تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فوجی آپریشن یا مذاکرات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 4 ذوالحجہ 1434هـ - 9 اکتوبر 2013م KSA 08:36 - GMT 05:36
فوجی آپریشن یا مذاکرات

 امریکہ پیرومرشد، قومی رہنماء ’’پیربھائی‘‘۔ مطالبات دو ہی قابلِ ذکر، امریکی جنگ سے علیحدگی اور شریعت کا نفاذ۔اشرافیہ کے لیے ایک میں 220 وولٹ کا کرنٹ اور دوسرے میں440 ۔آئین پاکستان کا تقاضہ کہ قرارداد مقاصد کو عملی جامہ پہنائو۔ تیرہویں صد ی کا صوفی اور اقبالؒ کا پیر کیا بتا گیا’’ محبت ، اخوت اور امن ہر شخص کے اندر دوسروں سے توقع عبث ۔ باہر تلاش نہ کرو۔ اندر کا حصار توڑو جو تم نے محبت ، امن کے اردگرد تعمیر کر رکھا ہے سب حاصل ہو جائے گا‘‘۔ تکفیری اور خارجی کی بحث ہی فضول کہ مملکت ِخداداد میں خلفائے راشدینؓ کی حکومت نہیں۔ مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں، بازاروں، مارکیٹوں کو اڑانے والے تکفیری نہ خارجی صرف اور صرف وحشی اور درندے لیکن ایسوں کو علیحدہ کرنے کے لیے مذاکرات ضروری۔ بدقسمتی کہ طاقتوں کا مفاد کچھ اورکہ پاکستانی فوج کو چُنگل میں پھنسانا ضروری۔

ایک دفعہ قبائلی علاقہ جات میں آپریشن شروع ہوا تو کراچی اور بلوچستان میں جلتی پر تیل کاکام دے گا۔ امن کے ایسے تاجروں سے اللہ کی پناہ مطلوب ۔ پیرومرشد کی تو خداشناسی کہ’’ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پر آ سکتا نہیں‘‘ جو حالات نظر آرہے ہیں رحم ، رحم۔ جن لوگوں کےہاتھو ںمیں اقتدار،وہاں استعداد محدود۔ڈر کہ سازش کا حصہ نہ بن جائیں کہ سازشوں کا عالمی جال بچھ چکا۔ چند ماہ پہلے اسی صفحہ پر اُسامہ بن لادن کی کہانی کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔ بھائی لوگوں نے ناک بھوں چڑھائی ۔ آج 76 سالہ عالمی ایوارڈ یافتہ صحافی ہرش (Seymour Hersh) نے جب اسے سفید جھوٹ قرار دیا اور اپنی آنے والی کتاب کو تہلکہ تو عالمی ذرائع ابلاغ میں گویابھونچال آگیا ۔تمام اخبارات اور الیکڑانک میڈیاہر ش کی داستانِ ہوشربا سننے کے لیے بے چین ۔ اس کا وعدہ کہ مایوس نہیں کروں گا جھوٹ کا پول ثبوت کے ساتھ کھولوں گا۔

اس ہنگام میں پاکستان کی دوعظیم بیٹیوں کا ذکر نہ کرنا شقاوت کہ عافیہ اور ملالہ آج مغربی قائدین کے قبضے اور سیاسی تصرف میں مغربی میڈیا کا اشتہار بن چکیں۔مقاصد واضح اور مذموم ۔دونوں میں قدر مشترک کہ نہتی خواتین کووحشیوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ۔ معصوم بچوں سمیت اغوا ہونے والی عافیہ اس لحاظ سے زیادہ بدنصیب کہ امریکی جیل میں ذہن کا سناٹا ، روح کی تنہائی ، زخموں کی گہرائی، دردِ بیکراں کی انگڑائی پہ انگڑائی اس پروطنی حکمرانوں کی بے پروائی استعماری بھیڑئیے آج بھی بھنبھوڑ رہے ہیں۔ ملالہ اس لحاظ سے خوش قسمت کہ اعزازت وکرامات کی بارش لیکن کام کی تکمیل میں مگن ہوچکی ۔ پچھلے ہی ہفتے شام کے باغیوں کے کیمپوں کا دورہ کروا نا اخلاقی بانجھ پن کی انتہا ۔ہمارے حکمران بے حس اور قوم خوابِ خرگوش کے مزے میں ۔ اس سے پہلے بین ہی انہی خطوط پرمغربی دنیا میں مختاراں مائی کی تشہیر میں زمین وآسمان کے قلابے مل چکے۔ گو ڈالرز سمیٹنے کا ریکارڈ ملالہ نے توڑ دیا لیکن مغربی حصار توڑنا شاید ممکن نہ ہو۔ کیاہم غیر ت و حمیت کے تقاضے پورے کر پائیںگے اور اپنی بیٹیوں کوواگذار کرا پائیںگے؟کب تک پاکستانی بچیوں کے اوپر مغرب کا ایجنڈا آگے بڑھے گا؟

ذاتی کمزوریوں نے قومی رہنمائوں کو امریکہ کا دستِ نگر اور تابع فرمان بنا دیا ۔ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا رہی ہے ،’’ آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا، جل گیا‘‘وطن ِ عزیز کی حالت ِ زار کہ’’ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا‘‘۔ ڈر ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے سوات میں بھونڈے مذاکرات اور پھر لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبورکرنا ۔’’ ڈھورڈنگر‘‘ جن پر غریب لوگوں کی گذر اوقات کے خلاف ایسی جنگ کہ مولوی فضل اللہ اور صوفی محمد بال بال بچ گئے۔ (تازہ خبر کہ صوفی محمد بری ہو چکے ) مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں کہ صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ سے اصل معاہدہ پشتو زبان میں تحریر ہوا جس کا کبھی ترجمہ نہ ہوسکا کیوں کہ اس کے اندر کئی شقیں ’’ماورائے آئین‘‘چنانچہ اردو، انگریزی میں تحریف مجبوری۔فاٹا ہرگز سوات نہیں آپریشن کے لیے مفاداتی طبقے اور عالمی برادری کے پیٹ میں مروڑ ہماری بلا سے ادھر فوج فاٹا میں اترے گی ادھر کراچی ، بلوچستان میں امریکی گماشتے اور بھارتی پروردے اپنی کاروائیاں تیز کر دیںگے ۔ ملک کے طول وعرض میں خصوصاَصوبہ KPK میںجہاں کی حکومت انتظامی صلاحیتوں سے محروم اور صوبہ کسمپرسی کا شکار، دہشت گردوں کے لیے ایک دم ترنوالہ ثابت ہو گی۔

ہندوستان ، امریکہ اور اسرائیل کی خواہش کا احترام اپنی جگہ جو ایٹمی اثاثوں اور عسکری قوت کو بقائمی ہوش حواس معطل دیکھنا چاہتے ہیں۔ دیہاڑی دار مفاد پرستیے دانشور اور اخلاقی بانجھ پن کی شکار قومی قیادت کا ایسے ہاتھوں میں کھیلنا قومی تکلیف ۔ پچھلے کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ پاکستانی فوج کو کمزور کرنے کے لیے کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں دھکیلا جائے گا۔ چیخ وپکار سے اپنے گلے میں خراش اور اپنے ہاتھ ملنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ۔’’کاو کاوِسخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ‘‘ ۔ ملک کے طول و عرض خصوصاََقبائلی علاقہ جات میں امریکہ اور بھارت بری طرح سرایت کر چکے ہیں اس دلدل سے نکلنے کی سبیل یہ نہیں کہ جس گڑھے میں گرنا ہے اس کو مزید گہرا کریں۔ مذاکرات میںہی چارہ سازی ہوگی ۔مطالبات ہیں کیا؟ ۔ امریکی جنگ سے برأت اور شریعت کا نفاذ ۔اگر دہشت گردوںسے دونوں وجوہات چھین لی جائیں توقبائلیوں کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر نا ناممکن ۔چنانچہ امریکہ کی جنگ سے باہر آنے کے لیے جتنے راستے سامنے ہیں سارے ٹٹولنے پڑ یںگئے۔ پالیسی واضح اورقومی امنگوں کی ترجمان نہ ہوئی تو کہانی کرب وبلا کے گرد ہی گھومے گی۔

ہماری اشرافیہ نے 65 سال میں وطنِ عزیز کو کس حال میںپہنچا دیا ہے۔ سیکولر اسٹیٹ جو قائد کے پیشِ نظر کبھی نہ تھی ،پہلی اسمبلی نے قرارداد مقاصد دے کر سمت کا تعین کر دیا۔73 کے آئین کا جڑائو قراردادِمقاصد اور اسلامی نظریاتی کونسل رہنمائی کے لیے بھٹو صاحب نے نامزد کردی ۔اب نظام ِ اللہ کے نام پر تلملاہٹ عقل وفہم سے بالا تر۔یا تو جرات رندانہ دکھائیں اور 18 کروڑ لوگوں کے سامنے اقرار کریں کہ اللہ اور رسولﷺ کا راستہ مطلوب نہیں۔ آئین سے ایسی شقیں اکھاڑ باہر پھنکیں ۔ریفرنڈم کرائیں اور عوام الناس سے مہر ثبت کروائیں یقین دلاتاہوں کہ ایسی صورت میںنفاذِ شریعت کے مطالبے کی جرات نہ ہوگی ۔دلیل بھونڈی کہ مولوی مقتدر ہو جائیں گے،خاطر جمع رکھیںمولویوں کی اکثریت تو شریعت کے نفاذ کے بعد امامت سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے سود، فواحش ،منکرات ، صلہ رحمی ، مالی معاملات ، انصاف ، خیرات ، زکوٰۃ ان میں کونسا معاملہ ہے جہاں قرآنی احکامات’’ وارے‘‘میں ہوں۔ چنانچہ دوری میں ہی’’ وارے نیارے‘‘۔

قبائلی علاقوں کی جانب سے نفاذِشریعت کے مطالبے کو اللہ کی غیبی نعمت کہ فسادی طالبان اور دہشت گرد بالائی کی طرح اوپر یا جھاگ کی طرح نیچے بیٹھ جائیں گے ۔ جب مملکت ِ خداداد پاکستان دھوکا تھانہ بیوقوف بنانے کا جال توپھر یہ بازیگر دھوکہ بازی کا بازارکیوں سجا چکے؟نظام شریعت ہی میںوجود ِ پاکستان، وجود سے انکار کیسے ممکن؟ آئینِ پاکستان کی پاسداری بھی یہی ہے۔

پھرقرآن نے کیا اجاگر کیا ۔’’ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ۔ حالانکہ درحقیقت یہ مومن نہیں۔ وہ اللہ اور مسلمانوں کے ساتھ دھوکابازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں ا س کا شعور نہیں ہے ان کے دلوں میں منافقت ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیااور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں ان کی پاداش میں ان کے لیے دردناک سزا ہے ۔۔۔۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لائیں‘‘ خبردار حقیقت میں یہ خود بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیںاور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ درحقیقت اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے اور ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹک چکے۔ یہ وہ لوگ ہیں،جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں‘‘۔ (سورۃبقرہ8-16)

حیف کہ امریکہ کے دست ِبازو نفاذِ شریعت پر سیخ پا اور فوجی آپریشن میں جلدباز یہ وہی تو ہیں جو ڈرون اٹیک کو سر آنکھوں پر بیٹھا چکے ۔ معصوم لوگوں کے قتل ِ عام پر بغلیں بجا چکے۔ ایسے لوگ فوج کو فاٹا میں جھونک کربھلاکمزور کرنے کا آسان نسخہ ہاتھ سے کیوںجانے دیں ؟ 500 سال پہلے عظیم فلسفی اور دانشور میکائولی آزاد قوموں کے لیے ایک ہی نصیحت چھوڑ گیا’’Most Armed-Most Free ‘‘۔ وطن ِ عزیز کی آزادی کو سلب کرنے کی واردات میں پہلا نشانہ فوج پھر ایٹمی اثاثے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند