تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شخصیات نہیں۔ ادارے اور روایات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 3 ذوالحجہ 1434هـ - 8 اکتوبر 2013م KSA 08:52 - GMT 05:52
شخصیات نہیں۔ ادارے اور روایات

 اچھا ہوا جنرل کیانی نے خود ہی اس غبارے سے ہوا نکال دی جسے یار لوگ خوا مخواہ پُھلائے جا رہے تھے کسی مہذب جمہوری معاشرے اور آئین و قانون کی پاس داری کرنے والے ملک میں فوجی قیادت کی تقرری کوئی چونکا دینے اور چوپالوں کو گرمانے والی خبر نہیں ہوتی۔

ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی ایسی تقرریاں معمولاتِ حیات کی بے رنگیوں میں کھو جاتی ہیں۔ پاکستان میں فوجی سربراہ کی تقرری کا معاملہ شاید اس لئے مرکز نگاہ بن جاتا ہے کہ فوج تین دہائی سے زائد عرصے تک براہ راست حکومت پر قابض رہی ہے اور جمہوری موسموں میں بھی اہم داخلی اور خارجی پالیسیوں کی صورت گری میں اس کا نہایت اہم کردار رہا ہے۔ فوجی انقلاب صرف حالات و واقعات کے بطن سے جنم نہیں لیتے، ان میں فوجی سربراہ کے مزاج، افتاد طبع اور انداز فکر و عمل کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ سو مارشل لائوں کی ماری ہوئی قوم کا یہ سوچنا فطری سی بات ہے کہ ڈیڑھ فٹ کی طلسمی چھڑی اب کس کے ہاتھ آ رہی ہے اور امکانی طور پر وہ اپنے آپ کو کس حد تک قاعدوں اور ضابطوں کے اندر محدود رکھ سکے گا۔ جنرل جہانگیر کرامت کے ایک بیان پر ایک وزیراعظم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے یا ان سے کہہ دیا گیا کہ مستعفی ہو جائیں۔ جنرل پرویزمشرف کو فارغ کیا گیا تو وہ اپنے ٹولے سے کی گئی ساز باز کے مطابق ملک پر قابض ہو گئے اور نو برس تک حکمرانی کے ڈنکے بجاتے رہے۔ ایک نے اپنے حلف اور آئین و قانون کے عین مطابق اعلیٰ پیشہ ورانہ کردار کا مظاہرہ کیا، دوسرے نے دو ٹکوں کی نوکری کے لئے جمہوریت، آئین، سیاست، قومی ساکھ اور ملکی وقار کو تہس نہس کردیا۔ ایک آج بھی بااصول اور وضع دار شخص کے طور پر احترام کی علامت ہے ، دوسرا ملامت کا استعارہ بنا، تسبیحِ روز و شب کا دانہ دانہ شمار کر رہا ہے۔

جنرل کیانی نے نہایت عمدہ بات کی کہ ’’ادارے اور روایات، افراد سے زیادہ اہم ہوتے ہیں‘‘ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اداروں اور روایات کو شخصی مفاد پر قربان کر دیا گیا۔ چار فوجی جرنیلوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے آئین تک کو بازیچہ اطفال بنا لیا۔ مرضی کی عدالتیں تشکیل دیں، مرضی کے فیصلے حاصل کئے، مرضی کی سیاسی پنیری بوئی اور مرضی کے دستور بنا ڈالے۔ ایسی بانجھ زمینوں اور سرخ آندھیوں میں ادارے کہاں سے بنتے اور روایات کیسے تشکیل پاتیں، میں نہیں کہتا کہ جمہوری حکومتوں نے شخصی مفادات سے دستکش ہو کر کوئی درویشانہ چلن اپنایا یا اداروں اور روایات کی تشکیل کے لئے کوئی مجاہدہ کیا لیکن یہ بات ڈنکے کی چوٹ کہی جا سکتی ہے کہ تینتیس سال پر محیط فوجی آمروں نے ریاستی اداروں کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھا، اجلی روایتوں کی جگہ شرمناک اور متعفن روایات کی فصل پروان چڑھائی۔ آج اگر سیاسی قیادت معمول کی فوجی تقرریوں پر بھی پہروں دماغ سوزی کرتی اور اندیشہ ہائے دور دراز میں الجھی رہتی ہے تو اس کی وجہ وہ اندیشے اور وسوسے ہیں جو فوجی طالع آزمائوں کی مہم جوئیاں ہمارے دلوں میں بو گئے ہیں۔

یہی سبب تھا کہ ایوب اور یحیٰی خان کی ’’روایات درخشاں‘‘ سے ہراساں، ذوالفقار علی بھٹو نے سات سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کر کے جنرل ضیا الحق کو آرمی چیف مقرر کردیا وہ وزیراعظم کے معیارِ آسودگی پر پورا اترتے تھے۔ اپنے دوسرے عہد حکومت میں نواز شریف نے تین سینئر جرنیلوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے خدشات کی تسکین کے لئے جنرل پرویز مشرف کو چنا۔ دونوں نے اپنے محسنوں کو عبرت کے نمونے بنا دیا اور بیس سال تک تخت شاہی پر براجمان رہے۔ بھارت میں کسی جرنیل کو مہم جوئی کا حوصلہ نہ ہوا۔ کسی جرنیل کو توسیع نہ ملی۔ بڑے بڑے خرانٹ آرمی چیف آئے اور ریٹائرمنٹ کی مقررہ تاریخ پر گھر چلے گئے۔

بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کو دو لخت کر کے، مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش اور ایک لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی سپاہ کو قیدی بنانا تھا۔ یہ کارنامہ جنرل مانک شا کے دور میں ہوا۔ جنرل کو فیلڈ مارشل بنا دیا گیا لیکن 1973 میں بطور آرمی چیف میعاد ملازمت ختم ہوتے ہی ریٹائر کردیا گیا۔ لیفٹننٹ جنرل جگجیت اروڑہ، مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے والی بھارتی سپاہ کے کمانڈر تھے۔ جنرل نیازی نے ان کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ بھارتی حکومت نے جنرل اروڑہ کا سینہ تمغوں سے بھر دیا لیکن مدت ملازمت میں ایک دن کی توسیع کئے بغیر 1973 میں گھر بھیج دیا۔ بھارتی جرنیل، لیفٹننٹ جنرل جیکب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد، جنرل اروڑہ نے فتح مشرقی پاکستان کے تاریخی کارنامے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم اندراگاندھی سے درخواست کی کہ اسے ایک ریاست کا گورنر لگا دیا جائے۔ اندرا گاندھی نے سرد مہری سے جواب دیا کہ جنرل ایک یادگار فتح کے بعد آپ کا پیشہ ورانہ کردار ختم ہو چکا ہے۔

جنرل کیانی نے بلاشبہ اچھا فیصلہ کیا۔ اگر اداروں کے تقدس اور روایات کی تکریم کو شخصیات سے بالاتر قرار دینے کا یہی بیان، وہ آج سے تین برس پہلے جاری کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری سے توسیع نہ لیتے تو اور بھی اچھا ہوتا، میں نے تب بھی لکھا تھا کہ توسیع کے فیصلے سے جنرل صاحب کی شخصیت مجروح ہوئی ہے۔ اعلیٰ ترین منصب پر توسیع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کئی سینئر، باصلاحیت اور صاحب استحقاق افسروں کا راستہ روک لیا جائے۔ گزشتہ تین برس کے توسیعی عرصے میں کئی ایسے ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں جو جنرل صاحب کی وردی کا حصہ نہ بنتے۔ میں نے 17 ستمبر کے کالم میں لکھا تھا کہ اپنے قابل فخر پیشہ ورانہ کیریئر کے پیش نظر جنرل کیانی سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ مزید توسیع کے طلب گارہوں گے۔ لیکن ہمارے میڈیا نے افواہوں اور خانہ ساز خبروں کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ کچھ حکومت کی پشت پر تازیانے برسانے لگے اور کچھ نے یہ راگ الاپنا شروع کردیا کہ جنرل کیانی کی طبیعت اب بھی سیر نہیں ہوئی اور وہ کسی نہ کسی شکل میں بدستور باوردی رہنا چاہتے ہیں۔

رپورٹرز اور تجزیہ کاروں نے شاید گہری نظر سے ان خبروں کا جائزہ نہیں لیا جو گاہے گاہے اخبارات کی زینت بنتی رہیں۔ بہت پہلے میاں نواز شریف نے فوجی تقرریوں کے حوالے سے ایک چھوٹی سے بات کہی تھی۔ ’’اب یہ کام کتاب کے مطابق ہی ہوگا‘‘ ایک بھارتی صحافی سے انٹرویو کے دوران نواز شریف نے کہا تھا ’’فوجی سربراہ کی تقرری میرٹ اور سینیارٹی کی بنیادپر ہو گی‘‘ کوئی چار پانچ ماہ قبل جنرل کیانی نے چند صحافیوں کو گپ شپ کی دعوت دی تھی، اس ملاقات میں، میں بھی موجود تھا، ایک صحافی نے براہ راست سوال کیا کہ کیا آپ 28 نومبر کے بعد بھی وردی میں ہوں گے؟ جنرل صاحب نے ایک لمحے کے تذبذب کے بغیر کہا "No" یہ خبر اخبارات میں چھپ گئی۔ حالیہ دنوں میں گرما گرمی بڑھی تو آج سے کوئی بائیس دن قبل 15 ستمبر کو روزنامہ جنگ میں وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کا برادرم انصار عباسی سے انٹرویو اس سرخی کے ساتھ شائع ہوا ’’چیف جسٹس اور آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع نہیں ہو رہی‘‘ جنرل کیانی کے اعلان سے ایک دن قبل بھی وزیراطلاعات نے کہا کہ کل تک سب پتہ چل جائے گا۔ سو حاصل کلام یہی ہے کہ جنرل کیانی توسیع کے متمنی تھے نہ حکومت ایسا کوئی ارادہ رکھتی تھی۔

جنرل کیانی قومی سلامتی ، نام نہاد وار آن ٹیرر اور طالبان ایشو کے حوالے سے سب سے باخبر انسان ہیں۔ ممکن ہے حکومت کسی نہ کسی شکل میں ان کے تجربے اور آگاہی سے استفادہ کرے۔ لیکن اصل بات صرف اس قدر ہے کہ وہ ایک اچھی اننگز کھیل کر رخصت ہو رہے ہیں۔ روایت اور اداروں کو شخصیات سے بالاتر قرار دینے کا یہ فلسفہ اگر ہماری سول اور فوجی قیادت کے دل و دماغ میں سما جائے تو نہ نظام ہچکولے کھائے گا نہ میڈیا کے خبر سازوں کو رنگا رنگ طوطے مینا اڑانے کا موقع ملے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند