تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا پھانسی کی سزا ختم ہونی چاہئے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 7 ذوالحجہ 1434هـ - 12 اکتوبر 2013م KSA 16:33 - GMT 13:33
کیا پھانسی کی سزا ختم ہونی چاہئے؟

 ہمارے میڈیا نے خواہ مخواہ پاکستانی طالبان کو منفی رنگ میں پیش کیا ہے کہ جیسے وہ پسماندہ ذہن، دقیانوسی اور قبائلی ادوار کی پیداوار ہوں حالانکہ وہ بعض معاملات میں اتنے ماڈریٹ ہیں کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کے ادارہ ہیومن رائٹس والے اور ہمارے یہ طالبان بھائی ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں، مثال کے طور پر ہماری ا علیٰ عدلیہ نے جن ملزموں کو مجرم گردانتے ہوئے پھانسی کی سزائیں سنا رکھی ہیں ہیومن رائٹس والے کہتے ہیں وہ غلط ہیں۔ انہیں پھانسی کی سزا نہیں ہونی چاہئے ٹھیک یہی موقف اپنے مجرموں کے حوالے سے ہمارے طالبان بھائیوں کا بھی ہے۔ ہمارے سبکدوش ہونے والے صدر آصف علی زرداری کا بھی یہی موقف ہے یہی وجہ ہے کہ ہزاروں مجرموں کو سپریم جوڈیشری سے سزائے موت کی توثیق ہونے کے باوجود زرداری صاحب نے کسی ایک کی پھانسی پر بھی عملدرآمد نہیں ہونے دیا۔

ہماری نو منتخب جمہوری حکومت نے جب یہ دیکھا کہ سوسائٹی میں جرائم کی شرح بہت بڑھ گئی ہے اور اس کی بڑی وجہ سزائے موت پر عملدرآمد نہ ہونا ہے تو انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کہنا شروع کر دیا کہ ہم پھانسی کے مجرموں کی سزائوں پر لازماً عمل کریں گے۔ اس سلسلے میں ہمارے وزیر اعظم صاحب نے صدر زرداری سے بات کی تو جواب ملا کہ9 ستمبر تک صبر کرلو اس کے بعد جو مرضی کرنا۔ دوسری طرف سے مجاہدین کی آواز آئی کہ خبردار پھانسی کی سزائیں دینے کا تصور بھی ذہن سے نکال دو ورنہ ہم دو شخصیات کو دنیا سے نکال دیں گے۔ کوئی کافر ہی ہو گا جو اس کے بعد ایمانی آواز پر لبیک نہ کہتا لیکن یہ سوچ کر کہ کل کلاں کوئی دور کی کوڑی نہ لے آئے، یہ کہ شیر ڈر گئے ہیں ہم نے اچھا جواز یہ پیدا کیا کہ یورپین یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کی عالمی تنظیمیں چونکہ پھانسی کی سزا کے سخت خلاف ہیں اس لئے ہم نے فی الوقت ان سزائوں کو مؤخر کر دیا ہے۔ اس پر ہماری دینی جماعتوں کے قائدین،علماء و مشائخ اور مفتیان شرع متین کا اخبارات میں بیان چھپا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے سیکڑوں مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا ا قدام اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ اس لئے ہم ان کے اس ا قدام کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ مقتولین کے ورثاء کے ساتھ ناانصافی ہے اور اس عمل سے ملزموں کو مزید حوصلہ ملے گا۔ حکومت اس سلسلے میں یورپی یونین نہیں خدا اور رسولؐ کی خوشنودی حاصل کرے۔

ہم سب آگاہ ہیں کہ یورپ کے بہت سے ملکوں میں سزائے موت کو سرے سے ختم کردیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے ان کے اپنے دلائل ہیں مثلاً یہ کہ سزا کا مقصد مجرم کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے سدھارنا ہے اس کی اصلاح کرکے اسے سماج کے لئے کار آمد شہری بنانا ہے وغیرہ۔ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو موت کی سزا نہیںرہے گی تو پھر سماج میں تادیب کیسے ہوگی، جرائم کی بیخ کنی کیسے ہوپائے گی تو جواب ملتا ہے کہ ہمارے ان ممالک میں جہاں موت کی سزا نہیں دی جاتی جرائم کی شرح کہیں کم ہے ۔ ان ممالک کی نسبت جہاں یہ سزا لاگو ہے۔ ہمیں گارڈن ٹائون میں واقع ہیومن رائٹس آفس جانے کا اتفاق ہوا وہاں آئی اے رحمن اور حسین نقی جیسے دانشوروں سے باتیں ہوئیں تو وہاں کی مجموعی فضا سزائے موت کے سخت خلاف تھی۔ ان کے دلائل اہل مغرب سے بھی دو ہاتھ آگے تھے جب انہیں کہا گیا کہ دیکھئے مغرب میں جو بھی وتیرہ ہے پاکستانی سماج میں سزائے موت دئیے بغیر چارہ نہیں ہے تو جواب ملا کہ پاکستانی سوسائٹی میں جس طرح عدالتوں میں نا انصافیاں ہوتی ہیں، جس طرح اثر رسوخ والے چھوٹ جاتے ہیں اور بے گناہ دھر لئے جاتے ہیں یہاں تو یہ حقیقت دو چند ہوجاتی ہے کہ پھانسی کی سزا کو قطعی طور پر ختم کر دیا جائے مبادا کہ بے گناہ اس پر جھول جائیں۔

ہمارے ایک دوست پہلی بار جرمنی گھوم کر آئے واپسی پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بولے یار عجیب بے دین لوگ ہیں نماز روزہ چھوڑو وہ تو سرے سے خدا کے وجود کو ہی نہیں مانتے اس کی ضرورت کو ہی محسوس نہیں کرتے لیکن دوسری طرف انسانی حقوق کے حوالے سے اتنے پابند ہیں کہ کیا مجال کوئی کسی سے زیادتی کرے یا کسی کا حق کھائے کسی کو انجانے میں کہنی بھی لگ گئی ہے تو وہ کھڑے ہو کر معافی مانگ رہا ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے کام میں مگن ہے،ہم نے عرض کیا آپ ٹھیک فرماتے ہیں وہ اپنے کام خود کرتے ہیں انہیں شاید کسی بیرونی یا ماورائی سہارے کی ضرورت نہ ہو ۔

2009ءمیں اٹلی کےAtheistsنے عوامی بسوں پر بطور ایڈ یہ جملے لکھوائے تھے،
"The bad news is that God doesnot exist, the good news is that you dont have need it"
ہمارا نقطہ نظریہ ہے کہ انہیں خدا کی ضرورت ہو نہ ہو ہمارا تو بہرحال ملجیٰ و ماویٰ ہی وہی ہے، اسی کے خوف سے ہم روتے ہیں اسی کی محبت میں ہم ہنستے ہیں کتنے لوگ ہیں جو صرف اس لالچ میں نیکی پر کاربند ہیں کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں ابدی سکون حاصل کریں گے۔ اسی طرح کتنے زیادہ ہیں جو محض اس خوف سے کسی پر زیادتی نہیں کرتے کہ آگے جاکر دھر لئے جائیں گے۔ یہ خدا کا تصور ہی تو ہے جو ہمارے ہر محروم ،مجبور بے کس دکھی شخص کو امید کی کرن دکھاتا ہے۔ ہمارے ہاں خود کشیوں کی شرح اسی سہارے کی بدولت کم ہے۔ خدا کا تصور ایک دکھی و مظلوم انسان کا آخری سہارا ہے، ایک کمزور، اپاہج اور بوڑھے کی لاٹھی ہے، اس شخص سے زیادہ بدبخت کوئی نہ ہوگا جو اس لاچار سے اس کی لاٹھی، اس کا سہارا چھیننے کی کوشش کرے، اگر ہمارے لوگوں کے دلوں سے خدا کا تصور نابود ہو جائے گا تو پھر اس کی پکڑ کا خوف کہاں رہے گا۔ ایسی صورت میں تو آدھا پاکستان قتل ہوجائے گا۔

ٹھیک یہی معاملہ سزائے موت کے حوالے سے بھی ہے۔ یہاں سے اس سزا کو ختم کرنے کا مطلب ہے آپ لوگوں کو قتل و غارت گری کا لائسنس دے رہے ہیں۔ ہمارے دانشور اے سی والے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر جو مرضی کہتے رہیں زمینی حقائق یہی ہیںکہتے ہیں کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ ناچیز بنیادی طور پر ایک مولوی ہے لاکھ کہے کہ ریٹائرڈ مولوی ہوں لیکن اصلیت نہیں بدلتی سو جاننے والے جانتے ہیں ہمارے عطاء الحق قاسمی صاحب ٹھیک کہتے ہیں بندہ نکل جاتا ہے پر جماعت اس کے اندر سے نہیں نکلتی۔

سونا چیز خود کو سومیں سے سو فیصد اپنے مولوی صاحبان کے آس پاس محسوس کرتا ہے۔ ہماری نو منتخب جمہوری حکومت کو بھی اس سلسلے میں اپنے بدیہی و اصولی موقف پر قائم رہنا چاہئے اور آنے والے دنوں میں محترم ممنون حسین صاحب کا ممنون ہوتے ہوئے وہ فیصلے کرلینے چاہئیں جن سے وطن عزیز میں بڑھتے ہوئے جرائم کا قلع قمع ہوسکے۔ جانے والے صدر زرداری نے اس مملکت خدادا دکو جہاں دیگر کئی حوالوں سے سخت نقصان پہنچایا ہے وہاں جرائم کو بالواسطہ بڑھاوا دے کر اس کی بربادی کا پورا اہتمام کیا ہے، اگر انہوں نے پانچ سال پورے کئے ہیں تو اس میں ان کا کوئی کمال نہیں وہ شکر ادا کریں میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والی ہر دو شخصیات کا۔ حکمت عملی کے لحاظ سے کوئی قباحت نہیں ہے اگر طالبان سے خود کش حملے رکوانے کے لئے یا دہشت گردی چھڑوانے کے لئے ہنگامی طور پر اس سزا کو لٹکایا جاتا ہے یا عملدرآمد رکوایا جاتا ہے، آپ مذاکرات کا ڈول ڈالیں اور وطن عزیز کو امن و آشتی کا موقع دیں کہ بڑے کاز کے لئے دیگر کئی معاملات مؤخر کئے جا سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند