تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
میں تتی دھی پنجاب دی رون تتی دے نین!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 27 رجب 1434هـ - 6 جون 2013م KSA 08:09 - GMT 05:09
میں تتی دھی پنجاب دی رون تتی دے نین!

سن 1947 تقسیم ِہند کے وقت جب عورتوں کی عصمت دری اور قتل وغارت پر ہر حساس انسان اندر باہر سے ٹوٹ کر رہ گیا، اس کرب سے بہت سی دوسری لازوال تخلیقات کے ساتھ ساتھ امرتا پریتم کی شہرہ آفاق نظم "پنجاب دی کہانی"۔۔ آج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول ۔۔ جیسی کلاسیک تخلیق ہوئی، جو ہر سمے کی دھارا کو پار کرنے کی شکتی رکھتی ہے۔ یا یوں نہ کہہ لوں کہ اس نظم میں"وقت" آج بھی 1947 کی طرح ہی رک گیا ہے۔ ٹھہرے ہوئے سمے میں یہ نظم اپنی تازگی برقرار رکھے بہتی جا رہی ہے۔ مگر عورتوں پر سمے ٹھہر گیا ہے ؟لدھیانہ پنجاب کی ایک فیملی جو 1970میں شمالی ہندوستان سے کینڈا کے مغربی علاقے برٹش کولمبیا میں آ کر آباد ہوئی۔ blueberries pickers کے طور پر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بلیو بیریز فارمز کے کروڑ پتی مالکان بن گئے۔ 4اگست 1975کوMaple ridgeبرٹش کولمبیا کے سرد علاقے میں پنجاب کے اس مہاجر خاندان کے ہاں جسوندر (جسی )کور سدھو نے جنم لیا ۔ 1995 میں وہ اپنی ماں کے ساتھ اس کے آبائی وطن لدھیانہ گئی ۔ وہاں برٹش کولمبیا کی jassi پنجاب کی ہیر اور صحراﺅں کی سّسی بن گئی اور اس کا دل لدھیانہ کے غریب مگر خوبرو رکشہ ڈرائیورسکویندر (مٹھو ) سنگھ سدھو پر آ گیا۔

کچھ سال یہ سلسلہ چلتا رہا ، چھپ کر شادی کی اورجسی نے کینڈا سے لڑکے کو سپونسر شپ کے پیپرز بھیج دئے۔ لڑکی کے ماں باپ کو شک ہوا۔ اسے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ 12 مئی 2000 کو اپنی دوست سے ٹکٹ کے پیسے لے کر انڈیا پرواز کر گئی، 8 جون 2000 کو دونوں محبت کے پنچھی سکوٹر پر جا رہے تھے کہ اچانک نامعلوم آدمیوں نے انہیں روک لیا۔ لڑکے کو مار پیٹ کر وہیں مرنے کیلئے پھینک دیا گیا، لڑکی کو اغوا کر لیا گیا ۔ بہت سے اجنبی ہاتھ اس نازک بدن معصوم لڑکی کو مارتے رہے اور فون پر برٹش کولمبیا سے اس لڑکی کی ماں اور ماموں سے ہدایت لیتے رہے۔ ماں نے کہا میری لڑکی سے بات کراﺅ اور اسے فون پر دھمکایا گیا کہ خاندان کی عزت کو دھبہ لگانے کی سزا موت ہے، ابھی بھی خاموشی سے لوٹ آﺅ لڑکی نے اپنی زندگی کیلئے خود سے کئے گئے فیصلے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور ماں نے کرائے کے قاتلوں کو فون پر آخری پیغام یہ دیا "جان سے مار دو اس کم بخت کو جسے خاندان کی عزت کا خیال نہیں "ایک جوان سال کرائے کے قاتل نے درندگی کی ہر حد کو عبور کرتے ہوئے لڑکی کا گلا کاٹ دیا ۔۔اور امرتا پریتم جو1947 میں اپنی زندگی میں پنجاب کی بیٹیوں کے کٹنے پر قبر سے وارث شاہ کو پکارتی رہی تھی، 8 جون 2000 کو اپنی قبر سے پھر سے چلا اٹھی :

کِسے نہ کھولی پتری کسے نہ کیتا کاج !
سرِ بازار ں رُلی وے اُچّے گھر دی لاج !
کِتھّے رانی ماں نی کِتھّے راجاباپ
میں ہری چند دی نار وے دِ تّا کنّے سراپ
کتھّے ماں دی جائی سانجھ وے کتھّے بھین دے ویر
لہو ماس دی سانجھ وے کس نے دتّی چیر

وہ کون سا لمحہ آتا ہے جب خاندانی عزت اپنی بچی کی جان سے ذیادہ عزیز ہوجاتی ہے ؟ اس کا تعلق نہ کسی خاص مذہب سے ہے نہ خاص ثقافت سے ۔ یہ انسان کے اندر چھپے وہ بھیانک رویے ہیں جو مذاہب اور ثقافت میں داخل ہو کر انکی شکلیںبھی خوفناک کر دیتے ہیں ۔The fifth estate CBC کی ٹیم نے جب لڑکی کے ماموں سرجیت سنگھ سے پوچھا کہ یہ قتل جو انڈیا میں ہوا اور اسکی سازش کینڈا میں آپ لوگوں نے تیار کی تو اس نے ظاہر ہے انکار کیا ، مگر ساتھ ہی کہا لڑکے کا سر نیم بھی سدھو تھا اور لڑکی کا بھی ،ایک جیسے سر نیم والوں کی شادی ممنوع ہے مگر ہم نے قتل نہیں کیا ۔ Bob Mckeownنے کہ آپکے فون سے مشکوک قاتلوں کو147 کالز گئی ہیں۔ماموں نے ڈھٹائی سے کہا مجھے کچھ علم نہیں۔ باب بولا اگر آپ نے قتل نہیںبھی کروایا پھر بھی ہزاروں میل دور اپنی بیٹی کی لاش کو ایسے کیسے چھوڑ دیا ۔۔سرجیت سنگھ نے جواب دیے بغیر گاڑی چلائی اور چلا گیا ۔۔ اور اس کا جواب میرے پاس بھی نہیں کہ عزت اور دولت کا وہ کیا نشہ ہے جو اولاد کی زندگی لے سکتا ہے اور اسکی لاش کو بھی اپنانے سے انکار کر سکتا ہے ؟

جسی کا خاوند مٹھو بچ گیا ۔ 2004میں اس پر عصمت دری کا جعلی کیس بنوا دیا گیا۔ وہ جیل میں سڑ رہا تھا ، کہ کینڈا میں ساﺅ تھ ایشین پوسٹ اخبار کے پبلشر ہربندر سیوک نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کی۔ وہ خود انڈیا گیا وہاں مٹھو پر بنے جعلی کیس سے اس کی جان چھڑوائی۔ مٹھو کو گاﺅں کا سر پنچ لگا دیا گیا۔ پھرانڈین پولیس نے سات کرائے کے جو قاتل پکڑے تھے انہیںاکتوبر2005 میںعدالت نے عمر قید کی سزا سنا ئی، مگر انڈیا میں اس ساری سکیم کا ماسٹر مائنڈ درشن سنگھ آج بھی آزاد ہے ،شک ہے کہ اسے وینکور کے گُردوارہ میں دیکھا گیا ۔ لڑکی کا ماموں سُر جیت گردوارے کی معتبر ہستی مانا جا تا تھا ۔ہربندر سیوک نے Justice for jassi کتاب لکھی ، جس کے شائع ہونے کے بعد اور تقریبا ً جسی کے قتل کے ۱۱ سال سات مہینے بعد 6جنوری 2012کو لڑکی کی ماں مالکیت کور سدھو اور ماموں سرجیت کو کینڈین پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ۔ انڈین پولیس نے ۱۱ سال سے کینڈین پولیس کو مجرم واپس کرنے (extradition)کی درخواست دے رکھی ہے ۔ کینڈا کی پولیس پہلے تو اتنے سالوں تک اس فیصلے تک نہ پہنچ سکی کہ کرنا کیا ہے حالا نکہ کینڈا کے قانون کے sec465کے تحت اگر قتل کہیں باہر کے ملک میں ہوا ہو مگر سازش کینڈا میں تو ملزم قابلِ گرفت ہے۔ اب آج جب لڑکی کی ماں اور ماموں دونوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ہیں تو کینڈا کا قانون یہی کہہ رہا ہے کہ تفتیش ہو رہی ہے۔ کیا حکومتِ کینڈا جو انسانی حقوق اور خاص کر خواتین کے حقوق کی حفاظت کی علمبردار حکومت ہے انڈین پولیس کے مجرم انکے حوالے کردیگی یا خود قتل برائے غیرت کیلئے کینڈا میں بیٹھ کر سازش رچانے والوں کیلئے کیا سزا تجویز کریگی؟

جسی کے سابقہ سکول پرنسپل نے کہا اسے ہر دوسرے کینڈین کی طرح اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق تھا ۔ اور میں یہ سوچ رہی ہوں جس بچی کی جائے پیدائش برٹش کولمبیا ہے اسکی جائے موت لدھیانہ پنجاب بنانے کا حق ہمیں کس نے دیا ؟ مذہب نے ؟ ثقافت نے ؟ جو بچی کینڈا کی آزاد فضا میں جنم لے رہی ہے اسے ہم نے لدھیانہ میں گلا کاٹ کر مار ڈالا ؟ آج کینڈا میں بیٹھ کر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے کینڈین خاتون کو انڈیا یا پاکستان میں قتل کروانے کی سزا نہ ملی تو آنے والے دن ہمیں تہذیب کی بجائے مذید تننزلی کی طرف لے کر جائینگے۔عورت دنیا کے کسی بھی ملک میں آزاد نہیں رہ سکے گی او راس طرح کے اثر و رسوخ والے عزت کے نام پر محبت کا خون کرنے والے قاتل قانون کے لوپ ہولز سے فائدہ اٹھا کر دنیا کے کسی بھی ملک میں آزاد دندناتے پھریں گے۔

43 سال سے پنجاب چھوڑ کر کینڈا میں مقیم ہونیوالا خاندان اپنے اندر سے نام نہاد غیرت، جھوٹی عزت اور دولت کی مصنوعی تفریق نہ مٹا سکا،پنجاب کی دھی کینڈا میں پیدا ہونے کے باوجود اپنی سانسوں کی مالک خود نہ بن سکی تو ہم کیا امید کریں کب ہم انسانوں (خصوصاً عورتوں) کو آسانی اور آزادی دینگے؟ روایت اور عزت کے نام پر اس قسم کی درندگی کی سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی کسی کی خواب اور پیار بھری آنکھیں چھیننے کی ہمت نہ کر سکے،8 جون کو جسی کی موت کو تیرہ سال ہوگئے مگر خواب چھیننے والے آج بھی انہی ہواﺅں میں سانس لے رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند