تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کاش ہم سرکاری افسر ہوتے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 15 رمضان 1434هـ - 23 جولائی 2013م KSA 08:30 - GMT 05:30
کاش ہم سرکاری افسر ہوتے

 کاش ہم بھی سرکاری افسر ہوتے، اکثر جی چاہتا ہے۔ مچلتا بھی ہے، خاص طور پر اس وقت جب بعض لبھاتی، للچاتی خبریں نظر سے گزرتی ہیں۔ اگر ہم بھی سرکاری افسر ہوتے، فرض کریں ،تو کیا کرتے؟ پہلے تو اپنے تعلقات اعلیٰ صاحبانِ اقتدار سے ہموار کرتے، ان کی خوشامد کرتے، وہ دن کو رات کہتے، ہم ان کی ہاں میں ہاں ملاتے، ان کے کہنے پہ ستارے ہمیں بھی نظر آتے، ہم دوسروں کو بھی دکھاتے۔ ایک اچھے سرکاری افسر کی طرح اپنی ذمہ داری نبھاتے۔

یہ اور اس طرح کے دوسرے بہت سے کام ہم خود ہی اپنے فرائض میں شامل کرلیتے، صاحبان اقتدار کو اتنے اتنے سے کاموں کے لئے زحمت نہیں دی جاتی۔ اس خدمت کے بدلے میں ہمیں کچھ درکار نہیں ہوتا۔ بے غرض تو ہم سدا کے ہیں، اِخلاص بھی ہمارا ایک وصف ہے۔ بڑے لوگوں کے ساتھ ہوں تو اِخلاص کا زیادہ مظاہرہ کرتے ہیں، عادت سی ہے، تربیت بھی اچھے لوگوں نے کی ہے۔ انہوں نے سارے گر سکھائے ہیں، ان کے آزمودہ ، بڑے لوگوں کو خوش رکھنے کے گر۔ ہم اگر سرکاری افسر ہوتے تو ظاہر ہے کہیں نہ کہیں تو تعینات کئے جاتے۔کسی افسر کو فارغ نہیں رکھا جا سکتا، سرکاری ملازم ہے تو کام کرے۔ قومی خزانے کو نقصان پہنچانا بڑی غیر ذمہ داری ہے۔

ہم سے اس کی توقع نہ رکھیں۔ اب یہ تو طے ہے کہ کہیں نہ کہیں تو ہمیں لگایا جاتا۔ افسرانِ بالا سے ہمارے تعلقات، آپ کو پتہ ہی ہے، ہم نے بہت اچھے رکھے ہوئے ہوتے۔ ان کا دن ہمارا دن ،ان کی رات ہماری رات، تو وہ کیوں ہمارا خیال نہ رکھتے، اور کسی اچھی جگہ پوسٹنگ نہ کرتے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔ اب باقی کام تو ہماراہوتا۔ اصل میں یہ خیال کہ کاش ہم سرکاری افسر ہوتے اس لئے آیا کہ آئے دن اخباروں میں ایسی خبریں نظر سے گزرتی ہیں کہ جی للچا ہی جاتا ہے۔

ایک صاحب کے بڑے لوگوں سے تعلقات تھے، انہیں ایک ایسے ادارے میں لگا دیا گیا جہاں لاکھوں کروڑوں کا کاروبار تھا۔ لاکھوں کروڑوں تو ہم نے یونہی کہ دیا، اصل میں تو اربوں کھربوں کی بات تھی۔ اب اربوں کھربوں آپ کے ہاتھ میں ہوں، پوچھنے والا بھی کوئی نہ ہو، جو ہو وہ آپ کا شریک کار ہو، نہ ہو تو بنایا جاسکتا ہے۔ توہاتھ تو کھلا رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تو ہو ہی سکتا ہے کہ زمین خریدی جائے تو اپنے دوستوں، رشتہ داروں کو نوازا جائے۔ نیکی گھر سے شروع ہونے کی بات تو دانا پہلے ہی کہہ گئے ہیں۔ ہم نیکی سے کیوں محروم رہتے اور اگر زمین کی قیمت ذرا زیادہ ادا کردی جاتی تو کیا ہوا، قیمت تو بڑھتی رہتی ہے۔ آج ہم نے سو روپے میں خریدی تو کل دو سو میں بیچ دیں گے، کل نہیں تو پرسوں۔ قیمت تو بڑھ ہی جائے گی۔ یا کسی دوسرے ادارے میں ہمیں لگایا جاتا، مثلاً جہاں جہازوں کی خریداری کا معاملہ ہوتا یا پٹرول کی قیمت کا تعین یا کوئی بھی ایسا کام جہاں ہزاروں لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا۔ پھر وہی ہزاروں لاکھوں۔ مگر آپ سمجھ تو گئے ہوں گے، ہم وہاں ہونا چاہتے جہاں اربوں کھربوں کا کاروبار ہوتا۔ اب اس کاروبار میں ہاتھ ہمارا کھلا تو ہونا ہی چاہئے تھا اور اگر مال بیچنے والے، قیمت میں ہمیں بھی شریک کرلیتے تو اس میں ہمارا کیا قصور۔ یہ تو ان کی شرافت ہوتی کہ اپنے بھائی کا بھی خیال رکھتے، اپنی کمائی میں ہمیں بھی شریک کرتے، اچھے لوگ کہاں نہیں ہوتے۔

مگر یہ جو چند ایک ادارے ہیں مثلاً کیا کہتے ہیں، نیب وغیرہ، ان کے پیٹ میں بلاوجہ درد ہوتا ہے۔ نہ مال ان کا، نہ ان کا کوئی لینا دینا۔ مگر بیچ میں کود پڑتے ہیں۔ الزام تراشی تو کوئی ان سے سیکھے۔ اچھے خاصے شریف آدمی کو ذلیل کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اربوں کھربوں کھا گئے، زمین مارکیٹ سے مہنگی قیمت پر خریدلی، اتنے ارب روپے کا گھپلا کردیا، جہازوں کی خریداری میں اتنے ملین بلین اپنی جیب میں ڈال لئے اور جو ان کے منہ میں آتا ہے کہے چلے جاتے ہیں ۔( کہنا تو چاہئے کہ بکواس کئے جاتے ہیں مگر ان لوگوں سے کام بھی پڑسکتا ہے، اس لئے تھوڑی احتیاط کرنے میں کیا حرج ہے)۔اچھے خاصے آدمی کی زندگی حرام کردیتے ہیں، نہ ملک میں چین سے رہنے دیتے ہیں، نہ ملک سے باہر، موقع ملے تو پکڑ لاتے ہیں۔مگر ہیں بہت شریف اور ان کی موجودگی کی وجہ سے ہی ہمارا جی چاہتا ہے کہ کاش ہم سرکاری افسر ہوتے۔

آپ سمجھ تو گئے ہوں گے، ہم اصل میں مال بنانا چاہتے ہیں مگر ہم کوئی رشوت خور نہیں بننا چاہتے، نہ ہم قوم کا پیسہ لوٹنا چاہتے ہیں۔ آپ قسم لے لیں، ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان نیب والوں کو اگر شبہ ہو جائے، بلاوجہ ہمارے پیچھے پڑجائیں تو ہم ان کے ساتھ پورا تعاون کریں گے، آخر یہ بھی تو ہمارے ملک کے ادارے ہیں۔ جیسے ہی ان کا ہاتھ ہماری گردن تک پہنچتا، ہم فوراً پلی بارگین کی پیشکش کر دیتے۔ یہ مان بھی لیتے، اکثر مان لیتے ہیں۔ نوّے ارب ہمیں ملے ہوتے تو ہم ایک ارب واپس کردیتے یا تین سو پچاس ملین ہم نے جہازوں کی خریداری میں کمائے ہوتے تو دس ملین واپس کر دیتے۔ یہ راضی ہو جاتے، اکثر ہو جاتے ہیں، باقی معاف کر دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ اسی لئے ہمارا جی چاہتا ہے بلکہ مچلتا ہے کہ کاش ہم بھی سرکاری افسر ہوتے، سب کچھ کرتے اور پھر پلی بارگین کر کے باعزّت رہا ہو جاتے۔ باقی زندگی انگریزی کی کہانیوں کے مطابق خوش و خرم اور عزّت سے گزارتے، لوگ گزار ہی رہے ہیں۔

قبل از نوشت: تازہ خبر: اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق نے پلی بارگین کے تحت ایک ارب روپے واپس کرنے کی پیشکش کی ہے۔ (ان پر 84 /ارب روپے خرد برد کرنے کاالزام ہے)۔ باسی خبر: نیب نے پاک بحریہ کے ایک سابق سربراہ کی پلی بارگین درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کردیا اور اب ان پر بد عنوانی کا کوئی مقدمہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے جہازوں کی خریداری میں بھاری کمیشن وصول کیا تھا اور بھی بہت کچھ کیا تھا۔ پلی بارگین کر کے بچ گئے اور بہت سی خبریں آپ کو یاد ہوں گی، کم باسی اور زیادہ پرانی ۔ اسی لئے سرکاری افسر بننے کی خواہش پہ دل مچلتا ہے

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند