تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اوباما کی تلاش میں !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 24 رمضان 1434هـ - 1 اگست 2013م KSA 19:31 - GMT 16:31
اوباما کی تلاش میں !

صدر اوباما کے غیر معمولی طرز قیادت خاص طور پر ان کی مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ ایشوز اور چیلنجز کے بارے میں حکمت عملی کا حال ہی میں اظہار ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے سابق صدارتی حریف سینیٹر جان مکین اور ان کے ساتھی لنڈسے گراہم سے مصر جانے کے لیے کہا ہے تاکہ وہ وہاں کے نئے حکمرانوں کو امریکا کی دونوں جماعتوں کا یہ پیغام پہنچائیں کہ وہ نئے نمائندہ سیاسی آرڈر کے لیے پیش قدمی کی رفتار تیز کریں۔

اس فیصلے کا اظہار سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے موقع پر کیا ہے۔ جان کیری نے مشرق وسطیٰ کے فریقوں کے درمیان امن بات چیت شروع کرانے کے لیے علاقے کے چھے دورے کیے اور ان کی خوشامد کرکے اور انھیں ڈرا دھما کر تین سال سے تعطل کا شکار امن بات چیت کے آغاز پر آمادہ کر لیا ہے۔ اس دوران صدر اوباما پس پردہ رہے ہیں۔ انھوں نے جب اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں سے مختصر ملاقات کی تو اس وقت بھی کوئی کیمرے نہیں تھے اور نہ صدر کی جانب سے کوئی اعلانات کیے گئے۔

صدر اوباما کے قیادت کے اس طرح کے انداز کا آغاز سنہ 2010ء میں ہوا تھا جب انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غیر لچک دار اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو مذاکرات پر آمادہ نہیں کرسکتے اور وہ انھیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کی سرگرمیاں معطل کرنے پر بھی مجبور نہیں کرسکے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اوول آفس میں تلخ ملاقات کے وقت صدر امریکا کو تنازعے کی تاریخ اور اس کو کیسے طے کیا جانا چاہیے، سے متعلق لیکچر دے ڈالا تھا۔ اوباما نے خیمے کو لپیٹ دیا اور اپنے خصوصی ایلچی جارج میچل کو ٹکڑے چننے کے لیے چھوڑ دیا۔

صدر اوباما کی مشرق وسطیٰ اور اس کے مسائل سے علاحدگی کو 2011-2012ء میں اس وقت تقویت ملی تھی جب انھوں نے یہ ادراک کیا کہ نام نہاد عرب بہار کے بطن سے سیاسی افراتفری، اتھل پتھل اور خانہ جنگیاں جنم لے رہی ہیں۔ سن 2009ء میں انھوں نے مشرق وسطیٰ کے تعلق سے خواہشات پر مبنی جامعہ قاہرہ میں اپنی مشہور تقریر کی تھی۔

خونی غسل

غیر مہمان نواز مشرق وسطیٰ میں صدر اور ان کے سنئیر معاونین مشرق وسطیٰ کے بازو کو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انھیں شامی مسئلے سے نمٹنے کے ناممکن مشن کا سامنا ہے۔ شام میں رونما ہونے والے المیے کے اس کے پانچ قریبی پڑوسی ممالک پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں حالانکہ ان کا استحکام امریکا کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ جب عراق کے حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو صدر اوباما نے اپنے نائب صدر جو بائیڈن کو منتشر ہوتے ملک کو جوڑنے کا فریضہ سونپا۔ امریکا نے اس ملک میں بہت خون اور آنسو بہائے اور خزانہ لٹایا ہے۔ عراق میں ہر خونی غسل کے بعد نائب صدر نے مختلف عراقی لیڈروں کو ٹیلی فون کالز کیں اور انھیں ضبط وتحمل سے کام لینے کی تلقین کی۔

صدر اوباما کی قاہرہ تقریر میں وضع کردہ مشرق وسطیٰ حکمت عملی کو ان کی سابقہ خارجہ سیکرٹری ہلیری کلنٹن نے بھی اپنایا تھا۔ ہلیری نے اپنے سابق بااعتماد دوست رچرڈ ہالبروک کو افغانستان، پاکستان کے تنازعے سے نمٹنے کی ذمے داری سونپی۔ جب ہالبروک کا انتقال ہو گیا تو سیکرٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن نے اس گرم ایشو کو نہیں اٹھایا اور معاملہ وائٹ ہاؤس کے سپرد کردیا۔

ہلیری کلنٹن نے آغاز میں عرب، اسرائیل امن میں حقیقی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ جارج میچل کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی غیر یقینی صورت حال جاری رہی تھی۔ کلنٹن نے بائیڈن کی عراق فائل کی ملکیت کی بھی حمایت کی تھی۔

اس انتظام سے ہلیری کلنٹن کو دوسرے امور پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا موقع مل گیا۔ اس سے ان کے 2016ء میں صدارتی امیدوار بننے کے امکان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا تھا۔ انھوں نے خواتین کو بااختیار بنانے، انٹرنیٹ کی آزادی جیسے ایشوز پر اپنی توجہ مرکوز کردی۔

جب شام میں ڈیٹھ مشین کے مہلوکین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی اور امریکی انٹیلی جنس سروسز نے اس امر کی تصدیق کردی کہ بشارالاسد نے اپنے ہی لوگوں کےخلاف کیمیائی ہتھیاروں اور اسکڈ میزائلوں کا استعمال کیا ہے، مصر گہری کھائی کی جانب جانے لگا اور عراق میں دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوگیا تو صدر اوباما نے ان تنازعات سے نمٹنے کے لیے زیادہ براہ راست اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی اپیلوں کی مزاحمت جاری رکھی۔

ایسا لگتا تھا کہ صدر اوباما نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے تعلق توڑ لیا ہے اور ان تنازعات سے انھوں نے دانشورانہ دلچسپی بھی لینا چھوڑ دی ہے۔ یہ یاد کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ صدر اوباما نے آخری مرتبہ کب عراق میں خونریزی، شام میں ہلاکتوں یا مصر میں افراتفری کے بارے میں گفتگو کی تھی۔

سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے فلسطینی، اسرائیلی مذاکرات کو بحال کر کے اہم مگر محدود کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں امن کاری کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ صدارتی قیادت کی مضبوط ، براہ راست اور غیر متزلزل مداخلت کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔

مگر حیرت ہے کہ جب ناگزیر غیرمنقولہ رکاوٹیں ظاہر ہوتی ہیں تو صدر اوباما سائے سے ظاہر ہوں گے اور وہ ایک فیصلہ کن لیڈر کا کردار ادا کرنے کے لیے نمودار ہوں گے۔

[ترجمہ:امتیاز احمد وریاہ]

--------------------------------------------------------

ہشام ملحم واشنگٹن میں العربیہ کے بیوروچیف ہیں۔ وہ لبنان کے ایک موقر روزنامے 'النھار" کے نامہ نگار بھی ہیں۔ ان کی تحریریں ادبی جریدے "المواقف" سے لے کر امریکی روزنامے "لاس اینجلس ٹائمز" تک میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ''امریکا، عرب تعلقات، سیاسی اسلام، عرب، اسرائیل تنازعہ، عرب دنیا میں میڈیا اور امریکی میڈیا میں عرب تشخص'' ان کے خاص موضوعات ہیں۔ ان سے اس ایڈریس پر رابطہ کیا جاسکتا ہے: Twitter: @Hisham_Melhem
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند