تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میڈیا کا انتخابی نتائج کو متنازع بنانے میں کردار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 27 جمادی الاول 1441هـ - 23 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 13 رجب 1434هـ - 23 مئی 2013م KSA 11:41 - GMT 08:41
میڈیا کا انتخابی نتائج کو متنازع بنانے میں کردار

پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر جن سنگین مسائل کا سامنا ہے اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے قومی ہم آہنگی بالخصوص سیاسی اور عسکری قیادت میں مضبوط رابطہ، معاملات پر تبادلہ خیال اور افہام و تفہیم ضروری ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بڑے تدبر کے ساتھ صدر زرداری کے کرپٹ جمہوری نظام کو برداشت کیا۔26مئی کو انہوں نے میاں نوازشریف سے ملاقات کی اور اہم امور پر انہیں بریفینگ اور مشورے دئیے۔ غالب امکان یہی ہے کہ انہوں نے برصغیر کے خطے میں پائیدار امن کے لئے پاک بھارت تعلقات میں بہتری کو ضروری قرار دیا مگر اس کے لئے نہایت احتیاط سے بتدریج آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے اہم زمینی حقائق سے میاں نواز شریف کو آگاہ کیا ہو گا اور اس مقصد کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت سے واضح کیا ہو گا۔میاں نواز شریف اپنے دوسرے دور میں وزیراعظم ہند مسٹر واجپائی کی عیارانہ مسکراہٹ کے سحر میں حد سے زیادہ ہی مبتلا ہو گئے تھے جب مسٹر واجپائی اور اِس سے پیشتر مسٹر گجرال کی شاطرانہ چالوں کے سامنے بھی میاں نواز شریف نے پاکستان کے آئیڈلوجی نقطۂ نظر سے پسپائی اختیار کی تھی ۔

گزشتہ تین برسوں سے میاں نواز شریف ساؤتھ ایشیا کے میڈیا پرسنز سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں جو انہیں انڈیا کے اس قدر قریب لیجا رہے ہیں جس سے پاکستان کی نظریاتی اساس کو گرہن لگنے کا خطرہ لاحق ہوتا نظر آرہا ہے۔جب 12اکتوبر1999ء کو قومی سانحہ ہوا اور وزیراعظم کو برطرف کر کے گرفتار کر لیا گیا تو پاکستان کی ممتاز مذہبی شخصیت میاں محمد شریف مرحوم کا وہ بیان ضرور پڑھیں جو 15اکتوبر1999ء کو اخبارات کی زینت بنا جس میں میاں نواز شریف کے عظیم والد محترم میاں شریف نے اپنے تاثرات میں فرمایا کہ ’’میرے بیٹوں کو یہ دن اس لئے دیکھنا پڑا کہ ان کے ارد گرد مشاہد حسین جیسے وزیروں اور مشیروں کا اجتماع رہتا تھا جو ان کو افواجِ پاکستان سے بدظن کرنے پر تلے ہوئے تھے‘‘۔

12اکتوبر1999ء کی آئین شکن واردات سے پیشتر 10اکتوبر1999ء کو اس وقت کے واپڈا کے چےئرمین لیفٹیننٹ جنرل راؤ ذوالفقار علی خان جو میرے قریبی عزیز بھی ہیں انہوں نے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو مشورہ دیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف ان دنوں سری لنکا کے دورے پر ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایسی کسی کارروائی سے اجتناب برتا جائے اور جنرل پرویز مشرف واپس آجائیں تو ان کو کھانے پر مدعو کر کے ان سے انتہائی ملائم طریقے سے مستعفی ہونے کا مشورہ دے کر ان سے استعفیٰ لے لیا جائے۔ وہ مستعفی ہونے میں ہی اپنی عافیت جانیں گے۔ اگر جنرل راؤ ذوالفقار علی کے مشورہ پر عمل کیا جاتا تو ملک آئینی بحران میں مبتلا نہ ہوتا۔ انتخابات 2013ء گزشتہ انتخابات سے مختلف تھے ۔ کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اس سوچ کی وجہ سے اس بار ٹرن آؤٹ 60فیصد تک بڑھ گیا۔

میڈیا نے اشتہارات کے بدلے کتنا وقت دیا سب کو معلوم ہے۔ میڈیا کا کام سوال اٹھانا ہے مگر جب بھاری رقوم لی گئیں تو سوالات کیسے اٹھاتے ۔ اس لئے ٹاک شوز میں نتیجہ نکالنے کے بجائے کنفیوژن پیدا کیا گیا۔ ایک چینل 5بجکر5منٹ پر نتیجہ دکھا کر نمبر ون آنے کی دوڑ میں اخلاقی اور قانونی حدود کو پھلانگ گیا۔ 6بجے تک پولنگ کا وقت تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب 6بجے تک پولنگ کا وقت تھا تو اس سے پہلے بیلٹ بکس کیسے کھل گئے اور اِسی نجی ٹیلی ویژن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 7فیصد ووٹوں کی گنتی پر ہی فیصلہ سنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 11منٹ بعد نواز شریف نے فاتحانہ تقریر کر دی۔ یہ میڈیا کا کردار نہیں تھا۔ میڈیا نے اربوں روپے کے اشتہارات چلائے مگر کسی ٹیلی ویژن چینل ، پرنٹ میڈیا اور بین الاقوامی مبصرین نے اعتراض نہیں کیا کہ اربوں روپے کیوں خرچ کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس قانون شکنی پر اپنے ہی جاری کردہ پریس کے بارے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کر لی۔ حالانکہ میں نے بطور سابق وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر کو خط بھیجا تھا کہ اربوں روپے کے وہ اشتہارات جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بعض سیاسی جماعتوں نے جاری کئے ہوئے ہیں ان کا موازنہ ان کے پیش کردہ اثاثوں سے کیا جائے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پولیٹکل پارٹیز آرڈر2002ء کے تحت ہر سال تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں سے ان کے گوشوارے آڈٹ جنرل آف پاکستان سے چیک کروانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کئے جاتے ہیں۔ لہٰذا الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کے گوشواروں کی روشنی میں جائزہ لے سکتا ہے اور مزید تحقیق کے لئے فیڈرل بیورو آف ریوینو کی معاونت بھی حاصل کر سکتا ہے۔

جس ٹیلی ویژن چینل نے پہلے ہی نتائج نشر کرنے شروع کر دئیے اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ امریکہ میں اس وقت تک کسی حلقے کے نتیجے کا اعلان نہیں ہوتا جب تک تمام حلقوں کے نتیجے کا اعلان نہیں ہوتا جب تک تمام حلقوں میں پولنگ مکمل نہ ہو اور پھر اس میڈیا کے ضابطہ اخلاق کی رو سے بھارت میں بھی پروگریسو نتائج کی ممانعت ہے اور اگر کوئی چینل اس کی خلاف ورزی کرے تو اس چینل کا لائسنس کینسل کرانے کا بھی بھارتی الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے۔ میں نے 3نومبر2008ء کو امریکی صدر اوباما کے انتخابی نتائج خود واشنگٹن میں دیکھے ہیں جس کا اہتمام سی۔این۔این نے الیکشن میڈیا ہاؤس کی صورت میں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی طرز پر نتائج کا اعلان نہیں کیا۔ میڈیا کے بارے میں لوگوں کو بہت سی امیدیں تھیں۔ انتخابات کو شفاف رکھنے میں میڈیا اپنا کردار ادا نہیں کر سکا۔ جس نے دھاندلی کرنی تھی اس نے کی اور اسی طرح ریٹرننگ افسران نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا۔

دیہی علاقوں میں میڈیا کوریج اتنی نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر اشرافیہ کے حلقے میں کچھ ہو جائے تو اسے زیادہ پذیرائی ملتی ہے۔ جس چینل نے سب سے پہلے نتیجے کا اعلان کیا تھا اسی نے کہا کہ نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم کو تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے کہہ دیا کہ وزیراعظم بھارت پاکستان نہیں جائیں گے۔ جس سے پاکستان کی تذلیل ہوئی۔ اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کو اس چینل کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے۔ نواز شریف کی وکٹری تقریر ایک مخصوص حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔ ان کی تقریر کے فوراً بعد طاقتور حلقوں اور عدلیہ کے افسران سول Establishmentنے سوچا کہ اب چونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے جارہی ہے تو ہم بھی ان کی نظروں میں اچھے بن جائیں۔ انہوں نے بھی اپنا کام دکھایا۔ 7فیصد ووٹوں کی گنتی پر فاتحانہ انداز میں اعلان کرنا جانبداری تھا اور اس اقدام پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے اور 5ارب روپے کے اشتہارات کے ذرائع معلوم کرنا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات کے دائرۂ کار میں آتاہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند