تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عرب انقلاب کے مسائل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 18 ربیع الثانی 1441هـ - 16 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 رمضان 1434هـ - 25 جولائی 2013م KSA 10:57 - GMT 07:57
عرب انقلاب کے مسائل

 تاریخ میں ایسے طویل عہد بھی آتے ہیں جب سماج جمور اور ٹھہراو کا شکار ہو جاتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ رک چکی ہے لیکن سطح کے نیچے انقلاب کا عمل غیر محسوس طور پر جاری رہتا ہے ۔ پھر ایسےغیر معمولی لمحات بھی آتے ہیں جب لمبے عرصے سے دبے ہوئے ناقابل حل سماجی تضادات اس شدت سے پھٹتے ہیں حکمران طبقے کی جانب سے سماج پر تھوپے جانے والی نظام معیشت ،سیاست، اخلاقیات، اقدار اور رسم و رواج کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں ۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف ممالک میں ابھرنے والے زیادہ تر انقلابات اپنے منطقی انجام تک پیچنے کی بجائے پسپائی کا شکار ہوئے۔ بعض اوقات تو یہ پسپائی کشت و خون سے بھرپور تھی جبکہ بعض دوسری صورتوں میں حکمران وقتی اصلاحات کے ذریعے عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا اور تحریک کو منتشر کرنے میں کامیاب رہے۔ تاہم چند انقلابات رائج الوقت نظام کو اکھاڑ کر بنیادی سماجی و معاشی تبدیلی لانے میں کامیاب بھی رہے جس کی سب سے عظیم مثال روس میں 1971ء میں برپا ہونے والا بالشویک انقلاب ہے۔

موجودہ عہد میں سرمایہ داری پہلے کبھی نہ دیکھے گئے سماجی تفاوت اور عدم مساوات کو جنم دے رہی ہے ۔ اس کے نتیجے میں بیس سال کے سماجی جمود کے عرصے کے بعد ہمیں 2011سے بغاوتوں کا سلسہ نظر آتاہے ۔ کارل مارکس نے بڑی تفصیل سے سرمایہ داری کے اس طرز ارتقا کی وضاحت کی تھی کہ ''ایک طبقے کے پاس دولت کا اجتماعی دوسرے طبقے میں بدحالی ، اذیت ناک غلامی ، جہالت ، جبر شعوری پسماندگی کو جنم دیتا ہے یعنی اس طبقے میں جو تمام تر سرمایہ پیدا کرتا ہے۔" [سرمایہ، جلد اول]

یونان سے ترکی اور برازیل سے مصر تک ہونے والی سماجی دھماکے سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر بڑھتے اور تیز ہوتے ہوئے سماجی تضادات کا واضح ثبوت ہے ۔ آنے والے مہینوں اور سالوں میں کئی اور ممالک بھی انقلابی طوفانوں کی زد میں آئیں گے ۔ جارحانہ طبقاتی جدوجہد اور عارضی تھکاوت ، سردمہری ، جمود حتی کی رد انقلاب کے عہدیک بعد دیگرے آئیں گے۔ وقتی پسپائیاں نئے اور پہلے سے بڑے انقلابی ابھاروں کو جنم دیں گے ۔ انقلاب مصر اس عمل کی واضح مثال ہے ۔2011میں شروع ہونے والے انقللاب مصر کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے انقلاب کو خارج ازامکان قرار دے کر سرمایہ داری کے آگے جھک جانے والے دانشوروں کو صدمے اور تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے ۔ پہلے پہل تو یہ حضرات اسے انقلاب تسلیم کرنے کوبھی تیار نہیں تھے ۔ آنکھیں رکھنے کے باوجود دیکھنے کے انکاری لوگوں کا کوئی علاج نہیں ہوتا ۔

کارپوریٹ میڈیا نے بڑی مکاری سے اس شاندار انقلابی ابھار پر جمہوریت اور لبرل ازم کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کی ، تاہم 30جون 2013ء کو شروع ہونے والے ایک اور انقلاب نے حکمران طبقے اور سامراج کے زیر خرید دانشوروں کی جانب سے دیے جانے والے اس جھوٹے تاثر کو جھٹک دیا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ عوام حکمران طبقے کی حکمرانی کے سیاسی طریقہ کارمیں بے معنی اور جعلی تبدیلیاں کرنے کی بجائے غربت ، محرومی ، بے روزگای اور ذلت اور استحصال سے نجات حاصل کرنے کیلیے انقلابی تحریکیں برپا کرتے ہیں ۔مصر میں حکمرانوں کی سیاسی اور جمہوری چالبازیاں انقلاب کے سماجی و معاشی کردار کو دبانے میں ناکام رہیں اور کئی مہینوں تک مایوسی اور تھکاوٹ کا شکار رہنے کے بعد عوام ایک بار پھر کروڑوں کی تعدادمیں سڑکوں پر نکل آئے کسی انقلابی پاڑٹی ، تنظیم یا قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود انہوں نے چند دنوں میں مرسی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا ۔

دنیا بھر کے کارپوریٹ میڈیا نے مرسی حکومت کے خاتمے کوفوجی کو(Coup)قرار دینے کی کوشش کی ۔ مصر کی صورتحال اس سے مختلف ہی نہیں بالکل متضاد تھی ۔ واقعات کی اصل قوت محرکہ سڑکوں پر موجود مصری عوام کی اکثریت تھی ۔ گلی محلوں میں انتظامات سنبھالتی عوامی کمیٹیاں ریاست کے وجود کو چیلنج کر رہی تھیں۔ان حالات میں فوجی قیادت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ مرسی کو فارغ کر کے انقلاب کو وقتی طور پر ٹھنڈا کیا جائے ۔

ہر انقلاب کی قوت محرکہ عوامی تحریک ہوتی ہے تاہم مصری انقلاب کا خود روپن جہاں اس کی سب سے بڑی مضبوطی تھی وہیں جدلیاتی طور پر سب سے بڑی کمزوری بھی تھی۔عوام 30 جون کو اقتداد پر قبضہ کر سکتے تھے ۔ طاقت درحقیقت پہلے سے ہی لاشعوری طور پر عوام کے ہاتھ میں تھی ۔ صورتحال فروری 1917کے روس سے بڑی حد تک مشابہ تھی ۔ لیٹن نے فروری 1917کے انقلابی حالات کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا تھا کہ محنت کشوں کے اقتدار کرنے کی سب سے بڑی وجہ موضوعی عنصر کی کمزوری تھی۔

مصر کے محنت کش اور نوجوان انقلاب کے سکول میں تیزی سے سیکھ رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جوان کی بغاوت ڈھائی سال پہلے کی نسبت زیادہ بڑی ، تیز رفتار،باشعور اور منظم تھی، لیکن عوام میں تاحال سیاسی تجربے کی کمی ہے اور وہ انقلابی نظریات سے لیس نہیں ہیں ، بصورت دیگر انقلاب بہت جلد اور نسبتاً کم خون خرابے کے ساتھ فتح یاب ہو جاتا۔

فی الحال ایک ڈیڈ لاک کی صورتحال ہے اور اگر کوئی حریف مکمل فتح کا دعویٰ نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ فوج سماج سے بالاتر ہو کر اپنے آپ کو ثالث مطلق کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ، حالانکہ حقیقی قوت ابھی بھی سڑکوں پر موجود ہے۔ کچھ لوگوں کی جانب سے فوج پر اعتماد کا اظہار بیوقوفانہ خوش گمانی کے مترادف ہے ۔ انقلاب کو بوٹا پارٹ ازم سے سنجیدہ خطرات لاحق ہیں ۔ زندگی کے سکول سے سیکھے گئے سخت اسباق ہی فوج کے بارے میں خوش گمانی کو عوامی شعور سے کھرچ کر دور کریں گے۔

اخوان المسلمون کی رجعتی اور ردانقلابی حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن تحریک چوبکہ غیر منظم اور انتہائی خودرو تھی لہٰذا اقتدار پر قبضے کا انقلابی فریضہ مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ ایک طرف مذہبی رجعت پسند ردانقلابی بغاوت کی تیاری میں مصروف ہیں جوکہ خانہ جنگی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ دوسری طرف بورژوازی، جرنیل اور سامراجی قوتیں عوامی فتح کو چرا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی چالبازیاں کر رہے ہیں۔

انقلاب مرسی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب رہا لیکن یہ اتنا منظم اور مضبوط نہیں تھا کہ جرنیلوں اور بورژوازی کو اپنے ثمرات چوری کرنے سے روک سکے۔ تاریخ کا دھارا موڑنے کے لئے عوام کو مزید سخت اسباق سیکھنے ہوں گے اور تلخ تجربات سے گزرنا ہو گا۔ انقلابی حالات میں عوام بہت تیزی سے سیکھتے ہیں۔ دو سال اگر مصر میں لینن اور ٹراٹسکی کی بالشویک پارٹی جیسی کوئی سیاسی قوت موجود ہوتی تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی ، لیکن ایسی کوئی پارٹی پہلے سے موجود نہیں تھی  اور اب اسے انقلابی واقعات کی حرارت میں ہی تعمیر کرنا پڑے گا۔

تمام غیر ضروری اور حادثاتی عوامل سے صرفِ نظر، مشرقِ وسطیٰ اور عرب ممالک میں اٹھنے والی تمام تحریکوں کے عوامل مشترکہ ہیں۔ اس عہد میں دنیا ایک معاشی اکائی بن چکی ہے اور مختلف معیشتیں نہ صرف باہم جڑی ہوئی ہیں بلکہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے دنیا بھر میں ابھرنے والی عوامی تحریکوں میں بین الاقوامیت کے رجحان بڑھتے جا رہے ہیں۔ مصر اور برازیل جیسے کسی ملک میں انقلاب اگر سرمایہ داری کو اکھاڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ دنیا بھر کے استحصال زدہ عوام کے لئے ایک درخشاں مثال ہوگی۔ ایک کے بعد دوسرے ملک کے محنت کش اور نوجوان سرمایہ داری کے خاتمے کے لئے تاریخ کے میدان میں داخل ہوں گے۔ اس صورت حال میں یقینی طور پر دنیا بھر میں ایک نئے انقلابی عہد کا آغاز ہوگا۔

فی الوقت مصر میں تحریک اتار چڑھاو کے ساتھ جاری رہے گی۔ یہ عمل طویل عرصے تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مصری انقلاب نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں عوامی شعور پر اثرات مرتب کئے ہیں۔ 30 جون کے بعد مصری عوام ایک نئے جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ میدان میں آئے ہیں جس نے دنیا بھر میں محنت کش طبقے کو نئی شکتی اور حوصلہ عطا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مختلف ممالک اور خطوں میں نئی انقلابی تحریکوں کا ابھارنا گزیر ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند