تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈرونز نہیں گرائے جائیں گے، کیونکہ ۔۔۔
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 13 شعبان 1434هـ - 22 جون 2013م KSA 23:57 - GMT 20:57
ڈرونز نہیں گرائے جائیں گے، کیونکہ ۔۔۔

امریکی وزیر خارجہ سینیٹر جان کیری جلد پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عوام کو یہ باور کرایا گیا ہے اور خود عوام کی توقعات بھی یہی ہیں کہ نئی حکومت ڈرون حملوں کے حوالے سے کوئی پیشرفت کرے گی، تاہم ایسا نہیں ہونے والا۔ یا پھر کم از کم ایسا نہیں ہو گا جیسا کہ عوام نے اس بارے میں سوچ رکھا ہے۔ امریکیوں کو ڈرونز کے بارے میں جو میڈیا اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں وہ کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں۔ ”ڈرون کے ذریعے پیزا کی سپیشل ڈلیوری“۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستانی ڈرونز پر اس قدر اپ سیٹ کیوں ہیں۔ ”ہم یہ سب کچھ ان کے خلاف کر رہے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں“۔

پاکستان کے عام آدمی کا یہ خیال ہے کہ بن بلائے مہمان مسائل حل کرنے کی بجائے زیادہ مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جہاں امریکی آ کر ”ٹیومر“ کو کاٹنا چاہتے ہیں وہاں ہم پاکستانیوں کا یہ خیال ہے کہ ہمارے لئے یہ تکلیف ناقابل برادشت ہے، ہم نے اس حوالے سے کوئی اجازت نامہ بھی نہیں لے رکھا ہمارا یہ خیال ہے کہ ہم اس کا ڈاکٹر کی بجائے، تعویز سے بخوبی علاج کر سکتے ہیں۔ ہمارا یہ حق ہے کہ ہم ایسا سوچیں، چاہے آخر میں ہمارے لئے جان لیوا ہی کیوں نہ ثابت ہو۔

کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس وقت حکومت پاکستان ڈرون پروگرام میں شامل ہے یا نہیں۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے سی این این کو ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا تھا کہ اعلیٰ فوجی کمان اور انٹیلی جنس اداروں کی اس وقت کی قیادت (جن میں حالیہ آرمی چیف جنرل کیانی بھی شامل تھے) اس حوالے سے مشاورت کے عمل میں حصہ دار تھے۔ جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹین فیئر کے مطابق ”پہلے ڈرون حملے امریکہ کی طرف سے پاکستانی فوج کے لئے خیرسگالی پیغام تھے۔“ ان کا آغاز نیک محمد سے ہوا تھا۔ 2004ءمیں پاکستانی فوج کو متعدد بار دھوکہ دینے والا شدت پسند امن معاہدوں کے باوجود ریاست کے خلاف ہتھیار ڈالنے سے باز نہ آیا جب اسلام آباد میں مقیم سی آئی اے کے سٹیشن چیف نے مدد کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو پاک فوج نے اسے تھام لیا، اس تسلی کے ساتھ کہ نیک محمد ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹ جائے گا۔ 2004ءمیں سب سے پہلا ڈرون حملہ اس نشانے پر ہوا۔

اس وقت سے لے کر آج تک، 2013ئ، میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ سلالہ چوکی پر حملہ، ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ، اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن، وغیرہ ایک لمبی فہرست میں شامل ہیں۔ دونوں ممالک میں اس موضوع پر تعاون اور مشاورت آج قطعاً نظر نہیں آتی۔ احتجاجی بیان، فارن آفس کی طرف سے احتجاج، پارلیمنٹ کی قراردادیں بار بار اس مو¿قف کو دہراتی ہیں کہ پاکستان کی سلامتی و خودمختاری کی واضح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

یقینا یہ درست ہے اور اس بات کو دہرانے سے یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان کی سلامتی و خودمختاری کو پامال کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے سٹیفن کوہن کا یہ خیال ہے کہ ڈرون حملے روکنے میں ناکامی کے علاوہ ”پاکستان اپنی سرزمین کے بڑے حصے ریاست کے کنٹرول میں لانے میں ناکام ہے، جن میں بلوچستان، خیبر پی کے اور کراچی شہر بھی شامل ہیں۔ “

دوسری جانب سیاستدانوں نے عوامی دباﺅ کے نتیجے میں کئی بلندوبانگ وعدے کر چھوڑے ہیں انتخابی مہم کے دوران انہوں نے خود اپنے لئے ہی گڑھے کھود ڈالے، اور ڈرون طیارے گرانے کے وعدے بھی کئے۔ پشاور ہائیکورٹ میں اس مو¿قف کی بھی تقویت کی اور کہا کہ ایسا کر گزریں۔ یہ بات واضح ہے کہ ڈرون گرانا تکنیکی طور پر مشکل کام نہیں۔ ڈرون کئی روز تک فضاﺅں میں آہستہ رفتار پر گردش کرتے ہیں۔ یہ فائٹر طیارے نہیں کہ ان کا پیچھا کرنا مشکل کام۔ ائرچیف نے پارلیمنٹ کی ان کیمرہ بریفنگ میں بتایا کہ فضائیہ کے پاس انہیں گرانے کے آلات موجود ہیں۔ پھر انہیں کیوں نہیں گرایا گیا؟

اس بارے میں سننے میں آیا ہے کہ ائرچیف نے جواباً سوال پوچھا ”پھر کیا ہو گا؟“ ڈرون گرانے کے ردعمل فوجی ایکشن کی صورت میں نہیں ہوں گے۔ امریکہ نے اگرچہ ہمیں کئی صدمے پہنچائے ہیں، مگر امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مالی طور پر فائدہ مند ثابت ہیں۔ 2012-13ءکے اقتصادی سروے کے مطابق امریکہ 15.1 فیصد کے ساتھ ہماری سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے، اس کے بعد 10.1 فیصد یو اے ای، 5.4 فیصد برطانیہ اور 4.1 فیصد کی ایکسپورٹ جرمنی کے ساتھ ہے۔ ہمارا زیادہ تر فوجی انحصار امریکہ پر ہے، فوجی آلات لینے کے لئے بھی امریکی سپلائرز کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ چائنہ سے دوستی ”ہمالیہ سے اونچی“ ہی کیوں نہ ہو، لیکن امریکی آلات چائنیز ہتھیاروں سے سپیرئیر کوالٹی کے ہیں۔ ہمارے پاس 60 امریکی ایف۔16 ہیں جو ہماری فضائیہ کی اصل طاقت ہیں، چینی جے ایس۔17 تھنڈر طیارے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

پریسلر ترمیم بھی پاکستانیوں کو یاد ہو گی، جس کے تحت پاکستان کی ہتھیار بیچنے پر امریکی کانگریس نے پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ پابندی اس وقت موجود نہیں، لیکن واپس بھی لائی جا سکتی ہے۔ ہمارا روایتی حریف بھارت یہ باور کرانے کے لئے بیتاب ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھارتی اثر کو پھیلانے میں شاید امریکہ کی طرف سے اور بھی کم رکاوٹ میسر ہو۔ عالمی بنکوں سے رقم کا حصول مشکل ہو جائیگا، امداد کم ہونے کی وجہ سے اتنی پریشانی نہیں ہو گی جتنی روزمرہ کے امور چلانے میں پیش آئے گی۔ بیرونی مارکیٹ سے خریدوفروخت، لونز اور گرانٹس کی حصولی اور دیگر امور اس طرح ممکن نہ ہوں گے جس طرح آج ہیں۔ تمام تر نفرت کے باوجود آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک کا جواب امریکی سفارش کے بغیر ہمیں ملنا مشکل ہے۔

نتائج کی پیشگوئی کرنا زیادہ مشکل کام نہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے ایکسپرٹ شجاع نواز کہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور شکایت کرنے پر بھی بضد ہے۔ تو آخرکار اگر یہ مان لیا جائے کہ پاکستان واقعتاً ڈرون حملوں کی پالیسی بدلنے میں سنجیدہ ہے تو اس مسئلے پر حقیقتاً کیا قدم اٹھائے جا سکتے ہیں؟ مسلم لیگ ن کا یہ مو¿قف کہ نئی حکومت کی آمد امریکہ کو پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دے گی بالکل بچگانہ بات ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے حوالے سے بھی وہ اتنے ہی سنجیدہ نظر آتے ہیں جتنا کہ پی پی پی حکومت تھی۔ یہ کوئی خاص قابل تعریف بات نہیں وہ یہ زحمت بھی کیوں کرتے ہیں؟ کرسٹین فیئر کے الفاظ میں ” سیاستدان ڈرون حملوں کیخلاف اس لئے ہیں کیونکہ انکے ووٹر ڈرون حملوں سے نفرت کرتے ہیں۔“

اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکہ اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہم پر اعتماد کرے۔ گذشتہ بارہ ماہ سے ملٹری ٹو ملٹری تعلقات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، مگر وہ ہمارے ہاتھ میں ٹریگر نہیں دیں گے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انہیں اعتماد نہیں کہ ہم یہ ہتھیار صحیح لوگوں کے خلاف استعمال کریں گے یا نہیں۔ ایک آپشن یہ ہے کہ پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی کہیں سے خرید لے۔ شاید یہ تکنیکی مارکہ طے کرنے میں پاکستان پہلے ہی تاخیر کر چکا ہو، اس بات کی بہت افواہیں ہیں کہ شدت پسند بھی جلد ان ہتھیاروں کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سلامتی کونسل کا رکن ہے، لیکن ہماری جانب سے ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک بھی شکایت وہاں درج نہیں کرائی گئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کے خلاف سلامتی کونسل میں شکایت درج کرانا سفارتی رسم و رواج کے مطابق ڈرون گرانے کے مترادف ہے، اور پھر ہم لوٹ کر اس سوال کی جانب آتے ہیں کہ ”پھر کیا ہو گا؟“

شاید بہترین آپشن پاکستان کے لئے یہ ہو کہ ڈرونز پر نئی ڈیل کر لی جائے۔ آرمی چیف اور وزیراعظم دونوں قوم سے خطاب کریں کہ اگر سابقہ حکومتوں نے کوئی ڈیل کی بھی ہے تو یہ اب ختم ہو گئی ہے۔ اب سے اگر پاکستانی سرزمین پر کوئی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تو وہ ٹارگٹڈ سنٹر میں پاکستان کے نمائندے کی موجودگی کے بغیر نہیں ہو گا۔ اگر پاکستانی نمائندگان ٹارگٹ کا فیصلہ کرنے کے عمل میں شامل نہ کئے گئے تو پاکستانی فضائی حدود میں سخت نگرانی کی وجہ سے کوئی طیارہ ابہام کی بناءپر نقصان اٹھا سکتا ہے۔ پھر نہ کہنا کہ ہم نے آپ کو بتایا نہیں۔ اگر نئی حکومت ایسے کسی معاہدے پر امریکہ کو قائل کر لیتی ہے تو پاکستان کو خود اپنے گھر میں کی گئی کارروائی میں کم از کم میز پر ایک سیٹ تو حاصل ہو جائے گی۔

اگر ایسا ہو جاتا ہے تو حکومت کو اپنی اس جیت کو عوام سے منوانا مشکل ثابت ہو گا۔ امریکہ مخالف جذبات جب اس قدر زیادہ ہوں اور سیاستدان تعلقات پیچیدگیوں کے بارے میں وضاحت کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ سب کچھ ناممکن ہو گا۔ اگر دیکھا جائے تو اس دنیا میں ملکوں کے لئے اپنے مفادات سب سے مقدم ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کے نتیجے میں ملنے والے مفادات چاہئیں یا نہیں؟ ایسا فیصلہ کرتے ہوئے کسی اور کی نسبت پاکستان کو اپنے بارے میں سب سے زیادہ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند