تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ملالہ کی پذیرائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 5 ذوالحجہ 1434هـ - 10 اکتوبر 2013م KSA 09:35 - GMT 06:35
ملالہ کی پذیرائی

 قاتلانہ حملے اور موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد ملالہ کو دنیا بھر میں جو پذیرائی ملی ہے اس میں ہم پاکستانیوں کا ملا جلا ردعمل ہے۔ کچھ اس پذیرائی پر بہت خوش ہیں توکچھ نالاں بھی ہیں، چند روز قبل مجھے ایک پختون نوجوان قاسم خان سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے جس نے سرحد یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے، یہ وہ یونیورسٹی ہے جس نے ایچ ای سی کی رینکنگ میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں پہلا نمبر حاصل کیا ہے اور اس نوجوان گریجویٹ سے مل کر اور پاکستان کے معاشرتی، سیاسی دہشت گردی اور مالی مسائل کے حوالے سے اسکے خیالات سن کر جہاں میں اس نوجوان کے حوالے سے اچھی رائے قائم کرنے پر مجبور ہوا۔ وہاں اس بچے کے والدین، اساتذہ اور اسکی یونیورسٹی کے حوالے سے بھی بڑا اچھا تاثر قائم ہوا۔ چونکہ ملالہ کے حوالے سے بات کر رہا تھا اور اس نوجوان سے بھی ملالہ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی اس لئے میں نے اس پختون نوجوان قاسم خان کا ذکر بھی کر دیا اور ملالہ کے حوالے سے بعض لوگوں کی منفی رائے کا زیادہ تر فیڈ بیک بھی مجھے اسی نوجوان کی طرف سے ملا جو یقیناً اسکی اپنی رائے نہیں تھی۔ ملالہ کو دنیا بھر میں ملنے والی پذیرائی سے بحیثیت ایک پاکستانی میں بھی بہت خوش ہوں، کیونکہ ملالہ ایک پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مستقبل بھی ہے۔

ملالہ کو نہ صرف اقوام متحدہ میں خطاب کرنے کا اعزاز ملا ہے بلکہ اسکی آواز پوری دنیا تک پہنچی ہے دنیا بھر کی بڑی بڑی شخصیات سے ملالہ کی ملاقات ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں اسکی دنیا بھر کی مزید اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں ہونگی، ملالہ کو دنیا بھر کی مختلف تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز بھی دیئے جا رہے ہیں، بلکہ ملالہ کے ذریعے پاکستان کو ایک اور نوبل پرائز ملنے کے بھی قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور یہ ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے، لیکن ملالہ کو جہاں جہاں پذیرائی ملتی ہے وہاں ان تقاریب میں بیٹھے تمام حاضرین ملالہ کے لئے تعریف و توصیف کے ڈونگرے برساتے ہیں، لیکن پاکستان کے خلاف نفرت انگیز جملے بھی کہتے ہیں کہ یہ وہ ملک ہے جو دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے، جہاں اسکولوں کو تباہ کیا جاتا ہے۔

خاص طور پر لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو بموں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، عورتوں کو انکے حقوق نہیں دیئے جاتے۔ ملالہ جیسی لڑکی کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتاہے محض اس لئے کہ وہ تعلیم کی بات کرتی ہے۔ یقینناً اس میں ملالہ کا کوئی قصور نہیں ہے، لیکن پاکستان کے خلاف نفرت انگیز حملوں اور خیالات کا ذمہ دار خود پاکستان بھی نہیں بلکہ وہ قوتیں ہیں جنہوں نے آج سے کئی دہائیاں پہلے جہاد کے نام پر ہمارے ملک میں ایک ایسا بیج بویا تھا، جس کی فصلیں ہم آج تک کاٹ رہے ہیں اور روس کیخلاف جہاد کے نام پر جہاں ہمارے نوجوانوں کو جدید اور بھاری اسلحہ دیا گیا وہاں انکے ذہنوں میں جہاد کے نام استعمال کرتے ہوئے غلط تصورات بھی پیدا کر دیئے، ایک غیرملکی یونیورسٹی نے ہمارے ان علاقوں کے بچوں اور نوجوانوں کے لئے ایسا نصاب ترتیب دیا جس میں ب ،بکری نہیں بلکہ ب ، بم ، ٹ، ٹوپی نہیں بلکہ ٹ، ٹینک، ر، ریل کی بجائے راکٹ کے الفاظ شامل کر دیئے گئے اور امریکہ بہادر نے اس نصاب کے بل بوتے پر جب روس کو شکست دے دی تو وہ ہمارے نوجوانوں کو ب ، بم ، ٹ ٹینک، ر، راکٹ کے ساتھ چھوڑ گئے اور بقول احسن اقبال کے کہ جب نوجوانوں کے پاس اس طرح کا بھاری اور جدید اسلحہ ہو گا تو وہ اس سے شاپنگ پلازے، اسکول یا تھری جی ٹیکنالوجی نہیں بنائیں گے، بلکہ اس کا وہی استعمال کریں گے جو بیج انکے ذہنوں میں بویا گیا تھا، کیونکہ اس ذہنی صفائی کیلئے ہمیں بہت سا وقت، وسائل اور درست سمت درکار ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ ملالہ کو بین الاقوامی سطح پر جہاں پذیرائی مل رہی ہے وہاں ملالہ اس بات کو بھی ضرور بیان کرے گی کہ پاکستان کیوں ایسے حالات کا شکار ہوا۔ اللہ تعالیٰ میرے ملک کی ہر ملالہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور تمام پاکستانی بچیوں کو وہ تمام مواقع فراہم کرے جو ملالہ کو ملے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند