تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت ۔ برما کی مسلمان مخالف سازشیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 25 رجب 1434هـ - 4 جون 2013م KSA 10:04 - GMT 07:04
بھارت ۔ برما کی مسلمان مخالف سازشیں

اس خبر نے سر سے پاﺅں تک ہلا کے رکھ دیا۔ ”میانمار میں 40لاکھ مسلمانوں کو شہید کرنے کا بھارتی منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ 300مساجد شہید ،1200 بستیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں،ایک لاکھ مسلمانوں کوانسانیت کو شرما دینے والے طریقوں سے قتل کر دیا گیا “۔روح تک میں کپکپی طاری کردینے والی خبر کے ساتھ ہی مسلمانوں پر بُودھوں کے بہیمانہ مظالم کی دو درجن کے قریب تصاویر بھی موجودہیں۔انکے نیچے دئیے گئے کیپشن پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیںاور بدن میں ایک سنسنی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔” خواتین کے پیٹ چاک کرکے نکالے گئے بچوں کو جلایا جا رہا ہے ۔۔۔ فٹ پاتھ پر زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی لڑکی۔۔۔ کمسن بچوں کو پھانسی کے پھندے۔۔۔ کمسن بچہ قتل ہونے والی والدہ کے سرہانے رو رہا ہے۔۔۔ زندہ جلانے سے قبل ہاتھ پاﺅں باندھے جا رہے ہیں۔۔۔

فوجی اہلکار مسلمانوں کو قتل کرکے لاشیں سمندر میں پھینکنے کیلئے ٹرک میں ڈال رہے ہیں ۔“
انٹر نیٹ پر یہ تصاویر اپنی روداد زیادہ وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں کم از کم ایک سو لاشوں کو جلانے کیلئے سلاخوں کے اوپر رکھا ہوا ہے ۔زخموں سے چور خون آلود برہنہ انسان اوندھے منہ پھینکے ہوئے ہیں۔ دو قطاروں کے درمیان پانچ فٹ کا فاصلہ ہے ۔ درمیان اور اطراف میں سو کے قریب انتہا پسند بودھ میرون کلر کے روایتی لباس میںمنہ اور ناک پر ماسک چڑھائے نعشوں کو جلانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بُودھ مت میں شائد لاشوں کو جلایا جاتا ہے لیکن اس طریقے سے نہیں جو جہاں اختیار کیا گیا ہے ۔یہ جلانے والوں کی طرف سے مسلمانوں سے شدید نفرت اور تضحیک کا اظہار ہے۔

اب جو شواہد سامنے آئے ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ برما(میانمار) میں مسلمانوں کے قتل عام کے پیچھے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینے کیلئے بھارت کی سازش کار فرماہے۔ ” بھارت میانمار میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اس مقصد کیلئے جون 2012ءمیں وزیراعظم منموہن سنگھ نے میانمار کا دورہ کیا ۔انکے ساتھ تاجروں کا ایک وفد بھی گیا۔ میانمار کے صوبہ ارکان کی آبادی 40 لاکھ ہے۔ یہ علاقہ بر لبِ سمندر ہے۔کہا جاتا ہے کہ عالمی تجارت کیلئے جو اہمیت گوادر پورٹ کی پاکستان کیلئے ہے وہی بھارت کیلئے صوبہ ارکان کی ہوسکتی ہے۔

منموہن کے دورے کے ایک ہفتے بعد فسادات میں 20 ہزار مسلمانوں کو 10 بُودھ پیشواﺅں کے قتل کا الزام لگا کر تہہ تیغ کردیا گیا۔یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔کئی خواتین عزت کی خاطر دریا میں ڈوب کر اپنی جان گنوا چکی ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایما پر انتہا پسند ہندو¶ں‘ انتہا پسند مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے گھنا¶ نے منصوبہ پر تیزی سے عمل پیرا‘ بھارتی خفیہ ایجنسیاں‘ بودھ مت کے پیرو کاروں کو ہتھیار فراہم کر رہی ہیں ۔دو برس کے دوران ایک لاکھ مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔منصوبے کے مطابق یہ پروگرام 40 لاکھ کلمہ گو مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے تک جاری رہے گا۔صوبہ ارکان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک دریا حائل ہے ۔یہ برمی مسلمان ا پنے ایمان اور جان کی حفاظت کیلئے دریا عبور کرکے بنگلہ دیش میں اس زعم میں داخل ہوئے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لیکن بنگلہ دیشی حکمران تو اقتدار کے بدلے اپنی وفاداری 1971ءمیں بھارت کے چرنوں میں رکھ چکے ہیں۔ مجیب کی بیٹی نے بنگلہ دیش میں داخل ہونیوالے نہتے ، بے بس وبے کس مسلمانوں پر گولہ اور بارود برسانے کا حکم دیا اور وہ اس محاورے
Between deep sea and devil کی حقیقی تصویر بن گئے۔ ان میں سے کچھ فائرنگ سے مارے گئے کچھ ڈوب گئے اور باقی ساحل پر اترتے ہوئے بے رحم اسلحہ بردار بُودھوں کے ہتھے چڑھ گئے۔

پہلی جنگِ عظیم پولینڈ کے ایک نوجوان کے قتل پر شروع ہوئی جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس میں تین کروڑ انسان ہلاک ہوئے۔اہل اسلام کا خون کتنا سستا ہے کہ فلسطین ، کشمیر ، افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمان خاک اور خون میں مل گئے۔اس پر اسلامی دنیا میں کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ برمی ریاست کو پاکستان اور ملت اسلامیہ کے ایک بڑے دشمن کی براہِ راست پشت پناہی حاصل ہے اس لئے بعید نہیں کہ برما اور بھارت مل کے چالیس لاکھ مسلمانوں کی کٹی اور جلی لاشوں پر بندر گاہ تعمیر کر لیں۔

چالیس لاکھ مسلمانوں کیلئے موت کا پیغام عالمی برادری کیلئے شرم اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور او آئی سی کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔

ارکان کے مسلمانوں کیلئے ایسی سیاہ رات طاری ہوئی کہ جس کی سحر نظر نہیں آتی ۔یہ اماوس کی رات سے بھی زیادہ تاریک منحوس اور سیاہ بختی پر محیط ہے۔ اماوس کی رات کو گھپ اندھیروں میںستاروں کی چمک تو باقی رہتی ہے،ان مسلمانوںکیلئے امید کی کرن موجود ہے نہ زندگی رمق۔ 1948ءمیںارکان کے مسلمانوں نے خوراک کی قلت کے موقع پر پاکستانیوں کیلئے پانچ ہزار ٹن چاول کا تحفہ بھجوایا تھا۔آج پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اور میانمار کے مسلمان موت کے بگولوں کی لپیٹ میں ہیں۔گزشتہ حکمرانوں کو تو اپنے لوگوں کی بھی پروا نہیں تھی۔جو اب آئے ہیں وہ پاکستان کے ازلی دشمن کےلئے وارفتگی کی کیفیت سے سرشار ہیں۔میانمار میں بھارت جو کچھ کر رہاہے اس کو ہی مد نظر رکھتے ہوئے بھارت کےلئے اپنی جانثارانہ اور فدویانہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی فرمائیں۔ ارکان کے مسلمانوں کی جان کے تحفظ کیلئے او آئی سی کو متحرک کریں اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر آواز اُٹھائیں۔ اہل اسلام کیا برما میں آخری مسلمان کی لاش گرنے ،جلنے اور آخری بیٹی کی بے آبروئی کے منتظر ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند