تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نگران وزیراعظم کی اقرباء نوازی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 2 رجب 1434هـ - 12 مئی 2013م KSA 15:44 - GMT 12:44
نگران وزیراعظم کی اقرباء نوازی

منتخب نمائندوں نے 16مارچ 2013ء میں جب کہ اسمبلیاں تحلیل ہو رہی تھیں ایسی ایسی حرکتیں کیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف کے اجمیر شریف جانے کے لئے بیگم صاحبہ نے ضد کی، شکر کریں کہ بیگم صاحبہ نے بیت المقدس جانے کی خواہش نہیں کی۔ آخری دنوں کی لوٹ سیل رکی نہیں، ترقیاتی فنڈز، پلاٹوں کی تقسیم، ٹھیکے، تبادلے، تعیناتی، ویزے سب کچھ اسی سیل کا حصہ تھا۔ ایران سے تیل کے جہاز کراچی میں تقریباً چار مرتبہ ہزاروں گیلن تیل لا چکے تھے۔ اس کا ریکارڈ نہ سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ہے اور نہ ہی وزارت آئل اینڈ گیس کے پاس۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ جمہوری نمائندگان میں ایک اہم شخصیت ملوث تھا۔ جس کے بارے میں ہماری عدالیتیں، سیاسی رہنما بشمول نواز شریف اور آرمی برملا کہتے رہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ ایسی کرپٹ جمہوریت کو تو 22 نومبر 2011ء کو جب میموگیٹ سکینڈل سامنے آیا تھا اسی رات ایوان جمہوریت سے دھکیل دینا چاہیے تھا۔

الیکشن صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ طریق کار کے مطابق کروانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے۔ ریٹرننگ آفیسران، الیکشن ٹربیونلز بعد ازاں ہائی کورٹس نے وہ کام دکھایا ہے کہ کسی کرپٹ فرد کو کسی وجہ سے بھی الیکشن سے باہر نہیں ہونے دیا۔ نگران حکومتیں صدر زرداری کی خواہش اور منشاء کے تحت تشکیل دی گئیں۔ افواجِ پاکستان ملک میں اچھے لوگوں کو منتخب ہونا دیکھنا چاہتی ہے۔ قوم 11مئی کو اپنے ووٹ کا بے خوف و خطر استعمال کریں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی منصوبہ بندی یہ ہے کہ ملک میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی جائے اور ووٹر ٹرن آؤٹ 18فروری2008ء کے مطابق 45فیصد کے لگ بھگ رہا تو پھر عمران خان منہ دھوتے رہ جائیں گے۔ اس لئے قوم کسی بھی بہانے بازی میں نہ آئے، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی جو کہہ رہی ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور ملکی اور غیر ملکی Establishment یہ سازش کر رہی ہے۔ وہ قوم کو گمراہ کر رہی ہیں۔ دراصل پانچ سالہ کارکردگی سے یہ پارٹیاں عوام میں تعمیری کردار پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور اسی بہانے طالبان کا سہارا لینا شروع کر رکھا ہے۔ نواز شریف چند سال پہلے ہندوستان کی تقسیم کو رشتوں میں رخنہ قرار دے چکے ہیں اور افواجِ پاکستان کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے اپنے منشور کا حصہ بنایا ہے۔

چند برس پہلے وال سٹریٹ جنرل میں رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ پاکستان کے چار بڑے سیاستدانوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں اتنی رقوم موجود ہیں کہ اگر وہ پاکستان لے آئیں تو پاکستان کے تمام غیر ملکی قرضے اتر سکتے ہیں۔ خون، بارود، آنسوؤں اور آہوں میں ڈوبے انتخابات اس بار ایسا طوفان لائے ہیں جس میں پاکستان کی دیواریں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں اب کوئی وفاق کی پارٹی نہیں رہی۔ ہم علاقائی پارٹیوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا کہ نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کے صاحبزادے شفقت حسین کھوسو کو میرٹ سے بالا تر ہو کر نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں تعیناتی اور ترقی قائداعظم کے اس فرمان کے منافی ہے کہ اقرباء پروری کی برائی کو ختم کرنا ہو گا۔ چنانچہ نگران وزیراعظم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو حکم دیں کہ شفقت حسین کی گریڈ 17میں تنزلی کی جائے، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم کے نام ایک خط میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل 19اپریل 2013ء کے ایک خط میں درخواست دی گئی تھی کہ شفقت کھوسو محکمہ پی۔اینڈ۔آر سے گزشتہ چار سال سے غیر حاضر ہیں اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی ہونی چاہیے تھی ۔

وزیراعظم نے اپنے بیٹے کا غیر قانونی اقدام تو واپس نہیں لیا البتہ انہیں 3 مرتبہ ترقی دلا چکے ہیں۔ خط میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے صوبائی ملازمین کی وفاقی حکومت میں ڈپیوٹیشن پر تعیناتی نہ کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اس کے برعکس وزیراعظم کے صاحبزادے کی پے در پے ترقی عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اِسی طرح ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کے ایک قریبی عزیز مدثر ظفر جو محکمہ آبپاشی بلوچستان میں گریڈ 17میں ایس۔ڈی۔او تھے کو اقرباء پروری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گریڈ18میں ایکسیئن لگا دیا گیا ہے۔

ٹرانسپیرنسی نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بیٹے اور قریبی رشتہ دار کی تنزل کا حکم دیں اور اس غیر قانونی اقدام میں ملوث سرکاری آفیسروں کے خلاف کارروائی بھی کریں۔ عوامی حلقوں نے نگران حکومت کو بھی خود غرض حکومت قرار دیا ہے کہ اس نے آتے ہی سب سے پہلا کام اپنے بیٹے کی نوکری میں ترقی کا کام کیا اور رشتہ داروں کو نوازا اور ساتھ ہی دوست احباب کے مفاد کے لئے ہسپتالوں کو ٹھیکے پر دینے کا کام شروع کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنے معاملات میں ذاتی مفاد اٹھانے والی حکومت کیسے شفاف اور منصفانہ الیکشن کروائے گی۔ ایسی بدنیتی کی مثال کی بنیاد رکھ دی گئی ہے کہ حکومت میں میر ہزار خان کھوسو نے اپنے گھر والوں کو فائدہ دیا اور اقرباء کو نوازنے لگے۔ وزیراعظم اپنی تمام تر توجہ ملک میں امن و امان اور غیر جانبدارانہ الیکشن پر مرکوز رکھیں اپنے ذاتی مفاد پر عوام کی خواہشات کا خون نہ کریں۔ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی نگران وزارتِ عظمیٰ کے بعد از خود نوٹس لے لیا تو ان کے بیٹے اور رشتہ داروں کی تنزلی ہو جائے گی۔

نگران وزیراعظم اقرباء پروری کے حوالے سے سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ اگر یہاں انہوں نے میرٹ کا راستہ اختیار نہیں کیا تو پھر ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ہی مشکوک تصور کیا جائے گا۔ بیسیویں ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان نگران حکومتوں پر مکمل طور پر گرفت رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔
 

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند