تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کچھ کریں، جلدی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 26 ذیعقدہ 1434هـ - 1 اکتوبر 2013م KSA 13:07 - GMT 10:07
کچھ کریں، جلدی

 کچھ بھی کہنا بہت مشکل ہے، بہت ہی مشکل۔ دماغ مائؤف ہے۔ ایک ہفتے میں ڈیڑھ سو کے قریب انسانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔آدمی سوچے کیا اور کہے کیا، کہنے کو ہے بھی کیا۔ ماتم ہے کہ آئے دن جس پر مجبور کئے جاتے ہیں۔ آنسو بہانا جیسے مقدّر بن گیا ہے۔ انہیں پونچھنے والے، تسلّی دینے والے جیسے کہیں کھو گئے ہیں۔

پشاور پچھلے ہفتے بار بار خون میں نہلایا جاتا رہا، چرچ، سرکاری ملازمین کی بس اور پھر قصہ خوانی بازار۔ جو نشانہ بنائے گئے ان کا کوئی بھی قصور نہیں، ان معصوموں کا، کسی بھی معاملے میں ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ چرچ میں عبادت گزاروں پر حملہ، کونسا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے؟ بعد میں بھی حضرت عمرؓ نے بیت المَقدس فتح کیا تو عیسائی راہبوں کے اصرار کے باوجود چرچ میں نماز ادا نہیں کی، تو پھر یہ کون ہیں؟ پشاور میں چرچ پر حملے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کرنے والا یہ گروہ غیر معروف سا ہے۔ طالبان نے جنداللہ سے تعلق کی تردید بھی کر دی۔ تو پھر کون ہے اس سارے فساد کے پیچھے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اس لئے بھی اہم ہے کہ عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہ پر حملہ کر کے ساری دنیا میں پاکستان کو بدنام کیا گیا۔ حملہ بھی اس وقت کیا گیا جب وزیر اعظم نوازشریف غیر ملکی دورے پر روانہ ہو رہے تھے۔ سازشی کامیاب رہے۔ دہشت گردی پہلے ہی پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بنی ہوئی ہے، غیر مسلم پاکستانیوں کو ہلاک کر کے ظالموں نے ملک کو اور بھی بدنام کر دیا۔ ابھی اس سانحے کو چار ہی دن گزرے تھے کہ سرکاری ملازموں کی ایک بس کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا اور وہ ماتم ابھی ہوہی رہا تھا کہ اس اتوار کو بھی پشاور کے قدیم روایتی قصہ خوانی بازار میں پھر حملہ ہوا، چالیس لوگ ہلاک کر دئیے گئے، کئی خاندان اجاڑ دئیے گئے۔ ایک خاندان تو بالکل ہی تباہ ہو گیا۔ وہ شادی کی خریداری کے لئے آئے تھے، سب ساتھ تھے ان میں سے16 اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،بلا قصور۔

تیس برس سے زیادہ ہو گئے، پاکستان مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے۔ لڑائیاں کسی اور کی ہیں، خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ 1979 میں آنجہانی سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجیں اتاریں۔ سوویت یونین جس حکومت کا حامی تھا، اس کے مخالف بھی بہت تھے۔ ایک اندرونی جنگ تھی جسے پہلے سوویت یونین نے اور پھر اس کو خون تُھکوانے کیلئے امریکہ نے بین الاقوامی رنگ دے دیا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق حکمران تھے۔امریکہ کی بات انہوں نے مان لی، سب فوجی حکمران مان لیتے ہیں۔ پاکستان فرنٹ اسٹیٹ بن گیا۔ سوویت یونین سے برسرپیکار مجاہدین کی پناہ گاہ بھی اور اسلحہ اور ڈالروں کی ترسیل کا راستہ بھی۔ اس میں بہتوں کا بھلا تھا، ملک کا مگر بہت نقصان۔ مگر حکمرانوں کو کیا۔ امریکہ اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتا تھا، سوویت یونین اس کی آنکھ میں شروع سے ہی کھٹکتا رہا تھا، اس نے ہر طرح سے مخالفین کی حمایت کی اور یہاں پاکستان میں سوویت یونین کے حامی کم نہ تھے، بعد میں کے جی بی نے اور بڑھائے ہوں گے،یوں پاکستان جوابی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔اسّی کی دہائی کے اخبارات اٹھائیں، بم دھماکوں کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ کراچی کے بوہری بازار میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے14جولائی1987 کو کئے گئے تھے۔ اسّی سے زیادہ لوگ مار دیئے گئے تھے۔ پہلی بار دیکھا کہ انسانی اعضاء بجلی کے تاروں، گھروں کی چھتوں تک اڑ کر گئے۔ یہ پہلا دھماکہ تھا نہ آخری۔ آس پاس کی تاریخوں میں ملک کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا، دھماکے کئے جاتے رہے اور یہ سلسلہ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی تک جاری رہا۔

حالات بعد میں بھی گو اچھے نہیں رہے۔ ملک کے کئی شہروں میں بم پھاڑے جاتے رہے۔ لاہور کے ایک قبرستان میں متعدد لوگ ہلاک ہوئے۔کراچی میں بھی کئی مقامات پر تباہی پھیلائی جاتی رہی۔ابھی افغانستان میں طالبان کی حکومت نہیں آئی تھی، نہ اسامہ بن لادن پر امریکہ کے جڑواں ٹاور تباہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ سب تو بعد میں ہونے والا تھا۔ دھماکے مگر ہوتے تھے۔آج کے برعکس اس وقت ایک بات یہ تھی کہ گورنر یا دوسرا کوئی اعلیٰ سرکاری اہلکار ، کسی صحافی کے سوال کے جواب میں ہی سہی ،کہہ دیتا تھا ’’بھارت کے ملوث ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا‘‘۔رحمن ملک بھی نجی گفتگو میں بھارت کا نام لے لیتے تھے۔پاکستان اب جس جنگ کا خمیازہ بھگت رہا ہے وہ بھی کسی دوسرے کی جنگ ہے۔ ایک جنرل کی حکومت میں سوویت یونین وہاں چڑھ دوڑا تھا،دوسرے جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکہ وہاں گھس بیٹھا۔

پہلے سوویت یونین اور اس کے حامی ہمارے دشمن بنے، وجہ امریکہ ہی ہے۔ پہلے اسے جہاد اچھا لگتا تھا، اس کا مقصد پورا ہو رہا تھا، اس نے مجاہدین کو خوب استعمال کیا، اتنے پیار ے تھے کہ سارا مغرب انہیں ’مج‘ Muj کہتا تھا۔ اپنا کام نکلتے ہی وہ یہاں سے رفو چکر ہو گیا۔ جہاد سے اب اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مجاہدین بھی اب اس کے کسی کام کے نہ تھے۔ اب وہ دہشت گرد کہے جاتے ہیں۔ افغانستان پر پہلے امریکی حملے کی خبر میں سی این این نے اسلحہ سے لیس اسامہ بن لادن کو دکھایا اور کیا خوب کہا’’کل کا ہیرو آج کا ولن‘‘۔امریکی بھی کبھی کبھی سچ بول لیتے ہیں۔

ہم تو کل بھی نقصان اٹھا رہے تھے ،آج بھی ہمارا ملک لہولہان ہے۔ایک طرف غالباً طالبان ہوں گے،امریکی ڈرون حملوں کا بدلہ جو اپنے ہم وطنوں سے لیتے ہیں۔ اس کا جواز وہ کبھی فراہم نہیں کرسکتے کہ ان بے گناہوں کا کیا قصور ہے؟ یہ کیوں مارے جارہے ہیں؟ ان کی عبادت گاہیں کیوں نشانہ بنائی جاتی ہیں؟ ان معصوموں کے گھر کیوں اجاڑے جاتے ہیں؟ یہ دُہری مار ہے جو ہمیں پڑ رہی ہے۔ ڈرون حملوں میں امریکہ بھی شہریوں کو ہلاک کرتا ہے۔ مبینہ دہشت گردوں اور شہریوں کی ہلاکت کا فرق بہت زیادہ ہے۔ اگر ایک طرف طالبان ہیں تو دوسری طرف ہمارے وہ دشمن ہیں جنہیں پاکستان ایک آنکھ نہیں بھایا۔ آج بھی وہ اس کے در پے ہیں، کچھ اور نہ کر سکیں تو اسے تنگ تو کر سکتے ہیں، غیر مستحکم رکھنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔ وہ یہ کرتے ہیں، پہلے بھی کرتے تھے اب بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

اس رونے پیٹنے سے مگر کچھ حاصل نہیں۔ موثّر اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ کل جماعتی کانفرنس میں عوامی نمائندوں نے حکومت کو اختیار دے دیا ہے۔ بات چیت کرنی ہے تو جلد از جلد اس کا طریقہ کار طے کریں، بات کو آگے بڑھائیں۔ ایسی بہت سی قوتیں ہیں جو حالات خراب رکھنا چاہتی ہیں۔ مثبت اقدامات سے ہی ان کے عزائم ناکام بنائے جا سکتے ہیں۔ ملک میں امن و امان کے مسئلے کو اولین ترجیح دیں۔ اس کیلئے بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف بھی موثّر کارروائی کریں، یہ دونوں کام ساتھ ساتھ بھی ہوسکتے ہیں۔ جو اپنے ہیں انہیں بات چیت سے منائیں ۔ دوسروں سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں۔ بس جلدی کریں۔ ہم وطنوں کا بہت خون بہہ چکا، برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، کب تک ماتم کریں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند