تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سوئس بینکوں سے غائب ہونے والی قومی دولت کا معاملہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 15 ذوالحجہ 1434هـ - 20 اکتوبر 2013م KSA 07:53 - GMT 04:53
سوئس بینکوں سے غائب ہونے والی قومی دولت کا معاملہ

عوام اور پارلیمنٹ کے ارکان کی رہنمائی کیلئے میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف نیب کے مقدمات کے حوالہ سے چشم کش واقعات بیان کر رہا ہوں۔ اکتوبر2005ء میں نیب کے اس وقت کے چےئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ اور وائس چےئرمین حسن وسیم افضل میرے پاس محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسٹر آصف علی زرداری کی کرپشن کے بارے میں اہم دستاویزات لیکر آئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسٹر آصف علی زرداری نے عوامی نمائندگی ایکٹ 76کی دفعہ 42-A اور سینٹ کی دفعہ 25-A کے تحت کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثہ جات کے بارے میں حقائق چھپائے ہیں اور اس ضمن میں نیب نے مکمل تحقیقات کی جو تقریباً اڑھائی سو صفحات پر مبنی دستاویزات پر مشتمل ہے، وہ مجھے بطور وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پیش کیں اور اصرار کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ان دونوں شخصیات کے خلاف مقدمہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 78 کے تحت درج کرائے جو بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر ان دستاویزات کا مطالعہ کیا جن میں حیران کن انکشافات کا انبار لگا ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر ایوانِ صدر سے بھی دباؤ ڈالنے کی پوری پوری کوشش کی گئی اور یہی دستاویزات نیب نے سوئس عدالت میں جمع کرائیں اور اس وقت کے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان سوئس عدالت میں بھی پیش ہوتے رہے ۔ اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسٹر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے بارے میں ہجکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے تھے اور بطور وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نے ہی مشورہ دیا کہ الیکشن کمیشن کو اس اہم قومی اہمیت کے حامل معاملہ میں فریق نہیں بننا چاہیے۔

اس دوران لیفٹیننٹ جنرل منیر اے حفیظ کا نیب سے تبادلہ ہو گیا۔ جنرل شاہد عزیز کو نیب کا نیا چےئرمین مقرر کر دیا گیا۔ میں نے جنرل شاہد عزیز کو محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے حوالہ سے مقدمہ کی دستاویزات پر مشورہ کیا۔ میں نے جنرل شاہد عزیز کو باور کرایا کہ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان اس قومی اہمیت کے حامل مقدمہ میں فریق بنایا گیا تو پھر آئندہ ہونے والے الیکشن میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیں گی اور الیکشن کمیشن اپنی ساکھ کھو بیٹھے گا۔ جنرل شاہد عزیز نے میرے مؤقف کو تسلیم کر لیا اور حسن وسیم افضل کو ہدایت جاری کی کہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف جو ریفرنس الیکشن کمیشن میں بھیجا گیا اس کو واپس لے لیا جائے۔ بعد ازاں نیب نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمہ عوامی نمائندگی کی دفعہ 82کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں دائر کر دیا جو بعدازاں این۔آر۔او کے تحت ختم کر دیا گیا۔ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے دسمبر2009ء میں این۔آر۔او کو کالا قانون قرار دیکر کالعدم قرار دے دیا تھا تو اس کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں دائر مقدمہ بھی خود بخود بحال ہونا چاہیے۔

اب میں سوئس عدالتوں میں اس نوعیت کے مقدمات کی طرف آتا ہوں۔ پاکستان اور سوئس حکومتوں کے درمیان خط و کتابت سے ثابت ہو رہا ہے کہ سابق حکومت نے نوسر بازوں ، چال بازوں، جعل سازی کرنے والوں اور جرائم پیشہ افراد کے گروہوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی گزشتہ 60سال کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کے سامنے جو انکشاف کیا ہے وہ نہ صرف توہین عدالت کی سنگین صورت ہے بلکہ اس پر اقتدار کے غلط استعمال سے مملکت پاکستان اور اس کے اداروں کو دھوکہ دینے کے ضمن میں غداری کے ریفرنس بھی دائر کیا جاسکتا ہے جس میں سرکاری فائلوں کو گم کیا اور اس سے اقوام عالم میں پاکستان کو تماشہ بنایا گیا۔ اس خفیہ آپریشن کے اصل ذمہ دار وزارتِ قانون و انصاف کی سیکرٹری جسٹس یاسمین عباسی اور ملک کے اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیراعظم کے اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری ہیں۔ ان کا قدم عدلیہ اور مملکت پاکستان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

حکومت سوئٹزرلینڈ کی طرف سے صدر زرداری کے مقدمات کی مدت ختم ہونے کے حوالہ سے جو خط لکھنے کی باتیں گردش کر رہی تھیں وہ گمراہ کن تھیں کیونکہ موجودہ مقدمہ 1997ء میں نہیں بلکہ 2004ء میں شروع ہوا تھا۔ یہ اہم قومی مفاد کے حوالہ سے مقدمہ دفن نہیں ہوا ہے۔ میری لندن میں بیرسٹر افتخار سے ملاقات ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا پیپلز پارٹی حقائق بدل نہیں سکتی ۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا تھا کہ 1997ء میں جو مقدمہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور مسٹر آصف علی زرداری کے خلاف دائر ہوا تھااس مقدمہ میں اس وقت کے جج ڈیورڈ کی طرف سے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو چھ ماہ کی سزا دی گئی تھی جو معطل کر دی گئی تھی۔ 2004ء میں جج فورنٹیر نے ایک نیا مقدمہ قائم کیا تھا جنہوں نے نئی شہادت کے ساتھ مقدمہ کی سماعت کی تھی۔ اس مقدمہ میں بے نظیر بھٹو بذاتِ خود ان کے روبرو پیش ہوئی تھیں۔ اس طرح یہ بالکل نیا مقدمہ تھا جس میں نئے شواہد پیش کئے گئے تھے جنہیں جج نے ریکارڈ کیا تھا۔ 2007ء میں این۔آر۔او سے تین دن قبل اس نئے مقدمہ میں آخری شہادت بھی جج فورنٹیر نے ریکارڈ کر لی تھی۔ مگر اسی اثناء میں پاکستان کی طرف سے اس وقت کے اٹارنی جنرل جسٹس(ر) عبدالقیوم کی طرف سے سرکاری خطوط بھیجے گئے کہ یہ مقدمہ ختم کیا جائے اس طرح اس کا فیصلہ نہیں سنایا گیا تھا۔ حالانکہ اٹارنی جنرل ملک عبدالقیوم کو سوئس حکام کو خط لکھنے کی منظوری صدر مملکت جنرل پرویز مشرف سے بھی لینی چاہیے تھی جبکہ وزارتِ قانون و انصاف نے رولز آف بزنس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ۔ اِس مقدمہ کا اہم نکتہ محور یہ ہے کہ اگر مقدمہ ختم ہونے کی مدت 15سال میں اپلائی کی جانی تھی تو یہ 2004ء کے مقدمہ کی ہو گی۔ اس مقدمہ کے خاتمہ کی مدت 2019ء ہو گی جومقدمہ کے خاتمہ کی مدت ہے۔

موجودہ حکومت کو وزارتِ قانون و انصاف میں ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہیے جن کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہ ہو اور پروفیشنلز میں ان کا اپنا مقام ہو۔ اس لئے حکومتِ پاکستان کو فوری طور پر این۔آر۔او جاری ہونے سے قبل ریکارڈ کئے گئے فیصلہ کا مطالبہ کر دینا چاہیے اور اس فیصلہ کی روشنی میں سوئس حکام کو ایک نیا ریفرنس دائر کرنا چاہیے جس میں یہ مطالبہ ہو کہ سوئس حکام این۔آر۔او کے اجراء کے بعد جاری ہونے والی اس رقم کا سراغ لگائیں جو بقول بیرسٹر افتخار کے زیر زمین منی لانڈرنگ کی بھول بھلیوں میں گم کر دی گئی ہے۔

سوئس قانون کے تحت کوئی بھی ایسی رقم جو ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہو چھپائی نہیں جاسکتی۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ سوئس مقدمات کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ اب موجودہ حکومت سوئس حکام کو یہ خط لکھ سکتی ہے کہ اس اہم قومی مفاد پر مبنی معاملہ کو پھر سے زیر غور لایا جائے کیونکہ ان مقدمات کی مدت ختم نہیں ہوئی ہے اور ان مقدمات میں جو نئے شواہد ریکارڈ کئے گئے ہیں یہ سوئس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو بیرسٹر افتخار احمد کی خدمات سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگرچہ یہ مقدمات پیچیدہ ہیں تاہم یہ مناسب طور پر پیروی کرنے کے متقاضی ہیں۔ اور وہ رقم جو این۔آر۔او کے بعد کسی دوسرے ملک میں منتقل کر دی گئی ہے واپس لائی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے این۔آر ۔او کو غیر قانونی قرار دئیے جانے کے بعد اس رقم کی دیگر اکاؤنٹس میں منتقلی کے عمل پر منی لانڈرنگ کا ایک نیا مقدمہ بن سکتا ہے۔ اگر صدر زرداری یہ رقم لے گئے ہیں تو اس رقم کو پاکستان بھیجا جانا چاہیے تھا تو یہ یقیناًپاکستان اور سوئٹزرلینڈ میں نئے مقدمہ کی بنیاد ہو گی جب کہ سوئٹزر لینڈ میں اس مقدمہ کی قانونی امداد کی اجازت دے دی جائے گی۔ بیرسٹر افتخار صدر زرداری کے خلاف سوئس مقدمات میں ان اہم مقدمات سے منسلک رہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند