تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مسئلہ دو چیفس کی توسیع کا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 12 ذیعقدہ 1434هـ - 17 ستمبر 2013م KSA 10:21 - GMT 07:21
مسئلہ دو چیفس کی توسیع کا

 نوع بہ نوع خبروں کے ہجوم میں، وزیر اطلاعات ونشریات ،سینٹر پرویز رشید کا ایک نہایت ہی اہم اور خبری اعتبار سے انکشاف انگیز بیان ، میڈیا کے نگار خانے میں وہ توجہ حاصل نہ کر پایا جو اس کا استحقاق تھا۔

ہفتہ کے روز ”دی نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر محترم نے کہا“ چیف جسٹس اور آرمی چیف نے بالواسطہ یا بلاواسطہ ،عہدے کی میعاد میں توسیع کی خواہش ظاہر کی، نہ کوئی اشارہ دیا اور نہ ہی حکومت کے ایسی کسی تجویز پر غورکر رہی ہے۔ دونوں معزز شخصیات ہیں۔ پاکستان کی خدمت میں ان کا کردار ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ان قابل احترام شخصیات کو غیر ضروری تنازعات میں گھسیٹنا چاہتے ہیں۔ ایسی افواہیں پھیلانے والے نہ صرف چیف جسٹس اور آرمی چیف کو بدنا م کر رہے ہیں بلکہ قومی مفاد کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک شخص نے مجھ سے رابطہ کر کے ان اطلاعات کا ذکر کیا کہ چیف جسٹس پاکستان کو حکومت کی جانب سے عہدے میں اتنے عرصے کی توسیع دی جائے گی جتنے عرصہ کے لئے وہ معطل رہے ہیں تو میں نے اس شخص سے کہا براہ کرم ملک کے ہیرو کو ایسے تنازعات سے دو رہی رکھیں۔ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ آئین میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر متعین ہے۔ اگر کوئی ایگزیکٹو اتھارٹی یا عدالت عمر کی اس حد تک توسیع چاہتی ہے تو آئین میں ترمیم کرنا ہو گی۔“

سینٹر پرویز رشید وفاقی وزیر ہی نہیں حکومت کے ترجمان بھی ہیں ان کا شمار وزیر اعظم کے قریب ترین حلقہ مشاورت میں ہوتا ہے۔ ماضی کے کچھ وزرائے اطلاعات یا ترجمانوں کی طرح بڑھک مارنے والے فلمی انداز سے کوسوں دور رہے ہیں۔ دھیمے لہجے میں لب کشائی سے پہلے خوب سوچ سمجھ کر لفظوں کا انتخاب کرتے، بات کو انتہائی حساس میزان پر تولتے اور پھر اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہیں۔ شوق ترجمانی میں وہ موقع بے موقع کیمروں کے سامنے جلوہ گر ہونے کے مرض میں مبتلا نہیں ۔ ہمیں ایسے وزرائے اطلاعات کم کم ہی ملے ہیں۔ جو تصویر ،تقریر اور تشہیر کے آشوب سے دور ہوں۔ پرویز کو کبھی ان چیزوں کی اشتہا نہیں رہی۔ سو اس کی بات کو پوری سنجیدگی سے لینا چاہئے اور اسے حقیقی معنوں میں حکومت کی ترجمانی خیال کرنا چاہئے۔

ایک زمانہ تھا کہ ”خبر“ کی حرمت و تقدیس رپورٹر کا جزو ایمان ہوتی تھی۔ وہ کسی خبر کو اپنے قلم اور پھر کاغذ تک لانے کیلئے کئی دن تحقیق و تفتیش کی دشوار گزار گھاٹیوں میں بھٹکتا رہتا تھا۔ خبر کی صداقت کو وہ اپنا سرمایہ افتخار (اعزاز) خیال کرتا تھا۔ اس کی خبر غلط نکلتی تو نہ صرف انتظامیہ کی سطح پر سرزنش ہوتی بلکہ اس کیلئے صحافتی برادری میں اپنی خجالت کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ اب وہ دن نہیں رہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے خبر کیلئے صداقت کے بجائے ”اولیت“ کو پہلی ترجیح بنا دیا ہے۔ سو کوئی نہیں سوچتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اسے صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کے بولنے سے پہلے وہ سب کچھ اگل ڈالے۔ کبھی کسی بات کے مبنی برحق ہونے کیلئے محاورے کے انداز میں کہا جاتا تھا کہ ”یہ خبر تو اخبار میں چھپی ہے “ اب یہ صرف کچھ قصہ ماضی ہو چکا ہے۔ اب تو یہ سوچ بھی دم توڑ گئی ہے کہ کس خبر سے گھروں میں بیٹھے اہل خانہ کیا محسوس کریں گے، ہماری مذہبی اور سماجی اقدار پر کیا اثر پڑے گا کسی شخص کی عزت و آبرو کی ساکھ کس قدر مجروح ہو گی اور قومی مفادات پر کتنی ضرب لگے گی ۔ٹی وی۔ سکرینز پر طفلان کوچہ و بازار کی طرح مچلتے ”ٹکرز“ نے اخبارات کو بھی ثقاہت سے محروم کر دیا ہے۔ اور اب ایسی خبر کم کم ہی ملتی ہے جو تشکیک اور بے یقینی کی آلودگی سے پاک ہو۔

جناب چیف جسٹس اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی خبریں بھی ایسی ہی خانہ ساز صنعت گری کا شاہکار ہیں۔ ہر دلیل سے قطع نظر کیا جناب افتخار محمد چوہدری جیسا شخص چاہے گا کہ چند مزیدماہ و سال کیلئے وہ اس تعظیم و تکریم کو داؤ پہ لگا دیں گے جو پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر کی تاریخ میں شاید ہی کسی جج کے ماتھے کا جھومر بنی ہو ؟ کون ہے جسے اپنے وقت کے مطلق العنان اور خون آشام ڈکٹیٹر کے سامنے حرف انکار کا اعزاز حاصل ہوا؟ کون ہے جس کے لئے سیاہ پوش وکلا کے کارواں اس جوش و جنوں کے ساتھ امڈ امڈ کر آئے ہوں؟کون ہے جس کے ساتھ اس کے رفیق جج یوں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو گئے ہوں؟ کون ہے جس کیلئے سول سوسائٹی نے تاریخ ساز جدوجہد کی ہو ؟ کون ہے جس کیلئے میڈیا نے ایسی توانا آواز اٹھائی ہو ؟کون ہے جس کیلئے مائیں بہنیں اپنے آنچل پھیلائے یوں پہروں سڑکوں پہ کھڑی رہی ہوں ؟کون ہے جس کیلئے سیاسی کارکنوں نے آمر وقت سے ٹکر لی ہو؟ کون ہے جس کے لئے اس بانکپن کے ساتھ لانگ مارچ ہوا ہو؟ کیا افتخار محمد چوہدری اتنے بڑے سرمایہ افتخار کو گنتی کے چند روز و شب کی نذر کر دیں گے؟ اس کا تصور بھی محال ہے۔ انہیں اصولاً ساڑھے آٹھ سال کا عرصہ ملازمت ملناچاہئے تھالیکن عملاًکوئی پونے سات سال ملے۔پونے دو برس کی کمی کا زخم ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مقام بلند کی قدر و منزلت کو بازیچہ اطفال بنائیں گے۔انہوں نے چیف جسٹس کی حیثیت سے گراں قدر فیصلوں کی تاریخ رقم کی ہے۔ صدیوں پہ محیط اس تاریخ کو مزید پونے دو برس کی بھینٹ کیسے چڑھایا جا سکتا ہے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کئی پہلوؤں سے خوش بخت رہے۔ انہوں نے پرویز مشرف کے دور میں فوج کی کمان سنبھالی۔ یہ اچھے دن تھے۔ اپنی سیاہ کاریوں کے باعث مشرف فوج کی مقبولیت کو بری طرح مجروح کر چکا تھا اسے وار آن ٹیرر کا لق و دق جنگل میں جھونکا جا چکا تھا۔ جنرل کیانی نے کمان سنبھالتے ہی فوج کی ساکھ بحال کرنے پر خصوصی توجہ دی۔اسے حتی الامکان سیاسی بکھیڑوں سے دور لے گئے۔ نئی منتخب جمہوری حکومت نے جنرل مشرف سے گلو خلاصی کی ٹھانی تو انہوں نے اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالا۔ 2008ء کے انتخابات کو مشرف کے طے شدہ اہداف کے جبڑے سے نکال لائے۔ پانچ برس تک ملک پر ایک نا اہل بدعنوان، اور بے سمت حکومت کے باوجود جنرل کیانی نے کبھی مہم جوئی کا اشارہ تک نہ دیا۔ اصولوں سے لگی بندھی ،مستقیم پیشہ ورانہ راہ پہ چلتے رہنا ان کی امتیازی خصوصیت رہی۔ ان دنوں وہ تیسری حکومت کا دور دیکھ رہے ہیں۔وہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ فیصلے کرنا اور پالیسیاں بنانا منتخب جمہوری نمائندوں کا کام ہے۔ فوج وہی کرے گی جو حکومت کہے گی۔ ان کے دور میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن سے فوج کی پیشہ ورانہ استعداد کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھے۔ لیکن شخصی طور جنرل کیانی نے مہم جویانہ سوچ سے دور رہتے ہوئے جمہوریت سے وابستگی کا اچھا تاثر قائم کیا ۔ جب کینیڈا سے آئے شیخ گربہ فروش نے ہا ہا کار مچائی تو کیانی کے اس بیان نے مطلع صاف کر دیا کہ ”منصفانہ انتخابات کا انعقاد میرا خواب ہے “ انہیں چھ سال فوج کی قیادت کرنے کا منفرد امتیاز حاصل ہو رہا ہے۔ ان سے زیادہ عہدے پر فائز رہنے والے وہی ہیں جن کے ماتھوں پر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی کلغی سجی تھی یا وہ کسی آمر کے زیر سایہ نہ بیٹھے تھے۔

پرویز رشید نے اچھا کیا کہ افواہوں اور قیاس آرائیوں کی نفی کر دی ۔ بلاشبہ دونوں چیفس نے اپنے اپنے دائرہ ہائے کار میں اصل نام کمایا اور مقام بنایا۔ ایسا مقدر بھی ان کے شایان شان نہیں ہو سکتا کہ وہ عمر بھر کی کمائی کو چند اور ماہ و سال کے آتش دان میں جھونک دیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند