تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مرسی اور نوازشریف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 1 رمضان 1434هـ - 9 جولائی 2013م KSA 07:56 - GMT 04:56
مرسی اور نوازشریف

 کہتے ہیں تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ مصر میں دہرائی گئی، فوجی سربراہ نے منتخب صدر کا تختہ الٹ دیا۔ محمد مرسی نے ہی عبدالفتاح کو فوج کا سربراہ بنایا تھا، انہوں نے وہی کیا جو ضیاء الحق نے بھٹو کے ساتھ اور پرویز مشرف نے نوازشریف کے ساتھ کیا تھا، اپنے محسن کے خلاف بغاوت کردی۔ وہاں کیا ہوتا ہے، وقت اور سامراجی طاقتیں بہتر جانتی ہیں۔ سوچااپنے یہاں جو بیتی اسے دہرایا جائے، کچھ ریکاڑد کی درستی کے لئے، کچھ عوام کی یادداشت کے لئے کہ بہت سے حقائق اِدھر اُدھر کر دیئے جاتے ہیں، کبھی کم علمی کی وجہ سے، کبھی عینک کے باعث۔

بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کا دن واضح طور پر یاد ہے اور ان کی پھانسی کا دن بھی۔ شدید افسردگی تھی، گو ہم ان کے حامی کبھی نہیں تھے، دکھ تھا کہ ایک مدبّر سے قوم کو محروم کر دیا گیا۔ جنرل مشرف کی بغاوت بھی یاد ہے اور نوازشریف پر مقدمہ کی روداد بھی۔ کسی وزیراعظم پر مقدمہ چلتے پہلی بار قریب سے دیکھا۔ بھٹو کا مقدمہ لاہور میں چلا تھا، عدالتی کارروائی کے ترجمہ کی ذمہ داری، مشکل تھی مگر نبھائی۔ نوازشریف کے مقدمہ کی روداد خود سنی، خود لکھی اور نشر کی۔ جب انہیں عمرقید کی سزا سنائی گئی اور جب دس سال کے لئے ملک بدر کیا گیا تو بہت سے خیال تھے، بہت سی سوچ تھیں۔ کیا ہو گیا، اب کیا ہوگا اور دس برس کس نے دیکھے ہیں پھر دس برس گزر بھی گئے اور سب کچھ بدل بھی گیا، جو کل با اختیار تھا، آج اپنے بارے میں فیصلے کا منتظر ہے۔ جو باہر تھا، اب اختیار اُس کے پاس ہے۔ وقت سدا یکساں نہیں رہتا۔

مصر کا حادثہ دیکھ کر بہت کچھ یاد آیا، گو تیرہ چودہ سال گزرگئے ہیں، یاد بہت کچھ ہے۔ ہوا کیا تھا؟سب کو پتہ ہے ۔سب جانتے ہیں کہ ایک بندوق بردار جنرل نے منتخب وزیراعظم کو برطرف کیا، گرفتار کیا اور خود اقتدار پر قابض ہو گیا۔ اسکے کچھ دن بعد کی بات ہے، کراچی کی ایک عدالت میں نوازشریف کو پیش کیا گیا، مولوی تمیزالدین خان روڈ پر ایک عمارت میں۔ وہاں صحافیوں کا داخلہ ممنوع تھا۔

تجسّس تو تھا ہی اور خبر بھی پیشہ ورانہ مجبوری ۔احاطہ کی دیوار سے جھانکنے کی کوشش کرتے رہے۔ نوجوان صحافی رفعت سعید کہ بہت پھرتیلے ہیں دروازے بند ہونے سے پہلے ہی اندر جانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ ایک بکتر بند گاڑی داخل ہوئی، اس کا دوازہ کھلا،نوازشریف باہر نکلے۔ان کے رویّے سے،ان کی کیفیت سے صاف پتہ چلتا تھا کہ انہیں کچھ اندازہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ہکا بکا سے تھے۔کبھی اِدھر دیکھتے ،کبھی اُدھر۔ انہیں طویل قید کے بعد دن کی روشنی اور کھلی ہوا ملی تھی۔رفعت سعید نے اپنا مائیک ان کے سامنے کردیا ”میاں صاحب بولئے،میاں صاحب کچھ بولئے“۔خبر کا اپنا تقاضا تھا کہ میاں صاحب کی آواز ریڈیو کیلئے مل جائے۔ دو تین بار دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، میاں صاحب اس کیفیت میں نہ تھے کہ کچھ بول سکتے۔

مائیک انکے سامنے ہی رہا پھر پولیس والے انہیں عدالت میں لے گئے۔ یہ ان کی پہلی پیشی تھی۔ اسی عدالت میں چند دن بعد شہباز شریف کو پیش کیا گیا۔ صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت تھی۔ دو دیواروں کے ساتھ لگی کرسیوں پر شہباز شریف اور ان کے ساتھ سیف الرحمن بیٹھے تھے۔ صحافی دوسری طرف کی کرسیوں پر۔ اب حیرانی ہوتی ہے،اس وقت بھی ہوئی تھی،غصہ بھی آیا تھا۔ وہ شخص جو کل تک احتساب بیورو کا شکنجہ پکڑے مختلف لوگوں کو گرفتار کراتا تھا،خود گرفتار ہوگیا مگر گرفتار تو سب ہی ہوئے تھے۔ سب نے ہی حوالاتوں میں اور جیلوں میں مشکل دن گزارے تھے۔ سیف الرحمن نے مگر انتہا کردی۔ وہ رو رہا تھا،زاروقطار۔ شہباز شریف قریب ہی بیٹھے تھے، ان سے کہا اسے سمجھائیں، مرد بنے۔ شہباز شریف نے اسے ڈانٹا۔ ”آرام سے بیٹھو۔ چپ رہو“۔ سیف الرحمن نے تھوڑی دیر ہی ان کی بات پر عمل کیا اور جیسے ہی جج نے کرسی سنبھالی،وہ کھڑا ہوگیا ”میں نے کچھ نہیں کیا، میں نے کچھ نہیں کیا،میرا کوئی قصور نہیں ہے“۔ ایک بے حوصلہ آدمی کو جج نے تسلی دی۔ ”آپ بیٹھیں آپ کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا جائیگا“۔اُس کی تکرار مگر جاری رہی، جج بار بار ٹوکتے بھی رہے۔

جہاز اغوا کرنے کا مقدمہ شروع ہوا۔انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں۔ یہ عدالت کوٹھاری پریڈ کے قریب ایک عمارت میں قائم کی گئی تھی۔ وہیں سماعت ہوتی، لانڈھی جیل میں اس مقدمے کی کوئی سماعت نہیں ہوئی ۔ صبح ہی صبح عدالت پہنچنا ضروری تھا ورنہ اندر داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ پہلی پیشی پر بی بی سی سے نواز شریف کی سیاسی زندگی کا ایک خاکہ میں نے نشر کیا اور باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت قائم کرتے ہوئے کیا نواز شریف نے کبھی سوچا تھاکہ ایک دن انہیں بھی اس عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ جہاں سے انصاف کی توقع کم ہی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری تھے۔کہا گیا ان پر بڑا دباؤ تھاکہ نوازشریف کو پھانسی کی سزا دی جائے مگر انہوں نے نہیں مانا،عمر قید البتہ دے دی۔ یہ انصاف تھا؟ اگر دباؤ مسترد کرنا ہی تھا تو انصاف کے تقاضے پورے کرتے، جو چند سال بعد سپریم کورٹ نے کئے، رحمت حسین جعفری کی دی ہوئی سزا کالعدم قرار دے دی۔ جب انہوں نے نوازشریف کو سزا سنائی وہ سیشن جج کی حیثیت سے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سربراہ تھے۔ اگست 2002ء میں وہ سندھ ہائی کورٹ کے ایڈہاک جج بنے۔ یہ جنرل مشرف کا دور تھا۔اس کے ایک سال بعد وہ سندھ ہائی کورٹ کے مستقل جج بنا دیئے گئے اور تقریباً چھ سال بعد2009ء میں انہیں سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔ریٹائر وہ سپریم کورٹ سے ہوئے اور بعد میں بھی عدلیہ کی خدمات انہوں نے سر انجام دیں اور کچھ کمیشنوں کی سربراہ بھی رہے۔ یوں نواز شریف کو2000ء میں سزا سنانے کے بعد جعفری صاحب گیارہ سال عدلیہ سے وابستہ رہے۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ان کا نام نامی سندھ ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر ریٹائر اور ترقی پانے والے ججوں کی فہرست میں 75ویں نمبر پر موجود ہے،وہاں سے تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی، اعجاز بٹالوی اور خواجہ سلطان ان کا مقدمہ لڑتے رہے اور بالآخر نوازشریف کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ انہیں جہاز اغوا کرنے کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔انصاف ہار گیا، بندوق جیت گئی۔ اب کیا ہوگا؟ کس کے پاس اس کا جواب تھا؟نواز شریف نے بعد میں سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کی، شہباز شریف نے بھی۔ مگر ایک ذرا دلچسپ سا فرق تھا۔ نوازشریف عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے تھے، ان کا مقدمہ ان کے وکیل عزیزاللہ میمن لڑرہے تھے۔ شہباز شریف نے کہا اپنا مقدمہ وہ خود لڑیں گے۔ یوں ہر تاریخ پر وہ آتے،لوگوں سے ملاقاتیں کرتے۔ان کی ایک کتاب چھپ گئی تھی،دستخط کر کے وہ انہوں نے دی۔ پھر اچانک اطلاع ملی کہ نوازشریف ملک بدر کئے جا رہے ہیں۔ وہ اٹک کے قلعہ میں تھے۔ شہباز شریف کو کراچی سے اسلام آباد لے جایا گیا۔دس سال کی جلا وطنی؟ سوچ کی ایک تند لہر آئی، دس سال کس نے دیکھے ہیں؟ ایک طویل مدت ہے۔ظفر عباس سے بات ہوتی، ہم دونوں ساتھ ہی بی بی سی کے لئے رپورٹنگ کرتے تھے، سب ہی کچھ زیر بحث آتا تھا۔

یہ بھی کہ دس سال ایک طویل عرصہ ہے۔بار بار ایک ہی بات، کس نے دیکھے ہیں،کیسے گزرے گا یہ طویل عرصہ؟اس وقت یہ نہیں لگتا تھا کہ گزر جائے گا۔ آنے والا وقت بہت دور لگتا ہے، گزرا ہوا ابھی کل کی سی بات۔ابھی کل کی بات تھی معزولی، گرفتاری، مقدمہ، جلاوطنی…گزر گیا۔ گزر بھی گیا اور سب کچھ تبدیل بھی ہو گیا۔ جس نے معزول کیا تھا اور گرفتار،خود زنداں میں ہے۔ جسے معزول اور گرفتار کیا تھا، وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گیا۔ وقت سدا یکسا ں نہیں رہتا، گزر جاتا ہے،اچھا بھی اور برا بھی۔ مصر میں محمد مرسی کو برطرف کیا گیا، بالکل ممکن ہے کل وہ بھی پھر واپس آجائیں۔ وقت سدا یکساں نہیں رہتا۔ نواز شریف بھی تو آگئے، مرسی بھی آجائیں گے۔

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند