تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بین المذاہب ڈائیلاگ: انتہا پسندی کے خاتمے کی کلید
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 رمضان 1434هـ - 29 جولائی 2013م KSA 21:51 - GMT 18:51
بین المذاہب ڈائیلاگ: انتہا پسندی کے خاتمے کی کلید

اسی ہفتے سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ورلڈ اسمبلی برائے مسلم یوتھ کی سالانہ افطار تقریب میں مملکت میں متعین دو اہم مغربی سفیروں نے خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے اسلام اور مغرب کے درمیان مفاہمت کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے بین المذاہب ڈائیلاگ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

الریاض میں متعین ترک سفیر احمد مختار گن نے کہا کہ ''عدم رواداری اور نسلی ،لسانی اور مذہبی بنیاد پر عدم برداشت کا رویہ جاری ہے اور یہ ہم سب کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ جدید دور کے امراض ہیں''۔انھوں نے عالمی سطح پر بقائے باہمی کے لیے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے شروع کیے گئے دو اہم اقدامات کا حوالہ دیا۔ایک تہذیبوں کا اتحاد اور دوسرا بین المذاہب ڈائیلاگ۔

اس موقع پر اطالوی سفیر ماریو بوفو نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''ہماری تہذیبوں کے درمیان پلوں کی تعمیر کی تلاش میں نوجوان اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس موقع پر میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے گذشتہ سال ویانا میں بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافتی ڈائیلاگ کا حوالہ دوں گا۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے کہا کہ اٹلی نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ ،مذہب کی آزادی اور بچوں اور خواتین کے تحفظ پر زوردیا ہے۔

یوتھ اسمبلی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صالح بن سلیمان الوہیبی نے بحران کے دوران انسانی امدادی تنظیموں کے کردار کو اجاگر کیا اور یہ بھی کہ ان تنظیموں نے مختلف عقیدوں اور نسلوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''مسلمانوں کی اکثریت یہ بات سمجھتی ہے کہ مغرب سے تعلق رکھنے والے بہت سے شرفاء اسلاموفوبیا کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ اس کے باوجود بہت سے مسلمانوں کو مغربی انتہا پسندوں کی جانب سے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ بین المذاہب تعلقات کو فروغ دیا جائے اور مسلم معاشروں اور مغرب کے درمیان مفاہمت کے پل تعمیر کیے جائیں۔سعودی عرب اس ضمن میں مہم کی قیادت کررہا ہے۔شاہ عبداللہ نے بین المذاہب مکالمے کو شروع کیا۔مزید برآں مغرب میں مذہبی لیڈر ابراہیمی عقیدوں کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے کام کررہے ہیں۔

روشن مستقبل کے لیے نئی حکمت عملی

یہ بہت ہی خوش کن بات ہے کہ دنیا میں بہت سے ائمہ ،علماء ،ربی اور دوسرے مذہبی عمائدین مشترکہ بنیادوں کی تلاش میں کردار ادا کررہے ہیں اور تمام مذاہب کے درمیان اعتماد اور احترام کا رشتہ تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مسلمانوں ،عیسائیوں اور یہود کے درمیان اختلافات کو قبول کرنے اور ان کے احترام کرنے سے متعلق ایک نئی حکمت عملی اپنا کر ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ کارروائیوں ، تنازعے اور کشیدگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے مسلم دنیا اور مغرب کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ نائن الیون کے بعد منافرت کی تعلیم اور ایک دوسرے کی توہین سے متعلق روایتی قصے کہانیوں اور باتوں کے خلاف جہاد کے لیے سامنے آنے والے ماہرین تعلیم ،لکھاریوں اور پبلشروں کے اتحاد کی مضبوط حمایت کی جائے۔

ان تمام اقدامات سے امید پیدا ہوتی ہے کہ اسلاموفوبیا کو پھیلنے سے روکنے اور مختلف مذاہب کے خلاف امتیازات کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔نیز بین المذاہب سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے کام کرنے والے باضمیر مذہبی قائدین کی حمایت کی بھی ضرورت ہے۔بین المذاہب جانکاری کے ذریعے مختلف مذہبی عقیدوں کی بہتر تفہیم کی جاسکتی ہے۔اسی طرح بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

سعودی عرب میں یوتھ اسمبلی برائے مسلم نوجوان جیسی تنظیموں کو ،جو شاہ عبداللہ کے بین المذاہب مکالمے کی حمایت کرتی ہیں،مزید تعلیم یافتہ اسکالروں اور میڈیا پروفیشنلز کی ضرورت ہے تاکہ امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلمانوں کے کردار کو نمایاں کیا جاسکے۔ 

عالمی مسلم اتفاق

سخت گیری (ریڈیکل ازم) اور انتہا پسندی بنیادی طور پر نظریاتی بحران ہیں،ان مسائل کو مسلم اسکالروں اور محققین کو زیادہ کھلے انداز میں طے کرنے کی ضرورت ہے۔انھیں مسلم امت کی امن اور عالمی بقائے باہمی کی جانب رہنمائی کرنی چاہیے۔ سعودی حکومت نے معاشرے میں انتہا پسندی سے نمٹنے اور اعتدال پسندی کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے بہت سے اہم اقدامات کیے ہیں۔

سعودی مملکت میں اسلام میں اعتدال پسندی ،امن اور رواداری کے فروغ کے لیے بہت سی بین الاقوامی کانفرنسوں اور فورمز کا انعقاد کیا گیا ہے۔ان میں سب سے اہم مکہ مکرمہ میں دسمبر 2005ء میں خصوصی اسلامی سربراہ اجلاس کا انعقاد تھا۔اس میں تمام مسلم ممالک نے تشدد ،انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کی تھی اور ڈائیلاگ ،رواداری اور باہمی احترام کی اقدار کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

مئی 2008ء میں شاہ عبداللہ نے مکہ میں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس برائے ڈائیلاگ کے موقع پر مختلف فرقوں اور نظریوں سے تعلق رکھنے والے مسلم اسکالروں سے ملاقات کی تھی۔اسلامی امور کی وزارت نے ملک بھر میں گمراہ کن عقائد اور نظریات کی بیخ کنی کے لیے سلسلہ وار کانفرنسوں کا انعقاد کیا تھا۔مزید برآں شہزادہ خالد الفیصل چئیر برائے سعودی اعتدال پسند حکمت عملی کا 2009ء میں آغاز کیا گیا تھا۔اس کا مقصد کمیونٹی کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ انتہا پسندی اور جنونیت کے کلچر کو مسترد کردے اور سعودی عرب کی اعتدال پسند حکمت عملی کو فروغ دے۔

آئیے اس ماہ مقدس میں تمام امن پسند لوگوں کے لیے دعا کریں کہ وہ سخت گیروں کے خلاف متحد ہوجائیں اور ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ہمیں یہ امید کرنی چاہیے کہ امن کے علمبردار اور ان کے اتحادی اور ان کے ساتھ مذہبی قائدین جذبہ خیرسگالی اور باہمی احترام اور ہماری آیندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

(ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ)

--------------------------------------

مصنفہ سمر فطانی جدہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے انگلش سیکشن میں چیف براڈ کاسٹر ہیں۔انھوں نے بہت سے ثقافتی اور مذہبی پروگرام متعارف کرائے ہیں۔وہ سعودی عرب کا دورہ کرنے والی متعدد نمایاں عالمی شخصیات کے انٹرویوز کرچکی ہیں۔انھوں نے سعودی عرب میں تعلقات عامہ اور سماجی آگاہی کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔وہ تین کتب ''سعودی ادراکات اور مغرب کے غلط تصورات'' ،''سعودی خواتین جدید دور کی جانب'' اور''سعودی چیلنجزاور اصلاحات'' کی مصنفہ ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند