تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایوان صدر میں 'بارہویں کھلاڑی' کی آمد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 15 رمضان 1434هـ - 23 جولائی 2013م KSA 09:00 - GMT 06:00
ایوان صدر میں 'بارہویں کھلاڑی' کی آمد

پاکستان میں بظاہر صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری ہو گیا ہے اور چھ اگست کو امکانی طور پر نئے ریاستی سربراہ اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا، لیکن حقیقی صورتحال یہ ہے کہ دستور پاکستان کے مطابق نافذ العمل پارلیمانی نظام کے باعث اور اس سے بھی کر بڑھ کر اسے صاف لفظوں میں کرکٹ کے بارہویں کھلاڑی کی سلیکشن کہا جا سکتا ہے۔

تین بڑی سیاسی جماعتوں جن میں مسلم لیگ [نواز] اس وقت بجا طور پر سب سے بڑی جماعت کہلانے کی حق رکھتی ہے کہ عوام نے بڑی واضح اکثریت کے ساتھ اسے حکمرانی کا حق دیا ہے۔ اس سمیت تینوں جماعتوں نے اب تک صدراتی امیدوار کے طور پر جن ناموں کو عوام کے سامنے براہ راست یا بالواسطہ پیش کیا ہے، ان میں ایک نام بھی ایسا نہیں جو بارہویں کھلاڑی سے فرو تر حیثیت رکھتا ہو، یا اس کی حیثیت ان جماعتوں کے اولین رہنماٶں، موثر اکابر یا براہ راست منتخب ہو سکنے والے اور اپنے حلقوں کی حد تک سہی 'مالک و مختار یا بااثر سمجھے جاتے ہوں۔

دلچسپ بات ہے کہ مسلم لیگ [نواز] کا اگر ماضی کا ٹریک ریکارڈ سامنے ہو تو اس کی طرف سے ابھی تک جو نام سامنے آئے ہیں یا لائے گئے ہیں وہ بارہویں کھلاڑی کی حیثیت سے کسی بھی طرح زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں، ان میں سب سے اہم نام ابھی تک جو مسلم لیگ [نواز] میں زیر بحث ہے بلکہ 'فیوریٹ' سمجھا جاتا ہے وہ پارٹی رہنما ممنوں حسین کا ہے جو گورنر سندھ بننے سے لیکر اب تک میاں نواز شریف کے غیر معمولی حد تک ممنون ہیں۔ بلا شبہ صدارت کے منصب کے لئے امکانی نامزدگی انہیں محض ممنون نہیں رہنے دے گی بلکہ انہیں ممنون تر بنا دے گی۔

مسلم لیگ [نواز] کے پارٹی حلقوں میں ان کے گورنر سندھ بنائے جانے کا پس منظر ایک عرصے تک زبان زد عام رہا ہے کہ موصوف کے گھر میں نہاری بہت اچھی تیار ہوتی ہے، اور نہاری میاں صاحب کی کمزوری ہے۔ بس اپنی کمزوری کے ہاتھوں میاں صاحب ممنون حسین کے ممنون ہو گئے اور انہیں سندھ کا گورنر بنا دیا۔ یقینا یہ کوئی ایسا بڑا فیصلہ بھی نہ تھا کہ نہاری کے گورنر ہاٶس میں تیار ہونے کی سہولت سے ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے لئے کراچی کے ہر دورے کے موقع پر لذت کام و دہن آسان ہو گئی۔۔ ۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ممنون حسین ذاتی وفاداری نبھانے والے بھی مشہور ہیں کہ جب جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو بطور گورنر ممنون حسین نے ایک مذمتی بیان جاری کیا تھا۔ اس معاملے میں رفیق تاڑر صدر ہوتے ہوئے بھی مار کھا گئے تھے، غالبا انہیں اپنے بارہویں کھلاڑی ہونے کا احساس تھا اسی لیے وہ خواہ مخواہ میں چوکے چھکے لگانے کے خواب دیکھنا، میدان میں اترنے کی کوشش کرنا اور پر وقت پیڈ باندھ کر بیٹھے رہنے کو عبث سمجھتے تھے۔ بہرحال اب ان کی جگہ ممنون حسین کا نام کم از کم میڈیا اور مسلم لیگ دونوں کی سطح پر اہم ترین ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!

پاکستانی سیاست کا یہ اسلوب نیا نہیں کہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے سب سے طویل نعرہ لگانے والے جیالے کو دوران جلسہ ہی فرانس میں سفیر مقرر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اب ان کے ازخود نوٹس کے تحت سیاسی وارث آصف علی زرداری صدارتی منصب سے سبکدوش ہو رہے ہیں تو انہوں نے اس منصب کے لئے ایک 'نیک نام' شخصیت کی اپنی پارٹی کی جانب سے منظوری دی ہے جن کا ایوان صدر میں بلائے گئے پارٹی کے اجلاسوں میں تمسخر اڑانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔

اب رضا ربانی کو آگے لانا آصف زرداری کی ایک مجبوری ہے کہ رضا ربانی جیسے فرد کو وزارت عظمی تو دینا نہیں تھی کہ زرداری صاحب انہیں کسی 'جوگا' نہ سمھجتے تھے اس لئے انہیں صدارتی انتخاب میں جھونکنا ہی بہتر خیال کیا ہے کہ اولا یہ پیپلزپارٹی کے لئے ایک ہارا ہو الیکشن ہے، اگر متحدہ قومی موومنٹ اتحاد نہ ہونے کے باوجود اعلان کر دیا کہ وہ بھی پی پی پی کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دے گی لیکن پھر بھی امید کوئی نہیں، اسی لئے رضا ربانی کو آگے لائے ہیں، اگرچہ تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو اپنے یا اپنی قابل احترام ہمشیرہ کے علاوہ ان کی کسی اور پر نظر پڑتی تو وہ کوئی 'ہم مسلک' کو تلاش کرتے کیونکہ صدر زرداری نے نہ صرف اپنی صدارت کی مدت میں ایوان صدر پر سیاہ پرچم لہرائے رکھا بلکہ اس عرصہ میں خارجہ پالیسی کو سیاہ علم میں لپیٹے رکھا۔ اس ترجیح کے باعث انتہا پسند شیعہ تنظیم 'سپاہ محمد' کے بانی رکن فیصل رضا عابدی ان کے مشیر قرار پائے تھے۔

تیسری اہم اور بڑی سیاسی جماعت ان دنوں تحریک انصاف ہے۔ کپتان کی پارٹی ہونے کے ناطے کس کھلاڑی کو اوپنر، ون ڈاٶن یا ٹو ڈاٶن وغیرہ بھیجنا ہے اس جماعت سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے۔ اسی لئے بارہویں صدر نہیں حقیقتا ریاست کے بارہویں کھلاڑی کے لئے انتخاب کے لئے تحریک انصاف نے جسٹس [ریٹائرڈ] وجیہ الدین کو نامزد کیا گیا ہے جن کا اس سے پہلے کسی فعال عہدے کے لئے کوئی سوچا گیا نہ پارٹی میں انہیں کسی ظاہرا طاقتور منصب پر فایز کیا جانا ضروری سمجھا گیا۔ یقینا اس سے بہتر مصرف جسٹس صاحب کا کچھ اور نہ ہو سکتا تھا۔!

واقعہ یہ ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ایوان صدر میں پارٹی کے بارہویں کھلاڑی طرز کی شخصیات کو بارہویں کھلاڑی کے طور پر بھیجنے کے فیصلے بلا وجہ نہیں کئے۔ مسلم لیگ [نواز] کے میان نواز شریف سے بعید نہیں کہ وہ کسی وقت اپنے دیرنیہ ساتھی حاجی شکیل اور فوٹو گرافر ذوالفقار بلتی کو بھی اس منصب کے لئے نامزد کرنے کا اعلان کر سکتے تھے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ دونوں شخصیات بہرحال کچھ نہ کچھ کر رہی تھیں۔ اس لئے انہیں بارہویں کھلاڑی کے طور پر متعارف کرانا سیدھا سیدھا خسارے کا سودا ہوتا ۔۔۔ جو انہوں نے نہیں کیا۔ رہی بات آصف علی زرداری کی جگہ پی پی پی کے رضا ربانی کو لانے کی تو صاف بات ہے کہ اس شریف آدمی کو کہیں تو برتنا تھا!

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند