تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اقوام متحدہ کا دہرا معیار: سعودی عرب کا جائز احتجاج
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 ذوالحجہ 1434هـ - 23 اکتوبر 2013م KSA 09:21 - GMT 06:21
اقوام متحدہ کا دہرا معیار: سعودی عرب کا جائز احتجاج

سعودی عرب کی طرف سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کے بعد دوسرے ملک کو دی جانے والی نشست سے انکار ایک ایسے ادارے کے خلاف ایک اصولی احتجاج تھا جس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے منشور کا بھی پابند نہیں، نیز سعودی عرب کی طرف سے اپنی نشست سے انکار کی بنیادی وجہ اقوام متحدہ کا دہرا معیار ہے۔

اس سے پہلے سعودی عرب کی حکومت سلامتی کونسل کی غیرمستقل نشست کے حصول کی خاطر گزشتہ تین برس سے مہم میں مصروف تھی اور اس کے مطابق اپنے سفارت کاروں کی تربیت کر رہی تھی لیکن عین وقت پر سعودی عرب نے اس نشست کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا جس کے باعث دیگر ارکان شدید حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ خاص طور پر روسی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے ا س قدم کو ’’عجب‘‘ قرار دیا۔

درحقیقت،’’عجب‘‘ بات تو یہ ہے کہ جو ملک عرصہ دراز سے اپنی شکایتیں محض زبانی طور پر بیان کرتا رہا، اب اسے اپنی شکایات کو عملی صورت میں بیان کرنے کی حاجت کیوں محسوس ہوئی؟ ایک دفعہ ماسکو نے بھی یہی طرزعمل اختیار کیا تھا۔ 1950ء میں سویت یونین نے سلامتی کونسل میں اپنی نشست چھ ماہ کے لیے نہیں سنبھالی تھی کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ نے تائیوان کو تسلیم کر لیا تھا اور روس نے چین کی طرف سے ناراضی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور یہ قدم اٹھایا تھا۔ 2009ء میں لیبیا کے معمر قذافی نے اقوام متحدہ کے منشور کے ایک نسخے کو پھاڑ دیا تھا جس کے باعث اقوام متحدہ کی اسمبلی کے ارکان ششدر رہ گئے تھے۔ مزید برآں، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے اپنا مشہور زمانہ فقرہ کہا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کی نو منازل گر پڑیں تو اس سے خفیف سا فرق بھی نہیں پڑے گا۔

جنوبی افریقا کے صدر جیکب زوما نے حال ہی میں اقوام متحدہ کو ترقی پذیر اور چھوٹے ممالک کے لیے غیر جمہوری، غیر نمائندہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ بہرحال، سعودی عرب کی شکایت، جسے خلیجی ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے، اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنے ایک بیان میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے وہ وجوہ بیان کیں جن کے باعث ان کے ملک نے اپنی نشست سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست لینے سے اس لیے احتراز کرتا رہا ہے کہ اب تک اقوام متحدہ اس قدر موثر ثابت نہیں ہو سکی کہ وہ عملی طورپر اپنے منشور کو عملی جامہ پہنا سکے۔ خاص طور پر سعودی عرب اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کو طے کرانے میں ناکامی پر مشتعل ہے۔

اس مسئلے کو 65 برس گزر چکے اور اقوام متحدہ ،مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کی کوششوں میں بھی ناکام رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ناکامی کا آخری ثبوت شامی حکومت کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف عدم کارروائی ہے۔ سعودی حکومت نے اقوام متحدہ پر اپنے غصے کا اس لیے بھی اظہار کیا ہے کہ اس نے شامی صدر کو کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ اپنے عوام کو ہلاک کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

درایں اثنا، سعودی عرب نے ماسکو اور واشنگٹن کو بھی اپنی ناراضی کا نشانہ بنایا ہے جن کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر شدید اثر موجود ہے۔ روس نے اس وقت اقوام متحدہ قطعاً نظرانداز کر دیا جب اس نے 2008ء میں جارجیا پر بمباری کی، اس کے علاوہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر عراق اور کوسوو پر حملے کئے۔ نیز حال ہی میں صدر بارک اوباما نے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر شام پر فوجی کارروائی کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے پانچوں مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے جس کے تحت سلامتی کونسل کا کوئی بھی رکن ملک، کسی بھی اکثریتی قراردار کو مسترد کر سکتا ہے۔ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے سلامتی کونسل کی اپنی نشست سے انکار، جائز اور درست فیصلہ ہے اور اقوام متحدہ کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کالم پہلے متحدہ عرب امارات کے اخبار 'گلف نیوز' میں شائع ہوا، جسے پاکستانی روزنامہ 'ئی بات' کے ریاض محمود انجم نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند