بائیس مئی کو جنوبی و شمالی یمن جو علیحدہ علیحدہ ریاستیں تھیں کے انضمام سے جمہوریہ یمن وجود میں آیا۔ اس کے بعد یمن کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ یمن کی منڈیاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے کھولی گئیں اور تیل، گیس، پورٹ اینڈ شپنگ، بینکنگ، ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری نے یمن کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی سندھ میں یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے میں نے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی جمہوریہ یمن کی 23 ویں سالگرہ کی تقریب منعقد کی جس میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو، وزراء، اعلیٰ حکومتی شخصیات، غیر ملکی سفارت کاروں، بزنس مینوں، یمنی طلبہ، بوہری جماعت کے عہدیداروں اور شہر کے معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب میں شرکت کیلئے پاکستان میں یمن کے سفیر عبدو علی عبدالرحمن اور یمنی سفارتخانے کے سفارتی منسٹر قونصلر و کلچرل اتاشی جمال سعید شمسان خصوصی طور پر اسلام آباد سے کراچی آئے تھے۔ یمن کے قومی دن کے موقع پر خصوصی ایڈیشن شائع کئے گئے جس میں یمن کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ابوبکر عبداللہ القربی اور پاکستان میں یمن کے سفیر عبدو علی عبدالرحمن نے یمن اور پاکستان کے قریبی تعلقات اور پاکستان میں حالیہ کامیاب انتخابات کو سراہا۔ سندھ بلوچستان میں یمن کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے میری تعیناتی کے بعد پاکستان اور یمن کی تجارت میں دگنا اضافہ ہوا ہے جسے یمن کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ابوبکر عبداللہ القربی نے میرے نام اپنے ایک خصوصی پیغام میں بھی سراہا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں قارئین سے شیئر کروں۔ یمن کے قومی دن کی 23 ویں سالگرہ پر میرا آج کا کالم بھی پاکستان اور یمن کے تعلقات پر ہے۔

یمن جس کی سرحدیں شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ مردار Dead Sea)، جنوب میں بحیرہ عدن اور بحیرہ عرب اور مشرق میں عمان سے ملتی ہیں کی آبادی 20 ملین ہے۔ یمن ایک جمہوری ریاست ہے جسے 301/ارکان پر مشتمل اسمبلی اور 111/ارکان کی شوریٰ کونسل صدر کے ساتھ مل کر چلاتی ہے۔ یمنی آئین کے تحت عدالتی نظام اسلامی قوانین کا پابند ہے۔ یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح کے مستعفی ہونے کے بعد 1994ء سے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے عبدو رباح منصور الہادی جنہیں حکمراں اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل تھی 21 فروری 2012ء کو صدارتی انتخابات میں یمن کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ اسی طرح 2001ء سے یمن کے وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہنے والے ابوبکر عبداللہ القربی بھی حالیہ انتخابات میں دوبارہ وزیر خارجہ مقرر کئے گئے ہیں۔ یمن کا دارالحکومت صنعا ایک تاریخی شہر ہے۔ اس شہر میں چند سال پہلے ایک عظیم الشان مسجد ”جامع الصالح“ تعمیر کی گئی ہے جس میں بیک وقت ایک لاکھ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یمن کا دوسرا بڑا شہر عدن خطے میں سب سے بڑے جدید کنٹینر ٹرمینل پورٹ کی حیثیت سے مشہور ہے۔

سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی قیادت میں جب پاکستانی وفد نے یمن کا دورہ کیا تھا تو ہمیں خصوصی طیارے سے عدن لے جا کر اس جدید پورٹ کا دورہ کرایا گیا تھا۔ یمن کی معاشی ترقی کا زیادہ تر دارومدار تیل اور گیس کے ذخائر پر ہے اور تقریباً 90% ریونیو تیل ایکسپورٹ کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان اور یمن کے 4 سربراہان مملکت ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔ یمنی صدر کی دعوت پر پہلے سابق صدر پرویز مشرف نے یمن کا دورہ کیا جس کے بعد یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے جہاں ہم نے انہیں پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس اور ہیوی مکینکل کمپلیکس کا دورہ کرایا اور یمنی صدر نے الخالد ٹینک اور دیگر دفاعی ساز و سامان میں خصوصی دلچسپی لی۔ اس موقع پر میں نے پاکستان کے ممتاز بزنس مینوں کے ساتھ یمن کے صدر اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بزنس مینوں کی اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ایک اہم میٹنگ کرائی جس میں یمنی صدر نے یمن میں بیمار ٹیکسٹائل صنعتوں کی بحالی کیلئے پاکستانی بزنس مینوں کو دعوت دی جس کے بعد سابق وزیراعظم شوکت عزیز میرے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد یمن لے کر گئے جہاں میں نے فیڈریشن آف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی موجودگی میں یمن فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کے ساتھ پاک یمن جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کے معاہدے پر دستخط کئے جس کے کچھ ماہ بعد نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو نے یمن کا دورہ کیا۔

یاد رہے کہ محمد میاں سومرو اور نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا صنعا میں طویل عرصے تک بینک آف امریکہ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ اعلیٰ سطحی دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

گزشتہ دور حکومت میں پاکستان اور یمن کے 2 مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس اسلام آباد اور صنعا میں منعقد ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان یمن مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس صنعا میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت میرے علاوہ وفاقی وزیر میر ہزار خان بجارانی نے کی تھی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، ٹرانسپورٹ، بینکاری اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں پاکستان اور یمن میں آئل اور گیس کے شعبے کے فروغ کیلئے میری سربراہی میں ایک ٹیکنیکل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں وزارت آئل اور قدرتی وسائل کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ اسی سلسلے میں 2011ء میں، میں ایل پی جی کی سب سے بڑی پاکستانی کمپنی JJVL کے سربراہ اقبال زیڈ احمد اور ان کی ٹیکنیکل ٹیم کو یمن لے کر گیا تھا اور ان کی ملاقات یمن کے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر پیٹرولیم سے کرائی تھی۔ یمن میں کمپنیوں کو صرف تیل نکالنے کی اجازت ہے جس کے باعث کمپنیاں تیل کے ساتھ حاصل ہونے والی گیس یا تو زمین میں دوبارہ داخل کردیتی ہیں یا انہیں ہوا میں جلادیا جاتا ہے۔ پاکستانی کمپنی نے ضائع ہونے والی اس گیس سے ایل پی جی اور ایل این جی نکالنے کا پروجیکٹ تجویز کیا ہے جس طرح وہ پاکستان میں سوئی سدرن گیس سے ایل پی جی گیس حاصل کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ PPL اور OGDCL نے بھی یمن میں تیل کی دریافت کیلئے بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر بلاکس حاصل کئے ہیں۔

سن 2012ء میں پاکستان اور یمن کی باہمی تجارت سالانہ تقریباً 180 ملین ڈالر تھی۔ پاکستان یمن کو چاول، فٹ ویئر، ٹیکسٹائل مصنوعات، انجینئرنگ کا سامان، زرعی مشینیں اور بجلی کے پنکھے ایکسپورٹ کر رہا ہے جبکہ یمن پاکستان کو چمڑے کی مصنوعات، اسٹیل اسکریپ، زیورات، شہد اور کافی ایکسپورٹ کررہا ہے۔ یمن میں یوبی ایل بینک کی کئی برانچیں قائم ہیں جو یمن اور پاکستان کی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یمن میں کات کی کاشت بہت مقبول ہے۔ کات ایک خاص قسم کا پتہ ہوتا ہے جسے یمنی چوستے ہیں۔ یمنیوں کے بقول ان پتوں کے چوسنے سے کام کرنے کی صلاحیت تیز ہوجاتی ہے۔ حال ہی میں یمن کی حکومت نے پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے کات کی کاشت پر پابندی عائد کردی ہے تاکہ اس پانی کو دوسری اہم فصلوں کیلئے استعمال کیا جاسکے۔

یمن میں داؤدی بوہری برادری کی اہم زیارتیں ہیں اور ان کے روحانی پیشوا سیدنا طاہر برہان الدین کی 98 ویں سالگرہ جو یمن میں منائی گئی تھی میں پاکستان سے بوہری برادری سے تعلق رکھنے والے تقریباً 10 ہزارافراد نے شرکت کی تھی۔ کراچی میں بوہری برادری کی جامعہ سیفیہ میں آج بھی یمنی اسکالر تعلیم دے رہے ہیں۔ پاکستان میں یمن کے تقریباً 260 سے زیادہ طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں 40 طلبہ حکومت پاکستان کی اسکالر شپ پروگرام کے تحت میڈیکل، انجینئرنگ اور بی فارمیسی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو اپنے وطن واپس جاکر پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اس سال یمن کے قومی دن کی تقریب میں کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی سمیت سندھ کی 5 بڑی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم یمنی طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میں نے ان یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بھی خصوصی طور پر یمن کے سفیر سے ملاقات کیلئے مدعو کیا تھا۔ میری کوشش ہے کہ یمن اور پاکستان کے مابین میڈیکل اور ٹورازم کو فروغ دیا جائے کیونکہ پاکستان اسلامی روایات کے ساتھ یمنی باشندوں کو یورپ اور مشرق وسطیٰ کے مقابلے میں سستی اور معیاری میڈیکل سہولتیں فراہم کرسکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے