تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اولمپک مقابلے : استنبول کے ہاتھ سے نکل گئی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 17 ذیعقدہ 1440هـ - 20 جولائی 2019م
آخری اشاعت: بدھ 6 ذیعقدہ 1434هـ - 11 ستمبر 2013م KSA 11:12 - GMT 08:12
اولمپک مقابلے : استنبول کے ہاتھ سے نکل گئی

 استنبول اپنی قدرتی خوبصورتی ، تاریخ،تہذیب، ثقافت، سیاحت اور اقتصادی لحاظ سے دنیا کے انمول موتی کی حیثیت رکھنے والا شہر ہے۔ آبنائے باسفورس کے دونوں دہانوں پر پھیلا ہوا دنیا کا یہ واحد شہر ہے جو دو براعظموں کے سنگم پر واقع ہے۔یہ شہر جو تین عظیم سلطنتوں سلطنتِ روم،بازنطینی سلطنت اورسلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا ہے۔

1923ء میں جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد دارالحکومت استنبول سے انقرہ منتقل کردیا گیا۔ اس شہر کو 2010ء میں یورپ کا ثقافتی دارالحکومت بھی قرار دیا جا چکا ہے۔تاریخ میں اس شہر نے مکینوں کی ثقافت، زبان اور مذہب کے اعتبار سے کئی نام بدلے جن میں سے بازنطین، قسطنطنیہ ، اسلامبول اور استنبول اب بھی جانے جاتے ہیں۔ جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد سرکاری طور پر اس کا نام تبدیل کرکے ”استنبول“ رکھ دیا گیا۔

اس شہر کو ”سات پہاڑیوں کا شہر “ بھی کہا جاتا ہے۔یہ شہر تاریخی شاہکاروں سے پٹا پڑا ہے۔ یہاں پر اتنی بڑی تعداد میں تاریخی شاہکار موجود ہیں کہ شہر میں میٹرو کی کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں نوادرات برآمد ہوئے۔ ان نوادرات کی وجہ سے کئی بار میٹرو کی کھدائی کو بھی روکنا پڑااور کئی بار اس کا رخ بھی تبدیل کرنا پڑا۔1453ء میں سلطان محمد فاتح نے اس شہر کو فتح کرنے کے بعد اسے سلطنتِ عثمانیہ کا چوتھا دارالحکومت بنایا گیا اور یہاں پر موجود آیا صوفیہ کلیسا کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور یوں پورے علاقے پر اسلام کی مہر ثبت کردی گئی۔

سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں تعمیر کئے جانے والے شاہکاروں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس بارے میں مختصراً معلومات فراہم کرنے کیلئے بھی کئی ایک صفحات چاہئیں۔ جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد اس شہر کی طرف زیادہ توجہ نہ دی گئی بلکہ اس شہر کو ابتدا میں نظر انداز کردیا گیا۔استنبول کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہر کے باسفورس کے دونوں خطوں پرآباد ہونے کی بنا پر ان دونوں خطوں کے درمیان تیز ترین رابطے کی غرض سے 1974ء میں آبنائے استنبول پر پہلا معلق پل تعمیر کیا گیا اور پھر ترگت اوزال کے دور میں سلطان محمد فاتح کے نام سے ایک اور پل تعمیر کیا گیا لیکن اس کے باوجود استنبول کی ٹریفک پر قابو نہ پایا جاسکا جبکہ موجودہ حکومت نے زیر سمندر ٹرین اور عام گاڑیوں کیلئے پل تعمیر کرتے ہوئے استنبول کی ٹریفک پر کافی حد تک قابو پانے کی کوشش کی ہے( یہ ایک معجزہ ہے جس کی تفصیل بعد میں کسی کالم میں پیش کی جائے گی) اور موجودہ حکومت کا اصلی ہدف 2020ء تک استنبول میں کرائے جانے والے اولمپک مقابلوں سے قبل ٹریفک پر مکمل طور پر قابو پانے کا پلان بنایا تھا لیکن ارجنٹائن میں عالمی اولمپک کمیٹی کے اجلاس میں استنبول آخری مرحلے میں ٹوکیو سے شکست کھانے کے بعد اس ریس سے باہر ہو چکا ہے۔

استنبول شہر نے سب سے پہلے2000ء میں اولمپک مقابلے کرانے کے لئے رجوع کیا تھا لیکن اس وقت پہلے ہی مرحلے میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ استنبول اِس وقت تک پانچویں بار اولمپک مقابلوں کیلئے رجوع کرچکا ہے لیکن استنبول اس بار اولمپک مقابلے کرانے کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے جتنا قریب پہنچ چکا تھا اس سے پہلے کبھی بھی نہیں پہنچا تھا۔ حکومتِ ترکی ، اس کے وزراء اور وزیراعظم نے اپنی تمام تررعنایاں استنبول میں 2020 ء میں اولمپک مقابلے کرانے کے لئے صرف کردی ہیں۔ وزیراعظم ایردوان جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد سولہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ارجنٹائن پہنچے تھے اور انہوں نے بغیر آرام کئے سب سے پہلے استنبول سے متعلق پریذنٹیشن پیش کرتے ہوئے استنبول کی میزبانی کی مہم کو بام عروج تک پہنچایا۔ انہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ”میں بچپن ہی سے کھیلوں میں دلچسپی لیتا چلا آرہا ہوں۔

امیچور فٹبال کے کھلاڑی کے طور پر سولہ سال تک فٹبال کھیلتا رہا ہوں۔ میں آپ سے دل کی زبان سے مخاطب ہوں جو پوری دنیا کی مشترکہ زبان ہے۔ میری جانب سے آپ سب کو سلام پہنچے ۔ سلام پہنچنانے کا مقصد آپ کی سلامتی اور امن کی تمنا کرنا ہے۔ اگر استنبول میں 2020ء میں اولمپک مقابلے منعقد کرائے جاتے ہیں تو مجھے یقین ہے دنیا میں ترکی اور استنبول کے بارے میں نظریات اور سوچ میں بڑی واضح تبدیلی دیکھی جائے گی“۔

انہوں نے کہا کہ استنبول مختلف نسلوں، مذاہب اور تہذیبوں کو ایک ایسا گہوارہ ہے جو دو مختلف براعظموں میں امن کے روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔یہ اولمپک مقابلے پہلی بار کسی اسلامی ملک میں منعقد ہوں گے جس سے پوری دنیا میں مذہب اسلام کے بارے میں تنگ نظری کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ” ترکی اس سے قبل عالمی سطح پر کئی ایک مقابلے منعقد کراچکا ہے جس میں بحرہ روم اولمپک مقابلے جو یونان کے اقتصادی بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے اٹھارہ ماہ کے اندر اندر کرانے تھے کا بھی ہدف حاصل کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کے شہروں ارضِ روم، ترابزون اور مرسین میں عالمی سطح کے مقابلے بڑی کامیابی سے منعقد کراچکا ہے“۔ وزیراعظم ایردوان نے پینتالیس منٹ تک استنبول سے متعلق اپنی پریذنٹیشن پیش کی جسے سب نے بیحد سراہا۔ ارجنٹائن میں عالمی اولمپک کمیٹی کے اجلاس میں آخری مرحلے میں تین شہر میڈرڈ، استنبول اور ٹوکیو رہ گئے تھے۔

بیونس آئرس میں ہونے والے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ٹوکیو کو 42 ووٹ جبکہ استنبول اور میڈرڈ کو 26 ، 26 ووٹ ملے تھے اور یوں ٹائی اپ ہوگیا جس پر استنبول اور میڈرڈ کے درمیان دوبارہ سے ووٹنگ کرائی گئی اوراس مرحلے میں استنبول نے 45 کے مقابلے میں 49 ووٹ حاصل کرتے ہوئے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اور جب فائنل میں استنبول اور ٹوکیو کے درمیان ووٹنگ ہو رہی تھی تو پورے ترکی میں لوگوں نے اپنی سانسیں روک کر ہیجان خیز کیفیت میں استنبول کیلئے دعا کی لیکن یہ معرکہ ٹوکیو نے 36 کے مقابلے میں 60 ووٹوں کی واضح برتری سے سرکرلیا اور استنبول جوکہ پہلی بار اولمپک مقابلے کرانے کے اتنا قریب پہنچ چکا تھا کو شدید دہچکا لگا اور اس کے خیالات چکا چوند ہو گئے۔

استنبول کو اس بار اولمپک مقابلوں کی میزبانی کا شرف شاید اسلئے حاصل نہیں ہوسکا کہ کئی ایک ممالک نے خفیہ طور پر ترکی کے خلاف مہم کا آغاز کررکھا تھا۔ ان ممالک نے ترکی پر متحدہ امریکہ کے ساتھ مل کر شام کے خلاف جنگ شروع کرنے کا واویلا مچایا تھا جس سے غیر جانبدار ممالک بھی متاثر ہوئے۔ علاوہ ازیں ترکی کے اندر ہی سے کئی ایک عناصر ایسے بھی تھے جو اپنے ملک کی عظمت اور شان و شوکت کا احساس کئے بغیر استنبول میں ہونے والے گیزی پارک کے واقعے کو اچھال رہے تھے اور ترکی کے بائیں بازو کے اخبارات نے اس سلسلے میں مختلف طریقوں سے خبریں اور کالم بھی شائع کئے جن کا اصل مقصد اس اعزاز کو وزیراعظم ایردوان کو لینے سے محروم رکھنا تھا۔

ویسے بھی نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق ترکی کو خطے میں عدم استحکام اور وزیراعظم ایردون کے آٹو کریٹک روئیے کی وجہ سے استنبول کو اولمپک مقابلوں کی میزبانی کے شرف سے محروم رکھا گیا ہے۔ ترکی نے استنبول شہر کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی مہم کے دوران کسی قسم کا منفی رویہ نہ اپنایا تھا اور نہ ہی استنبول کے مقابل شہر پر کسی قسم کا کوئی الزام لگایا تھا جبکہ جاپان نے ڈوپنگ کے فیکٹر کو اپنی مہم کو حصہ بناتے ہوئے با لواسطہ طور پر ترکی کو نشانہ بنایا تھا تاہم فائنل میں عالمی اولمپک کمیٹی کے سربراہ جیک روگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ”یہ مقابلہ بڑا منصفانہ ہوا ہے اور ہم ٹوکیو کو مبارکباد پیش کرتے ہیں“۔اب دیکھنا یہ ہے کہ استنبول کب اولمپک مقابلے منعقد کرانے کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے؟ میرے ذاتی خیال کے مطابق استنبول کو 2024ء میں اولمپک مقابلے منعقد کرانے کی میزبانی کا شرف دیدیا جائے گا کیونکہ اس وقت تک ترکی دنیا بھر میں اپنی ترقی اور عظمت کے لحاظ سے کئی عظیم قوتوں کو اپنے پیچھے چھوڑ چکا ہوگا اور ویسے بھی 2023ء جمہوریہ ترکی کے قیام کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر یہ ترکی کیلئے ایک عظیم تحفہ ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند