرقانونی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

سن 1970ء میں بھٹو صاحب نے اسی طرح نوجوانوں کے جوش و جذبے کو بے لگام کر دیا تھا تو اس کے بہت خوفناک نتائج سامنے آئے مثلاً الیکشن میں پی پی کی کامیابی کے بعد کرایہ داروں نے کواٹروں پر قبضہ کر لیا، دکان پر بیٹھے ملازم نے دکاندار کا گریبان پکڑ لیا، مزدوروں نے کارخانوں پر دھاوا بول کر صنعتی امن تباہ کر دیا۔ آئے روز سرکاری مشینری کی مدد اور مزدورں سے چندے لے کر ہڑتالیں اور جلوس نکالے جاتے تھے۔صنعت میں ڈسپلن کا ماحول خراب ہونے سے پیداواری سیکٹر میں سرمایہ کاری کم ہوتی گئی۔ جس کا نقصان مزدوروں کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت اور معاشرے کو بھگتنا پڑا۔

ماضی قریب میں کچھ وکلاء اور ینگ ڈاکٹروں نے جس طرح اپنے سینئرز پر تشدد کر کے اپنی تعلیم اور تربیت کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کے وقارکو مجروح کیا وہ بھی اسی طرح کا روّیہ تھا یعنی قانون کو جھٹلا کر من مرضی کے فیصلے کرنا ۔ سیاسی لیڈروں کو جیت کے لئے معاشرے میں بدامنی، تشدد اور لاقانونیت کے بیج نہیں بونے چاہئیں کیونکہ پہلے ہی ہم معاشرے کا امن جذباتیت اور خود ساختہ اصولوں کی بھینٹ چڑھا کر رسوا ہو چکے ہیں آج جو بیج بوئے جارہے ہیں وہ کل ہماری اگلی نسلوں کا مقدر بنیں گے۔ ایک جلسے میں خان صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کے میں بلّے سے شیر کا سر دھڑ سے جُدا کردوں گا اور یہ کہ ”میں بڑے شیر کا شکار کروں گا آپ چھوٹے شیروں کا شکار کر کے میرے پاس لائیں“۔ شیر تو صرف علامت ہے مقصد تو مخالف سیاسی جماعت کا رہنما اور دیگر ارکان ہیں۔

جیت اور ہار کو مار دھاڑ سے مشروط کرنے والے بیانات معاشرے کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی بات یا بیان نہیں، ایک مکتبہ فکر کی بنیاد ہے۔ پہلے ہی تین صوبے اس آگ کی لپیٹ میں ہیں اور یہ آگ یکدم نہیں بھڑکتی رفتہ رفتہ ایندھن جمع ہوتا ہے اور حالات کا رُخ تبدیل ہوتا ہے۔ معاشرے میں امن کے قیام کے لئے ہر سطح پر تعلیم کے ساتھ تربیت کو جوڑنا ہے کیونکہ تشدد کا عنصر ہماری فطرت میں سرائیت کر چکا ہے اور کسی نہ کسی صورت اظہار کرتا رہتا ہے اسے طاقت بننے سے روکنا ہے۔ اس سارے عمل میں سیاسی لیڈر کا کردار سب سے اہم ہے۔ خان صاحب سے بطور کھلاڑی قوم نے جس محبت اور احترام کا مظاہرہ کیا تھا اب انہیں اسی قوم کے بچوں کا بھی سوچنا چاہئے۔ خواب دیکھنے اور دکھانے پر پابندی نہیں مگر حقیقت اور تہذیب کا دائرہ موجود رہے تو بہتری ورنہ ...... دیگر سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنے انتخابی نشان چننے اور انہیں ہتھیار بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔

پاکستان ایک ریاست ہے اور ہم اس کے آزاد شہری، خدارا اسے سلطنت اور ہمیں غلام سمجھ کر ہتھیاروں سے فتح کرنے کی کوشش نہ کریں۔ مسلم لیگ ق کی سائیکل، ایم کیو ایم کی پتنگ، جماعت اسلامی کے ترازو اور اے این پی کی لالٹین کی طرح پی پی پی اور مسلم لیگ ن بھی اپنے لئے کوئی پھول یا رنگ کا نشان اپنا لیں تو کیا اچھا ہو۔ تیر اور شیر اگرچہ انسانی معاشرے میں مثبت مفہوم کے حامل نہیں مگر ان دونوں جماعتوں نے انہیں کبھی منفی حوالوں میں استعمال کیا اور نہ ہی دشمنوں کو شکار بنانے کی کوشش کی جبکہ بلّا ایک مثبت علامت ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بلّے کے حوالے سے اِس طرح کے بیانات سامنے آتے کہ اِس بلّے سے ترقی کے چھکے لگیں گے اور خوشحالی کی ڈبل سینچریز بنیں گی مگر بدقسمتی سے ابھی تک جو کچھ سامنے آیا ہے اُس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ”جس کا بلّا اس کی بھینس“۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند