”ہمارے حکمران کٹھ پتلیاں ہیں جن کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے“ یہ جملہ آپ نے بارہا سنا ہو گا۔کسی کا خیال ہے کہ منتخب نمائندوں پر ناحق خود مختاری کی تہمت ہے وگرنہ اقتدار اور اختیار کا سرچشمہ تو اسٹیبلشمنٹ ہے۔بعض دور اندیش کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بھی امریکہ نامی سپر پاور کے کھونٹے سے بندھی ہے لیکن دنیا بھر کے با خبر دانشوروں سے استفادہ کریں تو پتہ چلتا ہے یہ تو سب کٹھ پتلیاں ہیں ۔ سب سربراہان ریاست و حکومت جو بظاہر کسی کے زیر اثر دکھائی نہیں دیتے،درحقیقت ایک طاقتور ترین لابی کے شکنجے میں یوں جکڑے ہوئے ہیں کہ چاہیں بھی تو آزاد نہیں ہو سکتے۔ اوباما اقتدار میں آنے سے پہلے ”یس وی کین“ کا مژدہ جانفزا سناتا ہے مگر خود کو بے بس پاتا ہے تو عوام سے آنکھیں چراتا ہے۔ فرانس کا صدر ہالینڈ نئے فرانس کی خواہش لے کر برسراقتدار آتا ہے مگر وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح پھسلتا جاتا ہے اور وہ دوڑ دھوپ کے باوجود کچھ نہیں کر پاتا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے انتخابی مہم کے دوران دیئے گئے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں تو روسی حکمران Nikita Khrushchev کا حقیقت پسندانہ مقولہ یاد آجاتا ہے کہ دنیا بھر کے سیاستدان ایک جیسے ہوتے ہیں یہ اس دریا پر بھی پل بنانے کا وعدہ کر لیتے ہیں جہاں سرے سے کوئی دریا ہی نہیں ہوتا۔

خیبر پختونخوا میں عمران خان کی لاچاری کا یہ عالم ہے کہ جس نیٹو سپلائی کو روکنے کی باتیں ہوتی تھیں اس پر ٹیکس لگانے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ آخر منتخب حکمران اس قدر لاچار و بے بس کیوں ہو جاتے ہیں؟ وہ مہنگائی دور کرنے اور غریب دوست پالیسیاں بنانے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ اس سوال کی پاتال میں جانے کی جستجو نامور مصنف Steve Solomen کی کتاب The Confidence Game تک لے گئی۔ معلوم ہوا حکومتیں تو وہ غیر منتخب بینکرز ‘ سرمایہ کار اور ساہو کار چلاتے ہیں جو دنیا بھر کی دولت یعنی کرنسی پر قابض ہیں۔ C.Wright Mills وہ پہلا مصنف تھا جس نے ”The Power Elite“ کے ذریعے زر پرستوں کا اصل چہرہ بے نقاب کیا۔ 1956ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کے ذریعے معلوم ہوا کہ ہر ملک میں اکثریت‘ اقلیت کے رحم و کر م پر ہے۔ رائٹ ملز نے سرمایہ کاروں کے اس جتھے کو The Higher Circle Policy Elites کا نام دیا۔

گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا ایک مارکیٹ میں تبدیل ہوئی تو ان مگرمچھوں یعنی HCP,s نے ایکا کر لیا۔ چھوٹی مچھلیاں تو ویسے ہی غرقاب ہو گئیں اور بڑی مچھلیوں کو بھی یہ مگرمچھ ہڑپ کر گئے یوں دنیا بھر کی دولت مزید سمٹ کر چند ہزار ساہو کاروں کی گرفت میں آگئی۔ ولیم رابنسن نے اکیسویں صدی کے اوائل میں ایک کتاب لکھی A Theory of Global Capitalism جس میں سرمایہ کاری کے اس جال کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ G8‘ G20‘ ورلڈ سوشل فورم‘ ورلڈ اکنامک فورم‘ انٹرنیشنل بنک آف سیٹلمنٹ‘ ڈبلیو ٹی او‘ ورلڈ بینک‘ آئی ایم ایف جیسے ادارے محض چند سو افراد کی جیب میں ہیں۔ David Rothkops نے 2008ء میں ایک تہلکہ خیز کتاب لکھی Super Class: The Global Power Elite and The World they are making اس کتاب میں بتایا گیا کہ کرہٴ ارض کی یہ ”سپر کلاس“ جو مشرق و مغرب کی تاجدار ہے اس کا تناسب محض 0.0001 فیصد ہے۔ دنیا کے 1500 امیر ترین افراد کے پاس دنیا بھر کے انسانوں کے مقابلے میں د گنی دولت ہے۔ ایک طرف یہ عالم ہے کہ دنیا کے تین امیر ترین افراد کے پاس 48 ممالک کے مقابلے میں زیادہ مال و دولت ہے اور دوسری جانب غربت و تنگدستی کی صورت حال یہ ہے کہ ہر روز 35000 افراد بھوکوں مر جاتے ہیں۔

سنہ 2010ء میں ولیم کیرول نے The Making of a Transnational Capitalist Class تصنیف کر کے ارتکاز دولت کی ان کہی داستان بیان کر دی۔ معلوم ہوا کہ دنیا بھر کی تجارت اور لین دین پر 147 ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی اجارہ داری ہے۔ دولت کے بل بوتے پر راج کرتے ان ساہو کاروں کو Transnational Corporate Class کا نام دیا گیا اور معاشیات سے وابستہ افراد اس اصطلاح کیلئے TCC کا مخفف استعمال کرتے ہیں اس ملٹی نیشنل کلچر نے عالمگیریت کی آڑ میں یہ سوچ مسلط کی کہ دنیا بھر کے لوگ ایک طرح کے برانڈز استعمال کریں،چینز اور فرنچائزز کے ذریعے مقامی معیشت کا گلہ گھونٹ دیا جائے تاکہ لوگ برگر‘ پیزا‘ سوفٹ ڈرنک‘ منرل واٹر جیسی مصنوعات خود تیار کریں ‘ خریدار بھی مقامی ہوں‘ فروخت کرنے والے بھی اسی ملک کے باسی ہوں مگر منافع ملک سے باہر ہمیں وصول ہوتا رہے مگر ہم اس جھمیلے میں پڑنے کے بجائے اپنی بات آگے بڑھاتے ہیں کہ آخر ہمارے منتخب نمائندوں کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی پٹرول‘ بجلی‘ آٹا اور چینی کے نرخ کم کیوں نہیں کر سکتے۔ ایک عالمی تحقیق فورم کے دو صحافیوں پیٹر فلپ اور بریڈی امبورن نے نہایت جانفشانی سے ان نامعلوم مگر طاقتور حکمرانوں کا سراغ لگایا ہے۔

دنیا بھر کی 30 بڑی فرمز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل 161/افراد کو 23.91 ٹریلین ڈالر کی ٹرانزیکشن پر دسترس حاصل ہے یہ ہے وہ کثیرالاقوام سرمایہ کار طبقہ ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خام تیل کی قیمت کہاں تک لے جانی ہے‘ کس کرنسی کی وقعت بڑھانی ہے اور کس کرنسی کی قیمت گھٹانی ہے‘ یہ لوگ طے کرتے ہیں کہ سونے کے نرخوں میں اتار چڑھاوٴ کیسے ہوگا‘ ان کی مرضی جب چاہیں یورو‘ پاوٴنڈ اور ڈالر مارکیٹ سے اٹھا کر ان کی قیمت فروخت بڑھا دیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بینک ان کی ملکیت ہیں۔ معیشت کے ان خداوٴں میں سے136 (یعنی 84 فیصد) میل ہیں جبکہ حقوق نسواں کی ہاہا کار کرنے والوں کے ہاں خواتین کا تناسب محض 16 فیصد ہے۔ ان تازہ خداوٴں میں 88فیصد گوری چمڑی والے ہیں جبکہ 12 فیصد کا تعلق دیگر رنگ و نسل کی اقوام سے ہے۔ 161 حقیقی فرمانرواوٴں کا تعلق 22 مختلف ممالک سے ہے۔ 73 گارڈ فادرز (یعنی 45 فیصد) امریکی‘ 27 (16 فیصد) برطانوی‘ 14فرانسیسی‘ 12 جرمن‘ 11 سوئس‘ 4 سنگاپوری ہیں۔ آسٹریا‘ بلجیم اور بھارت کے تین تین افراد شامل ہیں۔ آسٹریلیا ‘ جنوبی افریقہ کے دودو جبکہ برازیل ‘ ویتنام‘ چین ‘قطر‘ نیدرلینڈ‘ زیمبیا‘ تائیوان‘ کویت‘ میکسیکو اور کولمبیا کا ایک ایک امیر شخص اس کارپوریٹ کلاس (TCC) میں شامل ہے۔ اگرچہ ان گاڈ فادرز کا تعلق مختلف ممالک سے ہے مگر ان کا رہن سہن‘ ذوق شوق اور پس منظر ایک جیسا ہے۔ یہ سب 10 معروف یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہیں جن میں ہاورڈ یونیورسٹی سرفہرست ہے جبکہ آکسفورڈ‘ اسٹینڈ فورڈ‘ کیمبرج‘ شکاگو‘ کولمبیا‘ برکلے اور پنسلوانیہ یونیورسٹی بھی شامل ہیں۔ ان سب کے پاس اپنے چارٹرڈ طیارے ہیں اور مشترکات کا یہ عالم ہے کہ یہ سب پانچ بڑے شہروں نیو یارک‘ شکاگو‘ لندن‘ پیرس اور میونخ یا ان کے آس پاس اقامت پذیر ہیں۔

میرے پاس ان 161 گاڈ فادرز کی فہرست بھی دستیاب ہے مگر یہ کالم اس تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ان گاڈ فادرز کے گماشتے ہر ملک میں موجود ہیں اور حکمران کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچاتے نظر آتے ہیں۔ ان گاڈ فادرز کا خیال ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسانوں کی تقدیر عرش بریں پر نہیں لکھی جاتی بلکہ فرش زمیں پر ان کی منشا و مرضی سے طے ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ روزانہ 35 ہزار انسان بھوکوں مر جاتے ہیں جتنی دیر میں آپ نے یہ کالم پڑھا اس دوران (تقریباً آدھ گھنٹے میں) 730افراد ان گاڈفادرز کی بھینٹ چڑھ چکے ہوں گے۔ہماری سادگی کا یہ عالم ہے کہ حلقوم پر چھری پھیرتے قصائی پر تو نظر ہے مگر ان سفاک بھیڑیوں کی کوئی خبر نہیں جو خون چوس رہے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ
نا حق تہمت ہے قارون پر خدائی کی
اہل زر نے ہر دور میں فرمانروائی کی
بوٹیاں نوچ ڈالیں مہاجنوں نے ہماری
ہم نے مگر رپٹ لکھوائی ہے فقط قصائی کی

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے