تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وسطی ایشیا کا ایک جائزہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 9 ربیع الثانی 1442هـ - 25 نومبر 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 25 رمضان 1434هـ - 2 اگست 2013م KSA 18:10 - GMT 15:10
وسطی ایشیا کا ایک جائزہ

 یہ دسمبر 1991ء کی سرد رات تھی جب میں وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع اشک آباد، جو ترکمانستان کا دارالحکومت ہے، سے کچھ فاصلے پر بنے ہوئے ائیر پورٹ پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے سابقہ رہنما، جو آزاد شدہ وسط ایشیائی ریاستوں کے حکمران بننے والے تھے، کی آمد متوقع تھی۔ جب ان اہم شخصیات کا جہاز اترا تو گارڈ آف آنر اور ملٹری بینڈ نے انکا استقبال کیا جبکہ نوجوان لڑکیاں، جنہوں نے برف سے ٹھٹھرے ہوئے پھولوں کے گلدستے تھامے ہوئے تھے، سردی سے کانپتے ہوئے رقص کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

یہ دنیا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا۔ اس سے چار دن پہلے روس کے صدر بورس یلسٹن اور یوکرائن اور بیلارس کے رہنما سوویت یونین کی تحلیل کے معاہدے پر دستخط کرچکے تھے۔ اس عقربی ملک کی تحلیل سے اچانک پانچ آزاد اور خودمختار ریاستیں دنیا کے نقشے پر ابھر رہی تھیں لیکن ابھی تک کسی نے وسطی ایشیا کے ان رہنمائوں سے مشورہ نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ رہنما اشک آباد آرہے تھے۔ انکے چہرے پر پریشانی اور غم و غصے کے ملے جلے تاثرات ہویدا تھے کیونکہ انکو احساس ہو رہا تھا کہ انکو سوویت یونین نے چھوڑ دیا ہے، چنانچہ وہ اس سے جدا ہونے کے نتائج سے خوفزدہ تھے۔ تمام رات وہ رہنما بیٹھ کر اپنے مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ یہ لوگ صدیوں کی تاریخ رکھتے تھے اور طاقتور جنگجووں ، جیسا کہ چنگیز خان، امیر تیمور اور بابر کی نسل سے تھے، اس لیے انکو یوں خوفزدہ دیکھ کر عجیب سا احساس ہوتا تھا۔ بات یہ تھی کہ یہ ریاستیں ہزاروں حوالوں، جیسا کہ بجلے، سڑکوں اور ریل کے نظام اور ٹیلی فون نیٹ ورک وغیرہ، سے سوویت یونین سے وابستہ تھیں۔ وسطی ایشیا ہی سوویت کی صنعتوں کو خام مال، جیسا کہ کپاس، گندم، دھاتیں، تیل اور گیس فراہم کرتا۔ یہ صنعتیں زیادہ تر سوویت یونین کے مغربی علاقوں میں واقع تھیں۔

اب جبکہ یلسٹن نے انہیں بیک جنبشِ قلم خود سے علیحدہ کر دیا تھا تو انکو معاشی گراوٹ کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ اس رات ترکمانستان کے نائب وزیرِ خارجہ نے مجھے بتایا۔ "ہم اپنی آزادی کا جشن نہیں منا رہے ہیں، ہم اس پر ماتم کر رہے ہیں۔ " اگلی صبح ان رہنمائوں نے ایک متفق اعلامیے میں کہا کہ وہ نئی قائم ہونے والی "آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ" میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان ریاستوں کو خدشہ تھا کہ وہ خود اپنے وسائل پر تکیہ کرتے ہوئے اپنے وسائل سے نبرد آزما نہیں ہوسکیں گی۔ ان میں رہنے والے اکاون ملین افراد مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں بہت سوں نے روس کی طرف ہجرت شروع کردی تھی۔ اس سے پہلے کبھی آزاد ہونے والی ریاستوں کے عوام کو اتنا خوفزدہ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار نہیں دیکھا گیا تھا۔

اس واقعے کے بائیس سال بعد آج جب ہم وسطی ایشیا کا جائزہ لے رہے ہیں تو ہمیں یہ پسِ منظر جاننے کی ضرورت ہے۔ آج یہ خطہ ایک اور اہم تبدیلی سے گزر رہا ہے کیونکہ ایک عشرے تک جاری رہنے والی خونریز جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے انخلا کرنے والی ہیں۔ ان بائیس سالوں میں ان وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی بہت سے مصائب سے گزرنا پڑا ہے۔ تاجکستان میں خانہ جنگی ہوئی جبکہ دیگر ریاستوں میں معاشی بدحالی کی وجہ سے پرتشدد احتجاجی مظاہروں، جرائم اور قتل و غارت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسکے باوجود، یہ ریاستیں اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کچھ ریاستیں توانائی کے وسائل سے مالامال ہیں اور وہ خوشحالی کی طرف قدم بڑھا رہی ہیں۔

نائن الیون کی دہشت گردی اور اسکے نتیجے میں افغان سرزمین کے ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کا محاذِ جنگ بننے کی وجہ سے اس علاقے کی معروضات تبدیل ہو رہے ہیں۔ چونکہ ان ایشیائی ریاستوں کی سرحدیں افغانستان، چین اور روس کے ساتھ لگتی ہیں اس لیے ان طاقتوں کو ان ریاستوں میں ایک نئی دلچسپی پیدا ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابتک ان ریاستوں کے رہنمائوں نے ایک طاقت کا دوسرے کے خلاف ساتھ دیتے ہوئے بڑی چالاکی سے قرضہ جات میں رعایت، سرمایہ کاری کے فروغ اور ہتھیار اور اپنے اڈے دے کر مالی فوائد حاصل کیے ہیں؛ تاہم اب اس خطے میں حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔

جیسے 1991ء میں یہ ریاستیں ایک عظیم تبدیلی کے عمل سے گزری تھیں، اب بھی ایک اور عقربی تبدیلی متوقع ہے۔ کیا امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان افغانستان کو فتح کرلیں گے اور وہ وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اسلامی گروہوں ، جن کی القاعدہ سے وابستگی ہے، کا راستہ کھول دیں گے؟ اسکا مطلب ہے کہ انکا پاکستان کے قبائلی علاقوں پر دبائو بڑھ جائے گا۔ اسی طرح کیا عرب دنیا میں بپا ہونے والی بیداری اور احتجاج کی لہر اس خطے کی طرف بھی بڑھنا شروع ہوجائے گی؟ اس سے پہلے کرغستان میں مارچ 2005ء اور اپریل 2010ء میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں دو صدور کو اپنے منصب سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ کیا یہاں کی کمزور ریاستیں روس اور چین سے روابط بڑھا لیں گی؟ کیا اس خطے کی سب سے اہم تنظیم "ایس سی او" [شنگھائی تعاون تنظیم] انکو عدم استحکام سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی یا یہ ریاستیں پہلے کی طرح سنجیدہ مالی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہیں گی؟

ان سوالات کا تاحال جواب سامنے نہیں آیا؛ تاہم عالمی دانشور اور خطے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین وسطی ایشیائی ریاستوں پر غیر معمولی حد تک اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔ اس وقت بھی چین ہی ان ریاستوں میں سب سے اہم معاشی قوت کے طور پر کام کر رہا ہے؛ تاہم ایسا کرتے ہوئے چین نے ایک احتیاط کے ان ریاستوں برتی ہے کہ کہیں اس کے مغربی صوبے یغور سنکیانگ میں مقیم مسلمان انتہا پسند گروہ میں موجود ایسے گروہوں سے روابط نہ ہونے پائیں کیونکہ یہ گروہ چین سے علیحدگی کے لیے جد و جہد کر رہا ہے۔ اگر وسطی ایشیائی جنگجو ان کی مدد کرتے ہیں تو چین کے لیے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔

انہوں نے مائو حکومت کی سختی سے بچنے کیلئے فرار ہوکر وسطی ایشیا میں پناہ لی تھی اور وہاں ان کی بہت بڑی تعداد انکے ساتھ نسبتاً اچھا سلوک کیا گیا تھا۔ 1991ء کے بعد چین نے اپنی پچاس کی دھائی میں اپنی ہمسایہ ریاستوں قازقستان، تاجکستان اور کرغستان پر دبائو ڈالا تاکہ وہ ان باشندوں کو اپنی حدود سے باہر نہ نکلنے دیں۔ ان ریاستوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے چین نے انکے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات بھی طے کئے جو کئی عشروں تک اس کے سوویت یونین کے ساتھ جاری رہے تھے۔ ان اقدامات کے باوجود سنکیانگ میں مسلمان گروہ کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، یہاں تک کہ چین کو مسلمانوں پر سختی کرنا پڑی۔ اسکے نتیجے میں چین میں تو سکون ہوگیا ہے لیکن شنید ہے کہ انکے بہت سے اراکین افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے ساتھ مل کر فوجی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور وہ پرتشدد کاررائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔

گزشتہ ایک دھائی کے دوران چین نے وسطی ایشیا میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اسوقت چین ان ریاستوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھا رہا ہے۔ اس نے بحیرہِ کیسپین میں آئل پائپ لائن بچھاتے ہوئے قازقستان کے ایک چوتھائی تیل پراجارہ داری حاصل کرلی ہے، جبکہ ترکمانستان کی گیس کا اہم خریدار بھی چین ہی ہے۔ 2002ء میں چین کا ان ریاستوں کے ساتھ رجارتی حجم ایک بلین ڈالر سے زیادہ نہیں تھا؛ تاہم 2006ء میں یہ بڑھ کر دس بلین ڈالر تک پہنچ گیا، 2010ء میں چین کا انکے ساتھ تجارتی حجم اٹھائیس بلین ڈالر تک تھا جبکہ اسی مدت کے دوران ان ریاستوں کا روس کے ساتھ تجارتی حجم صرف پندرہ بلین ڈالر تھا۔ دراصل چین ان معاشی روابط کو توڑنے میں کامیاب ہوگیا ہے جو وسطی ایشیائی ریاستوں کو روس کے ساتھ جوڑے ہوئے تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے یہاں کے تیل اور گیس کے ذخائر پر روس کی اجارہ داری کو ختم کر دیا ہے۔

وسطی ایشیا کی یہ ریاستیں چین کو توانائی کے حوالے سے بہت تحفظ فراہم کرتی ہیں کیونکہ سمندر کے راستے آنے والے تیل کو کسی بھی ہنگامی حالت میں امریکی بحری قوت روک سکتی ہے لیکن یہ پائپ لائنز چین کو اس خوف سے بے نیاز کر دیتی ہیں ، تاہم چین کے لیے یہ دو جمع دو چار کا کھیل نہیں ہے کیونکہ ان ریاستوں میں اس کے مخالف جذبات بھی پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ بات تیسری دنیا کی تمام ریاستوں کے لیے یکساں ہے ۔ چین کو ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خود مالی فوائد حاصل کرتا ہے لیکن اس کے عوض قابلِ ذکر مدد نہیں دیتا۔ چینی کمپنیاں اپنے مزدور لاتی ہیں، اپنا ساز و سامان استعمال کرتی ہیں، وہ مغربی کمپنیوں کے برعکس مقامی لیبر نہیں رکھتی ہیں اور نہ ہی کسی کو مطلوبہ ٹریننگ فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مقامی فیکٹریوں میں تیار ہونے والی پراڈکٹس بھی نہیں خریدتی ہیں۔ اس سے اس ریاست کے انفراسٹرکچر کو ترقی دینے میں چین کا کردار تقریباً صفر ہوتا ہے۔

چین کے اس رویے کے علاوہ کچھ سازش کی تھیوریاں بھی گردش میں ہیں کہ چین وسطی ایشیائی ریاستوں میں وسیع پیمانے پر زرعی زمین خرید کراپنے لاکھوں کسانوں کوآباد کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ان ریاستوں کے رہنما چین کے لیے دیدہ ودل فرشِ راہ کیے ہوئے ہیں، لیکن یہاں کے لوگ چین کے بڑھتے ہوئے اثر سے خائف ہیں۔ اس کے علاوہ ان ریاستوں کے لوگ چین کے اس رویے کو بھی اچھا نہیں سمجھتے کہ وہ یہاں کے حکمرانوں سے معاشی اصلاحات، انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتا ۔ اس کے برعکس مغربی ممالک ان معاملات کو اپنے تعلقات میں سرفہرست رکھتے ہیں۔

"انٹر نیشنل کراسس گروپ" کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ، ’’وسطی ایشیا میں چین کے مسائل ‘‘، کے مطابق: "چین وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنے روایتی طریقوں سے تجارت اور سرمایہ کاری کو دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسے مقامی آبادی کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔‘‘ اس بڑھتے ہوئے ادراک کے باوجود چین افغانستان، جس کے ساتھ اس کی وخان کے مقام پر پچاس کلومیٹر سرحدی پٹی لگتی ہے، کے لیے بھی ایسی ہی روایتی پالیسی رکھتا ہے۔ گذشتہ ایک عشرے سے اس نے افغانستان کو سیکورٹی یا انفراسٹرکچر کے حوالے سے کوئی مدد فراہم نہیں کی ہے۔ گذشتہ بارہ سالوں میں اس نے افغانستان کو صرف دو بلین ڈالر معاشی امداد فراہم کی ہے، جبکہ اسی دوران بھارت، جس کی معاشی حالت چین کے مقابلے میں بہت پست ہے، افغانستان میں کہیں زیادہ سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اس سرد مہری کے باوجود اب جبکہ غیر ملکی طاقتیں افغانستان سے جانے والی ہیں، چین افغانوں سے روابط بڑھا رہا ہے تاکہ یہاں سے خام مال حاصل کر سکے۔ اس ضمن میں چین نے کابل کے نزدیک ایانک کاپر مائینز میں ساڑھے تین بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ شمالی افغانستان میں واقع تیل کے میدانوں کے لیے بھی سرمایہ کاری کی پیش کش کررہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خام مال کی تجارت سے افغانستان کو درکار مالی تحفظ حاصل ہو گا اور اس جنگ زدہ ملک کی عوام کچھ سکھ کا سانس لے گی ، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مکمل امن ہو ورنہ چینی کمپنیاں معدنیات کے لیے کھدائی نہیں کر سکیں گی۔ اس کے لیے چین کو 2014 کا انتظارکرنا پڑے گا لیکن اس کے بعد بھی افغانستان میں قیامِ امن کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

چین نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو ایس سی او (شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن) میں شامل کیا ہواہے۔ یہ ان ممالک کے لیے سب اہم کثیر ملکی تنظیم ہے۔ اس کی بنیاد 1996 رکھی گئی۔ اس میں چین اور روس کے علاوہ چار وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں(ترکمانستان اس کا رکن نہیں ہے) جبکہ ہمسایہ ریاستیں، پاکستان ،انڈیا اور ایران، بھی اس کا رکن بننے کی کوشش کررہی ہیں۔ بہت سے مغربی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ایس سی او صرف کاغذائی کاروائی کی حد تک ہی تنظیم ہے کیونکہ اس میں شامل ممالک وہ ہیں جو دھشت گردی کے خلاف مشترکہ فوجی کاروائی نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ان میں اکثر کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کے لیے تیار نہیں۔ اس تنظیم کا کوئی فوجی ہدف ہویا نہ ہو، چین نے اس کے ذریعے اپنے بنیادی مقصد کاحصول ممکن بنا لیا ہے۔ اس تنظیم کا ماٹو… ’’دھشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کا خاتمہ‘‘ ہے۔ اس طرح چین نے اپنے سب سے بڑے دردِ سر یغور کے مسلے کو ایک طرح سے دبا دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کو عالمی سطح پر القاعدہ سے اتنی تشویش نہیں جتنی یغور سے ہے۔

وسطی ایشیائی ریاستیں روس، ترکی اور Caucasus کو تجارت کے لیے راہداری فراہم کرتی ہیں اوران ریاستوں میں چین کا اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اب چین ہی افغانستان اور ان ریاستوں میں اپنے تجارتی مقاصد کو آگے بڑھائے گا۔ اس طرح دنیا کا یہ بہت بڑا خطہ اس کے سفارتی حلقہ اثر میں شامل ہوجائے گا۔ یہ سب ٹھیک ہے ،لیکن ایک بنیادی سوال اپنے جگہ پر رہے گا کہ کیا چین یہاں کی حکومتوں پر معاشی اصلاحات ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے دباؤ ڈالے گا؟یا پھر اس کابنیادی مقصد اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مالی فوائد کا حصول ہی ہوگا؟کیا یہ افغانستان کو طویل جنگ کے بعد ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں مدد دے گا؟ فی الحال چینیوں نے افغانستان میں قیامِ امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کسی قسم کا بھی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چین کا پاکستان پر بھی بہت اثر ورسوخ ہے لیکن اس نے کبھی پاکستان پر بھی دباؤ نہیں ڈالا کہ وہ اپنے ہاں مقیم طالبان کے خلاف کاروائی کرے۔ اسی طرح اس نے ایس سی او کے پلیٹ فارم سے کسی ایجنڈے کا بھی اعلان نہیں کیا کہ2014 ، جب نیٹو اور امریکی افواج افغانستان سے انخلا مکمل کرلیں گی، کے بعد ان کا لالحہ عمل کیا ہوگا؟ اگر دیکھا جائے تو اس تنظیم میں شامل ریاستوں میں سے صرف چین کے پاس ہی وہ معاشی قوت ہے جو افغانستان میں قیامِ امن میں سود مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن معدنیات نکالنے کے ساتھ ساتھ کیا چینی رہنما اس بات کی ذمہ داری اٹھائیں گے؟

سن2011 سے امریکا نے بھی وسطی ایشیا ئی ریاستوں کے ساتھ ’’سلک روٹ اسٹرٹیجی‘‘ پر کام کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مقصد اس خطے میں وسیع پیمانے پر انفرا سٹرکچر تعمیر کرنا تھا۔ اس میں سب سے اہم منصوبہ ترکمانستان سے پاکستان تک گیس پائپ لائن بچھانا تھا۔ اس پائپ لائن کو افغانستان کے جنوبی علاقوں سے گزرنا تھا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں ریلوے سسٹم کی تعمیر اور قیرغستان سے پاکستان اور افغانستان میں بجلی کی سپلائی کے منصوبے بھی شامل تھے۔ تاہم یہ سٹریٹجی اپنی موت مرگئی کیونکہ اس کی کامیابی کا دارومدار طالبان کے ساتھ پر امن مذاکرات کے علاوہ خطے کے اہم ممالک، جیسا کہ چین، انڈیا، ایران، سعودی عرب، پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے رویے اور تبدیل ہوتے ہوئے عالمی حالات پر تھا۔ اس ضمن میں روس نے بھی متضاد پالیسی اپنائے رکھی۔ اس نے وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان میں امریکا کو فوجی اڈے قائم کرنے دیے۔ پھر اس نے ان ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدے منسوخ کردیں۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ 2014 کے افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج مکمل طو ر پر چلی جائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے یہ بھی خدشہ ہے کہ ان کے جانے کے بعد طالبان اور ڈرگ مافیا پھر سے سر اٹھالیں گے۔

آج سے بیس سال پہلے تک یہ ریاستیں تو امریکا کے ساتھ کوئی معاہدے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں لیکن اب روسی دباؤ کے باوجود ان کی امریکا کے لیے نرم پالیسیاں رہی ہیں۔ آج یہ ریاستیں کھلے عام روسی اثر کو رد کرتے ہوئے چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھاتی نظر آتی ہیں۔ سوویت تسلط سے آزاد ہونے کے بعد ان ریاستوں میں جمہوری اقدار کا فروغ سب سے اہم مرحلہ تھا۔ اس میں پیش رفت جاری ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ معاشی خوش حالی کے ساتھ یہاں کے لوگ جمہوری روایات کا استحکام بھی دیکھیں گے۔ اس ضمن میں سب سے اہم کردار یہاں کے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔ فی الحال وہ آپس میں تقسیم، بلکہ تصادم کی راہ پر ہیں۔ اگر وہ آپس میں امن اور تعاون کی فضا قائم کر لیتے ہیں تو یہ خطہ دنیا کے مستقبل کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'دنیا'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند