تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یو ٹیوب اور وزارت آئی ٹی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 6 شوال 1434هـ - 13 اگست 2013م KSA 15:46 - GMT 12:46
یو ٹیوب اور وزارت آئی ٹی

 میں نے پندرہ جولائی کو ”دی نیوز“ میں اور پھر بعدازاں روزنامہ ”جنگ“ میں ایک کالم لکھا تھا جس میں ، میں نے یوٹیوب کی پابندی کو بلا جواز قرار دیا تھا اور اس پر پابندی کو برقرار رکھنے کو ایک بے معنی عمل قرار دیا تھا، جس کے بعد وزیرمملکت انوشہ رحمان کی مجھے فون کال آئی اور اس معاملے کے بارے میں حکومتی موقف بیان کرنے کیلئے انہوں نے اپنے دفتر میں ملاقات کی دعوت دی ۔ میں پہنچا ٰتو انکی وزارت کے حوالے سے مجھے بہت ساری نئی چیزوں کا انکشاف ہوا جہاں انہوں نے اقرار کیا کہ خود انکے یوٹیوب استعمال نہ کرنے سے انکے لئے انٹرنیٹ کا تجربہ اور آگاہی محدود ہوگئی ہے۔

وہاں ان سے ملاقات کے بعد یہ انکشاف بھی ہوا کہ کسی بھی ویب سائٹ کو چلنے یا اس پر پابندی کا فیصلہ آئی ٹی کی وزارت کا وزیر نہیں بلکہ بین الوزارتی کمیٹی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے دو ممبران وزارت آئی ٹی سے ہوتے جبکہ دیگر ممبران کا تعلق وزارت داخلہ ، سکیورٹی ایجنسیوں اور حکومت کے کئی دوسرے اداروں سے ہوتا ہے اور وزیر مملکت نے خود بھی اس بات کا اقرار کیا کہ وزارت کے اعلیٰ افسران کی طرف سے آگاہی سے قبل وہ خود بھی اس بات سے لاعلم تھیں۔ بین الوزارتی کمیٹی (آئی ایم سی) کا قیام 2006ء میں وزیراعظم شوکت عزیز کے کہنے پر عمل میں لایا گیا، جب قابل اعتراض کارٹون کی اشاعت ہوئی تھی ،آئی ایم سی کا کام ویب سائٹس سے متعلقہ امور کو دیکھنا اور انہیں سنسر کرنا تھا اور یوں مجھے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یوٹیوب کے حوالے سے افسر شاہی کی روایتی رکاوٹوں کا عمل دخل بھی ہے۔

آئی ایم سی یوٹیوب کو کھولنے میں تذبذب کا شکار رہی، کیونکہ ایسا کوئی راستہ نہیں تھاکہ وہ کسی بھی ویڈیو تک رسائی کے تمام لنکس کو بلاک کردے۔ کیونکہ تمام لنکس پر پابندی کے لئے ناکامی کے ایک سے زائد پہلو موجود ہیں سب سے پہلے تو گوگل پاکستان میں اپنے آپریشن کو مقامی طور پر نہیں رکھناچاہتا کیونکہ اس سے گوگل کو پاکستانی حکومت کے تمام قانون و ضوابط کو ماننا پڑے گا ۔ لہٰذا گوگل انتظامیہ نے گوگل میں پاکستانی ورژن دینے سے انکار کیا حالانکہ گوگل کی مین سائیٹ کا مقامی ورژن پاکستان میں دستیاب ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی قابل اعتراض مواد کو بلاک کرنے کیلئے نیٹ پر اسکی ہر کاپی کو تلاش کرنا ہوگا۔ یعنی اگر کسی بھی قابل اعتراض مواد کی ایک سو ویڈیوز ہیں تو انہیں بلاک کرنے کیلئے ایک بڑی تعداد میں افرادی قوت اور وقت درکار ہے، جبکہ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ وہی ویڈیو دوبارہ اپ لوڈ کردی جائے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی ویب سائٹ بغیر سنسر کے ہی ہوتی ہے اور میں نے خود وہی ویڈیو بغیر کسی پراکسی کے کھولی، لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی قانون و ضابطہ عوام کو شامل کئے بغیر قابل عمل نہیں ہے، لوگوں کو چاہئے کہ وہ جب بھی ایسا کوئی مواد دیکھیں تو فوری متعلقہ ادارے کو رپورٹ کریں۔

تیسرا مسئلہ اداروں کا بحران ہے، پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس کا اجراء پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے (پی ٹی اے) کے ذریعے جاری کئے جاتے ہیں، پی ٹی اے کیبنٹ ڈویژن کے زیر اثر ہے اور وہ اس حوالے سے وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کو جواب دہ نہیں، اس حوالے سے وزارت اسے صرف پالیسی کے بارے میں ہدایات دے سکتی ہے، پی ٹی اے نے اس حوالے سے وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کی مدد کی لیکن پی ٹی اے کے اندر گورننس کا بحران ہے کیونکہ نہ ہی اس کے پاس چیئرمین ہے اور اس کے ممبران کی تعداد بھی کم ہے لہٰذا پی ٹی اے نے اس حوالے سے مدد کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کے پاس صرف دو افراد ہیں جو اس معاملے کیلئے تعینات ہیں اور ان کے پاس نہ ہی وسائل ہیں اور نہ ہی وقت ہے کہ وہ اس مواد کو بلاک کرسکیں لہٰذا وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن نے سنسر شپ کی جانب سے جو پالیسی ہدایات جاری کی تھیں ان پر عملدرآمد 2011ء کے بعد رک گیا، ایسا کرنے سے یو ٹیوب کے کھلنے میں مشکلات پیش آئیں۔

چہارم، پاکستان میں مواد سے متعلق کوئی واضح قانون یا طریقہ کار موجود نہیں، یہاں ایک طریقہ کار اور پالیسی کی ضرورت ہے جو بتائے کہ ایک ویب سائٹ کو ایک ویڈیو کی وجہ سے ایک سال تک بند کیوں نہیں کیا گیا، یورپ میں ایسے معاملات پر باقاعدہ کام کیا جاتا ہے انہوں نے بچوں کو فحش ویب سائٹس تک رسائی روک دی ہے اور ایک یہ کام ہمارے ملک میں ابھی تک مکمل طور پر نہیں ہوسکا ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن اس مسئلے کا حل نکالنے کیلئے کام کر رہی ہیں، انوشہ رحمان کا کہنا ہے کہ جب میں نے اپنی ذمہ داریاں بطور وزیر مملکت سنبھالیں تو اگلے ہی روز میرے بچوں نے مجھ سے کہاکہ یوٹیوب کھول دیں جس پر میں نے انہیں دوسرے روز بتایا کہ یہ میرے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے دوحصے ہیں پہلا یہ کہ وہ تمام ویڈیوز جن میں توہین رسالت یا دوسرا غیراخلاقی مواد موجود ہے کو بلاک کردیا جائے اور ایسا کرنے کیلئے ہم نے گھنٹوں اس پر کام کیا ہے اور اس میں ہمیں کامیابی بھی ملی ہے اور جیسے ہی یہ ہو جائے گا اور ان کے مطابق یہ کام تقریباً ہوچکا ہے، وہ آئی ایم اسی سے کہہ دیں گی کہ یو ٹیوب کو کھول دیا جائے، اس کے بعد دوسرا کام شروع ہوگا جس میں لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کیا جائے گا جو مشکل ہے ، انٹرنیٹ کو پرنظر رکھنا بہت مشکل ہے ،کیونکہ یوٹیوب پر ہر ایک منٹ میں100 گھنٹوں پر مشتمل ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

ہمیں کم از کم 90,000 لوگوں پر مشتمل ٹیم درکار ہے جو چوبیس گھنٹے ہر روز اپ لوڈ ہونے والی ویڈیوز پر نظر رکھے، لوگوں کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایسے مواد کی رپورٹ فوری طور پر ہمیں کریں تاکہ ہم اسے بلاک کردیں نہ کہ وہ گلیوں اور سڑکوں پر احتجاج شروع کردیں اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچائیں،

حیران کن بات یہ ہے کہ ہم نے صرف ایک ویب سائٹ اور ایک ویڈیوز کو بلاک کرنے کیلئے اتنی توانائی اور اتنے وسائل استعمال کرڈالے، ایسی کئی اور ویب سائٹس اور ویڈیوز ہونگی ہم سارے انٹرنیٹ کو بلاک نہیں کرسکتے۔ لہٰذا ہمیں اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا، ہر چیز کو ہم بغیر دیکھے بلاک نہیں کرسکتے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ایک دن سارا انٹرنیٹ ہی بند کرکے بیٹھ جائیں، ایک اور بات جو میں واضح کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ یوٹیوب کھول دیا جائے جن کا کوئی مخصوص ایجنڈا نہیں ہے یہی اصل لوگ ہیں جو اس سائٹ سے سیکھتے ہیں، جو اپنا اظہار اس سائٹ کے ذریعے کرتے ہیں اور جو معلومات اس سائٹ پر شیئر کرتے ہیں یہ لوگ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کا حق ہے کہ انہیں معلومات تک رسائی دی جائے جو ان کیلئے فائدہ مند ہے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند