تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
زرداری سیاسی جماعت کے عہدیدار نہیں بن سکتے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 5 ذیعقدہ 1434هـ - 10 ستمبر 2013م KSA 10:23 - GMT 07:23
زرداری سیاسی جماعت کے عہدیدار نہیں بن سکتے

سابق صدر آصف علی زرداری دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 62 اور63 کے مطابق سروس آف پاکستان کے زمرے میں آتے ہیں۔ لہٰذا وہ سبکدوشی کے بعد دو سال تک 8 ستمبر 2015ء تک کسی سیاسی سرگرمیوں میں نہ حصہ لے سکیں گے۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کے آرٹیکل 3 تا 5 وہ کسی سیاسی جماعت کے عہدیدار بننے کے بھی اہل نہیں ہوں گے کیونکہ جو اُمیدوار قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اہل نہ ہو وہ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں بن سکتا۔ چونکہ مسٹر آصف علی زرداری سروسز آف پاکستان کے تحت پانچ سالہ آئینی معیاد پوری کرکے صدارت کے عہدے سے سکبدوش ہو گئے ہیں۔ اس لئے وہ اب آئندہ دو سال تک پاکستان پیپلزپارٹی یا کسی بھی دوسری جماعت کے سربراہ یا شریک چیئرپرسن حتیٰ کہ کسی بھی عہدے پر فائز ہونے کے آئینی طور پر اہل نہیں ہیں۔

پاکستان کے سبکدوش ہونے والے صدر آصف علی زرداری کے پانچ سالہ دور میں کارکردگی، فیصلوں، اقدامات اور الزامات کے حوالہ سے ان کی بطور صدر کارکردگی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں منافقت کی عمدہ مثال رہی۔ جن سیاستدانوں نے ان سے فائدے لئے اب وہ ان سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے عہدے کی مدت پوری کی، دولت، کرپشن اور پورے نظام کو مفلوج کرنے کے لئے بطور صدر انہوں نے اِسی نظام اور ملک سے جو قیمت وصول کی اور جو رعائتیں انہوں نے دی وہ غیر معمولی تھیں۔سابق صدر زرداری نے اربوں روپے کی کرپشن کو وقار اور منصب کی علامت بنا دیا اور جن بیوروکریٹس ، ارکانِ اسمبلی، کابینہ کے ارکان، نااہل دوستوں نے کروڑوں روپے کی ہیرا پھیری کی انہیں حقیر سمجھا گیا۔

آصف علی زرداری اسی پورے نظام کو چلائے رکھنے والے نام نہاد جمہوری رہنما کے طور پر اپنی کامیابیوں پر تعریف و توصیف کا دعویٰ کرنے والے پہلے صدر تھے انہوں نے جو کچھ کیا وہ ہر سمجھوتے کر کے اپنے آپ کو اقتدار میں رکھنے کا کام تھا جو چاہے اس نظام کو کچھ بھی نقصان ہوتا رہے۔ طرز حکمرانی انتہائی خراب شکل اختیار کر گیا۔ تمام نظام تلپٹ ہوتا چلا گیا اور ملک کو بری حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ مسٹر زرداری کا اقتدار میں لانے کا منصوبہ صدر بش کی پاکستان میں انتخابی پالیسی کا حصہ تھی۔ اور صدر بش اور بعض عرب ممالک کے رویے کو سابق صدر پرویز مشرف سمجھ نہ سکے اور اپنے ان ساتھیوں کی یقین دہانیوں کے دام فریب میں آکر این۔آر۔او کے معاہدے کر بیٹھے۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے مسٹر آصف علی زرداری نے آئندہ پانچ سال سیاست میں ملوث نہ ہونے اور اپنے تحفظ کے لئے نواز شریف کے رحم طلب کرنے صحیح فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ چند سال زرداری کوجسمانی اور مالی طور پر اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ اپنے خاندان اور اثاثوں کو بچانے کیلئے یہ ایک طویل جنگ ہو گی۔ اس جنگ میں انہیں غنویٰ بھٹو، فاطمہ بھٹو اور جونئیر ذوالفقار علی بھٹو کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

پانچ ستمبر 2013ء کو سبکدوش ہونے والے صدرآصف علی زرداری کے اعزاز میں وزیراعظم نواز شریف نے جو ظہرانہ دیا اسے اگر مفاہمتی سیاست کے ساتھ ساتھ این۔آر۔او معاہدہ کی پاسداری بھی شامل تھی۔ دونوں نام نہاد روائتی حریف اس ظہرانے میں شیروشکر نظر آئے۔ انہوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں ایک دوسرے کو خراجِ تحسین کو ایک طرح سے اعتراف حقیقت بھی کہا جاسکتا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جس انداز کی محاذ آرائی ہوتی رہی ہے اور دونوں جماعتوں کی قیادتیں واشگاف الفاظ میں ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے جو الزامات لگاتی رہی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ مگر 5 ستمبر2013ء کو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ یہ ساری محاذ آرائی ایک طے شدہ منصوبہ کا حصہ تھی۔ مسٹر آصف علی زرداری اور نوازشریف نے جو تقاریریں کیں۔ اس سے نواز شریف کے حامیوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ اصولی طور پر نواز شریف کو اس ظہرانے میں تقاریر نہیں کروانی چاہیے تھی۔ خاموشی سے سرکاری ضیافت میں پھولوں کے گل دستے اور تحائف کا تبادلہ ہی کیا جاتا اور بعد ازاں غیر سرکاری گپ شپ کا انتظام کیا جاتا۔ قوم کو حیرت زدہ تقاریر کا بین السطور لب لباب ہی تھا کہ جس طرح صدر زرداری نے گذشتہ پانچ برس کے دوران اقتدار کاتوازن قائم رکھ کر صدر بش کے پاکستان میں جمہوری سفر کا تحفظ کیا ہے۔ اسی طرح اگلے پانچ سال بھی ان کے درمیان مثالی تعاون کی شاند مثال بین الاقوامی مفاہمت آرڈر کے مطابق بنایا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف کے فرمودات یہی رہے کہ صدر زرداری کی حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی اور اب مینڈیٹ نوازشریف کے پاس ہے۔ یوں ہی جمہوریت کے ثمرات نوازشریف کی فیملی فیض یاب ہوتی رہے گی۔ مسٹر آصف علی زرداری کی باتیں بھی ہوشربا تھی ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اپنی مدت اقتدار کامیابی کے ساتھ مکمل کرانے کے لئے پیپلز پارٹی کا تعاون ملتا رہے گا۔ آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں ترقی کر کے 47 ویں نمبر سے 35 ویں نمبر پر آگیا۔ بدانتظامی، بدعنوانیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 80کھرب روپے کا زبردست نقصان ہوا۔

رینٹل پاور پروجیکٹ 8ارب کا این۔سی۔ایل سکینڈل، نیلم ، جہلم، سی۔ڈی۔اے، سوئی گیس ، واپڈا میں بدعنوانیوں کے نئے ریکارڈ دیکھنے کو ملے۔ جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو از خود نوٹس لینا پڑا۔ سی۔این۔جی، پیٹرول، بجلی کے نرخوں میں گرانی نے عام آدمی کو نڈھال کر دیا۔ پانچ برسوں میں 90ارب روپے سے زائد بجلی چوری، 872 ارب کے گردشی قرضے نے تمام دعوؤں کا پول کھول دیا۔ ان پانچ برسوں میں 823 ارب روپے کی کرپشن کی روح فرسا کہانیاں اقتدار کے بڑے ایوانوں سے گلی کوچوں تک پھیلی رہیں۔نوازشریف کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ پانچ برسوں تک آصف علی زرداری کی کرپشن کے حبیب جالب کے نغمے گانے کے باوجود ان کوشاہی ظہرانہ میں مدعو کر کے محبت کے پھول نچھاور کرتے رہے۔ ایسی منافقانہ سیاست کے خاتمے کے لئے قوم نے ان کو مینڈیٹ نہیں دیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند