تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارتی فوج ۔ پیشہ وری کا بھرم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 21 ذیعقدہ 1434هـ - 26 ستمبر 2013م KSA 10:24 - GMT 07:24
بھارتی فوج ۔ پیشہ وری کا بھرم

 بھارتی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل وی کے سنگھ کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد دنیا کی سب سے بڑٰی "جمہوریت" بھارت کا یہ بھرم بھی کھل گیا کہ اس کی فوج آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت نہیں کرتی۔ قارئین جانتے ہیں میں نے ہمیشہ دعوے کو کبھی قبول نہیں کیا کہ جمہوری نظام میں فوج پیشہ وارانہ امور تک محدود رہتی ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ لکھا ہے کہ دنیا میں نطام کوئی بھی رائج ہو لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں فوج کا حصہ لازما ہوتا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جاپان جو کہ رسمی طور پر اس بات کا دعوی دار ہے کہ اس کی فوج محض محدود دفاعی ضروریات کے لیے بنائی گئی ہے، وہاں بھی فوج ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ اگر جاپان کے دفاعی اخراجات دیکھیں تو برطانیہ اور فرانس سے زیادہ نہیں تو برابر ضرور نکلیں گے۔ وہاں بھی ملکی امور میں فوج کا عمل دخل اسی طرح ہوتا ہے جیسے برطانیہ یا امریکہ میں۔

چین میں تو یہ پہچان بھی ممکن نہیں۔ کیونکہ وہاں فوجی سیاستدان ہوتے ہیں اور سیاستدان فوجی۔ یہ ادل بدل اتنے وسیع پیمانے پر ہوتا رہتا ہے کہ وہاں پر حکومت کرنے والے سیاستدان اور فوجی مل جل کر نظام حکومت چلاتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے وہاں سیاسی استحکام موجود رہتا ہے۔ بھارت کو دوسرے ملکوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ بھی دوسروں کی طرح مختلف مفادات میں مفاہمت اور گنجائش باہمی کے ذریعے امور مملکت چلاتے ہیں۔ لیکن بھارت کے ریاستی ڈھانچے میں انگریز کے رائج کیے ہوئے نظام اور روایات کو جاری رکھا ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مقامی اثرات بڑھتے گئے اور آج یہ بات واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ وہاں کی فوج اب اس طرح پیشہ وارانہ حدود کے اندر نہیں رہ گئی' جیسے انگریز کے زمانے میں تھی۔

انگریز کے زمانے میں وائسرائے خود ہی فوج کا سربراہ ہوتا تھا۔ لہذا عملی طور پر فوج کی حکمرانی تھی۔ مگر یہ انگریز کی مہارت اور روایت پسندی تھی کہ فوجی کمانڈر اپنی پیشہ وارانہ حدود سے باہر نہیں نکلا کرتے تھے۔ البتہ ملکی امور چلانےمیں بطور ادارہ فوج کا عمل دخل کافی گہرا ہوا کرتا تھا۔ آزاری کے بعد فرق یہ پڑا کہ بھارتی مزاج' روایت پسند انگریز کی طرح محدود نہ رہ سکا اور جنرلوں نے سیاسی امور کو مداخلت کےلیے ہاتھ پاوں مارنا شروع کر دئیے ہیں ۔

پہلی بار سیاست میں فوجی مداخلت کی کوشش اس وقت منظر عام پر آئی' جب اندرا گاندھی کی حکومت پر دباو ڈال رہے تھے اور کانگریس اپنے بچاو کےلیے ہاتھ پاوں مار رہی تھی ۔ اپوزیشن کے لیڈر مرارجی ڈیسائی تھے۔ انہیں فوج کی طرف سے پیغام ملا کہ "اگر آپ کو ہم سے کسی طرح کی مدد درکار ہو' تو ہم اس کے حاضر ہیں " مرارجی ڈیسائی نے فورا اندراگاندھی سے رابطہ کیا اور کہا" اپنے جنرلوں کو سنبھال کے رکھو وہ سیاست میں مداخلت کی تیاریاں کر رہے ہیں " ظاہر ہے اس پر اندراگاندھی نے کوئی نہ کوئی تدبیر کی ہو گی۔ لیکن یہ بات واضح ہو گئی کہ بھارتی جنرل بھی بہت سے دیگر ملکوں کی طرح سیاسی امور میں دخل اندازی کرنے کو تیار ہیں۔ ظاہر ہےاس واقعہ کے بعد سیاستدانوں نے فوج کو سختی سے پیشہ وارانہ حدود میں مقید کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہو گی اور انہیں مشاورتی عمل میں شریک کرنے کو کوئی نہ کوئی ذریعہ ضرور نکالا ہو گا۔ شاید اسی وجہ سے بھارت کی حکومتوں اور فوج کے مابین سارے معاملات اندر ہی اندر طے ہوتے رہے اور کبھی فوج کو منظر عام ہر آ کر اپنی آزادانہ رائے کا اظہار نہیں کرنا پڑا۔

یہ بھرم اس وقت کھل گیا جب بھارتی فوج کے سربراہ نے پہلی بار کھل کر وزیراعظم کے ایک پالیسی بیان پر کھلی مخالفت کر دی۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے سیاچن کے ایک مقام پر اعلان کر دیا تھا کہ " ہم گلیشئر سے فوجیں نکال کر' اسے امن کا پہاڑ بنانا چاہتے ہیں۔"جس پر بھارتی فوج کے سربراہ نے فوری ہی جواب دیا کہ " ہم نے اس محاذ پر بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اب اسے سیاچن سے غیر مشروط طور پر فوجیں ہٹانا ممکن نہیں رہ گیا ہے۔" اب بھارت میں فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات کار کا ایک نظام زیر عمل ہے ۔ لیکن جنرل وی کےسنگھ کےحالیہ سکینڈل کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اب بھارتی فوج کے جنرل بھی سیاست میں باقاعدہ دخل اندازی کر رہے ہیں اور سازشی طریقہ کار اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

جنرل وی کے سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے ریاست جموں کشمیر میں ریاستی پالیسیوں سے علیحدہ کسی سیاسی مقصد کے لیے ریاست کے ایک وزیر کو رقم فراہم کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد وزیر اعلی عمرعبداللہ کی حکومت کو گرانا تھا۔ جنرل وی کے سنگھ نے اس کی تردید کی ہے۔ البتہ یہ مان گئے کہ یہ رقم ریاست میں استحکام پیدا کرنے کےلیے فراہم کی گئی تھی اور یہ غیر معمولی بات نہیں ہے۔ آزادی کے بعد فوج ایسا کرتی رہی ہے۔ اس الزام کے جواب میں کہ انہوں نے فوج کے فنڈز میں سے یہ رقم خفیہ طور پر نکالی۔ جنرل سنگھ نے کہا کہ ایسا کرنا کوئی بے ضابطگی نہیں۔ فوج کے پاس اس چیز کی نگرانی کا نظام موجود ہے کہ یہ رقم کہاں استعمال ہو رہی ہے؟ جنرل پر بھی یہ الزام ہے کہ انہوں نے فوج کے سربراہ کی حیثِیت میں ریاستی حکومت تبدیل کرانے' اعلی سرکاری حکام کی بات چیت سننے اور جنرل بکرم سنگھ کو فوج کا سربراہ بننے سے روکنے کی خاطر' اپنی ہی نگرانی میں فوج کا ایک خفیہ ادارہ استعمال کیا تھا۔ جسے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ یہ الزامات فوج کی ایک خفیہ رپورٹ میں عائد کیے گئے ہیں۔ اخبار "انڈین ایکسپریس" نے اس رپورٹ کو حاصل کر کے حقائق عوام کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد اب جنرل سنگھ کھل کر بی جے پی کا حصہ بن چکے ہیں اور ان دنوں نریندر مودی کے ساتھ سیاسی تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ بی جے پی بھارتی فوج میں اس حد تک اثر انداز ہو چکی ہے کہ اس کا سربراہ بھی وردی میں رہ کر درپردہ اس کی حمایت کرتا ہے اور وردی اتارنے کے بعد کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ جس فوج کا سربراہ کسی جماعت کےلیے درپردہ کام کرتا ہو اس کے اندر مذکورہ جماعت کے اثرات کتنی دور تک گئے ہوں گے؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت کا یہ دعوی کہ وہ ایک سیکولر ملک ہے اور حکومتی امور سیکولر طریقے سے چلائے جا رہے ہیں' اب قابل یقین نہیں رہ گیا۔ بھارتی فوج میں بھی سیاسی اور مذہبی اثرات پھیل چکے ہیں اور وہ انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطوں میں بھی بی جے پی کی ساکھ کو دیکھا جائے تو اس کے بنیادی کیڈر وہ تشدد پسند مذہبی گروہ ہیں۔ وہ مسلم دشمنی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس میں راشٹر سیوک سنگھ ' وشوا ہندو پریشد اور ان سے زیادہ متشدد مسلح گروہ' سب شامل ہیں۔

بھارت میں انتہا پسندی اور درپردہ بھارتی فوج کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے جارحانہ رویوں کی وجہ سے بھارتی ریاست کا سیکولر چہرہ اب پس منظر میں چلا جائے گا۔ پاکستان پہلے ہی مذہبی انتہاپسندی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ بھارت میں انتہاپسندی کی لہر جس طرح آگے بڑٰھے گی' اس سے پاکستان میں انتہا پسندی کو مزید تقویت حاصل ہو گیا اور اس طرح پورا برصغیر مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ شاید قدرت نے اسی دن کے لیے دونوں کو ایٹمی طاقت بنا دیا تھا۔ ریاستی امور کو چلانے والے کتنے ہی جنونی اور پاگل کیوں نہ ہو جائے مگر جب اسے خیال آئے گا کہ تباہی کا عمل شروع ہو گیا' تو وہ خود بھی باقی نہیں رہے گا' خود کشی کی راہ پر چلنا آسان نہیں رہتا۔ دونوں طرف ہی مکمل تباہی کا یقین ہو جائے تو دیتانت جنم لیتا ہے۔ راستہ کمپنی بہادر کا ہو یا مذہبی انتہاپسند حکمرانوں کا۔ پاکستان اور بھارت کے لیے حالت جنگ سے نکلنا ضروری ہو گیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ" دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند