تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مذاکرات اور بھارتی انداز فکر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 26 ذیعقدہ 1434هـ - 1 اکتوبر 2013م KSA 12:31 - GMT 09:31
مذاکرات اور بھارتی انداز فکر

 اس بھینس سے بس اتنا ہی دودھ کشید کیا جا سکتا تھا۔ پاک بھارت مذاکرات کا کھیل برس ہا برس سے جاری ہے اور شاید برس ہا برس تک جاری رہے گا۔ ایوب خان کے عہد میں یہ کھیل پورے جوبن پہ تھا جب پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ مسلسل مذاکرات کا جھولا جھول رہے تھے۔

ان مذاکرات کی کوکھ سے اور تو کسی موسم لالہ و گل نے جنم نہ لیا البتہ 1965 کی جنگ کا ناقوس بجا اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات، دشمنی کی آخری حدوں کو چھونے لگے۔ جنگ کے بعدمذاکرات کا سفر ایک عزم جواں کے ساتھ شروع ہوا۔ تاشقند میں میز بچھی۔ منحنی اور ناتواں سے لال بہادر شاستری نے بھاری تن و توش والے لمبے تڑنگے ایوب خان سے کہا ’’آپ تو بادشاہ ہیں نہ کوئی سوال اٹھا سکتا ہے نہ آپ کسی کے سامنے جوابدہ ہیں۔ میری جھولی بھر دیجئے کہ میں اپنے وطن واپس جاسکوں ورنہ پارلیمینٹ اور عوام میری تکا بوٹی کردیں گے‘‘۔

ایوب خان نے واقعی شاہانہ فراخ قلبی کا مظاہرہ کیا۔ کہتے ہیں یہ عنایت خسروانہ شاستری کے لئے شادیٔ مرگ کا باعث بنی اور رات کسی لمحے اس کی حرکت قلب بند ہوگئی۔ ذہین اور شاطرانہ سیاست کے دائو پیچ سے آشنا ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کی نبض پہ ہاتھ رکھا اور جاناکہ جذباتیت کے تلاطم میں ڈبکیاں کھاتے عوام نے معاہدہ تاشقند کو پسند نہیں کیا۔ اسے یہ بھی خبر تھی کہ ایوب خان اب تھک چکا ہے اور فوج میں بھی اس کا قلعہ مضبوط نہیں رہا۔ ایک ہلچل کے بعد زمام کار جنرل یحییٰ خان نے سنبھالی۔ پاک بھارت مذاکرات کے چمن پہ پہلے جیسی بہار نہ آسکی البتہ پاکستان کی داخلی غلط کاریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت، پاکستان پہ چڑھ دوڑا اور مشرقی پاکستان کے ماتھے پر بنگلہ دیش کا جھومر سجا کر، ایک لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی فوج کو قیدی بنا کر ساتھ لے گیا۔ یہ تاریخ کا جبر تھا کہ معاہدہ تاشقند پر کڑی تنقید سے ایوب خان کو زچ کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو رسوائی سے ہمکنار نامراد موسموں میں شملہ جاکر اندرا گاندھی کے ہاں کورنش بجا لانا پڑی اور اس شملہ معاہدے پر دستخط ثبت کرنا پڑے جو معاہدہ تاشقند سے کہیں زیادہ بے ننگ و نام تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا درجہ حرارت اوپر نیچے ہوتا رہا لیکن اعتماد اور خیرسگالی کی وہ فضا کبھی پیدا نہ ہوئی جو انہیں اپنے وسائل بارود خانوں کی نذر کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا حوصلہ اور اعتماد دیتی۔ جوہری تبدیلی اس وقت آئی جب ذوالفقار علی بھٹو کا شروع کیا ہوا ایٹمی پروگرام ضیاء الحق کی ہنرمندانہ چابک دستی کے سائے میں پروان چڑھتا ہوا تکمیل کی منزل کو پہنچا اور وزیراعظم نواز شریف نے مئی 1998 میں ایٹمی دھماکے کرکے جنگ جویانہ سرشت کے حامل بھارت کو توانا پیغام دیا کہ اب پاکستان کو تر نوالہ نہ سمجھا جائے۔ اب کے چنگاری سلگی تو بات توپوں، ٹینکوں اور طیاروں تک محدود نہیں رہے گی، ایک بڑا الائو دہکے گا جو سب کچھ بھسم کر ڈالے گا۔ 1971ء سے اب تک اگر دونوں ممالک کے درمیان طبل جنگ نہیں بجا تو اس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے ایٹمی صلاحیت ہے۔

گزرتے وقت اور بدلتے موسموں کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلیاں اور بھی آئی ہیں مثلاً یہ کہ نئی نسل جنگ و جدل سے بیزار ہے۔ وہ نفرتوں کے بجائے زمینی حقائق پر مبنی نفع اندوز رشتہ و تعلق کی حامی ہے۔ اپنے وسائل جنگ کی بھٹی میں جھونکتے چلے جانے کی روش پر تنقید ہونے لگی ہے۔ وہ ممالک قابل تقلید نمونہ بنتے جارہے ہیں جو جنگ آزمائی اور مہم جوئی سے گریز کرتے ہوئے اپنی توجہ تعمیر و ترقی پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی اور بالادستی حاصل کرنے کی خواہش اب سکہ رائج الوقت نہیں رہی۔ جیو اور جینے دو کا نظریہ قوی ہورہا ہے۔ مضبوط معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی، جدید انفرااسٹرکچر، تیز رفتار نقل و حمل، صنعت و تجارت اور عوامی ترقی و خوش حالی کو مہم جویانہ سوچ کی بے ثمری پر فوقیت حاصل ہورہی ہے۔ اچھی پیشرفت یہ ہے کہ نفرتوں کی ’’کیمپ فائر‘‘ پر موج میلہ کرنے اور عوامی جذبات بھڑکا کر ووٹ سمیٹنے والے سیاست دانوں کا کاروبار بھی ہولے ہولے مندے کا شکار ہو رہا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا شمار ان پاکستانی سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش کی۔ ان کی سوچ واضح ہے اور وہ یہ کہ دونوں ممالک بنیادی طور پر غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ دونوں اپنے دفاع کے حوالے سے حساسیت رکھتے ہیں۔ دونوں کی جنگجویانہ تاریخ، باہمی اعتماد کی راہ میں حائل ہے۔ دونوں کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ یہ تلخی کم ہو اور وسائل کا رخ، ترقی و خوش حالی کی طرف موڑا جاسکے۔ نواز شریف کی بس ڈپلومیسی، واجپائی کی پاکستان آمد، مینار پاکستان پہ علامتی حاضری اور ایک نئے عہد کے آغاز کا عہد بڑی تاریخی پیشرفت تھی۔ اس پیشرفت کو ’’کارگل کا ہیرو‘‘ نگل گیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس بے مقصد مہم جوئی کے بعد سے ہمارا اعتبار قائم ہوا نہ وقار۔

نیویارک میں نواز شریف، من موہن سنگھ ملاقات سے ثمرات شیریں کی توقع عبث ہے۔ اس ملاقات کا ہو جاناہی، اس کی کامیابی ہے۔ بھارت کی ایک مضبوط لابی اسے سبوتاژ کرنے پر تلی بیٹھی تھی۔ ملاقات سے چند گھنٹے قبل بھارتی وزیرخراجہ سلمان خورشید نے بھرپور بارود پاشی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کررہی ہے۔ کوئی پوچھے کہ بھارتی فوج، را اور بہت سے دوسرے ادارے باہمی تعلقات کی کشت ویران میں کون سے لالہ و گل بو رہے ہیں۔ بلوچستان کا آتشکدہ کون دہکائے ہوئے ہے؟ آزادی کے نام پر متحرک جنگجو کس کی گود میں بیٹھے ہیں؟ بھارتی اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کی اس رپورٹ کی تو سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے خفیہ فوجی فنڈز کے زور پر ٹی ایس ڈی کے نام سے ایک انٹیلی جنس یونٹ قائم کیا تھا جس کا مقصد پاکستان میں وارداتیں کرنا تھا۔ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے کیا خدمات سر انجام دے رہے ہیں؟ سو اس طرح کے الزامات سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ آگے بڑھنا ہے تو مڑ مڑ کر پیچھے دیکھنے سے سفر نہیں کٹے گا۔ یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ باہمی تعلقات کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے کشمیر، سیاچن سرکریک اور دریائی پانی کے مسائل سنجیدگی سے حل کرنا ہوں گے۔

حالیہ انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ پاک فوج بھی جمہوری حکمرانوں کی سیاسی حکمت عملی میں مزاحم نہیں۔ بھارت کو اس سازگار ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اس کے میڈیا کو بھی جان لینا چاہئے کہ فلاح کا راستہ بارود پاشی سے نہیں، مفاہمت سے پھوٹے گا۔ مسلم کشی کی شہرت رکھنے والے نریندرمودی وزارت عظمیٰ کے نئے امیدوار ہیں جن کی زہرافشانی عروج پر ہے۔ پاکستان کے عام انتخابات میں کسی قابل ذکر جماعت نے بھارت دشمنی کو اپنا انتخابی مہم کا موضوع نہیں بنایا۔ اگر کسی نے بنایا بھی تو لوگوں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ پاکستانی قوم، پاکستانی سیاست دان، پاکستانی حکومت پاکستانی فوج اور پاکستانی میڈیا، سب ایک نئے عہد کا آغاز چاہتے ہیں۔ ایسے موسم میں بھی بھارت نے پاکستان دشمنی کی انتہا پسندانہ سوچ پر قابو نہ پایا تو یہ بہت بڑی کم نصیبی ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ"جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند