تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی انخلا کے بعد افغانستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 ذوالحجہ 1434هـ - 23 اکتوبر 2013م KSA 10:22 - GMT 07:22
امریکی انخلا کے بعد افغانستان

 کارپوریٹ میڈیا اور حکمران طبقات کے اہلِ دانش تمام تر سماجی تضادات کو حکمرانوں کے مابین سیاسی و معاشی اختلافات تک محدود کر کے رکھ دیتے ہیں۔ عوام کو حکمرانوں کے باہمی اختلافات میں الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ داخلی، معاشی یا اقتصادی پالیسیاں ہوں یا افغانستان جیسا خارجی مسئلہ، ہمارے سامنے صرف حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کی حمایت یا مخالفت کی آپشن رکھی جاتی ہے۔

آجکل حکمران اشرافیہ کے "لبرل" اور "سیکولر" دھڑے پورے زوروشور سے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر امریکا بہادر اس خطے سے چلا گیا تو طالبان اور مذہبی انتہا پسند پاکستان کو تاراج کر دیں گے۔ دوسری طرف ریاست اور حکمران طبقے کے مذہبی بنیاد پرست دھڑے پاکستان کے تمام تر مسائل کی وجہ امریکا کو قرار دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو امریکا دشمن قرار دینے والے یہ عناصر"اسلامی فلاحی ریاست" کے قیام کے لیے ہر طرح کی دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو جائز سمجھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر براجمان تجزیہ نگاروں کی دانش نہ صرف خود اسی تضاد تک محدود ہے بلکہ لبرل ازم اور بنیاد پرستی کی اس جعلی لڑائی کے محنت کش عوام کی نفسیات پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت میں برسرِ پیکار 41 گروہوں میں سے صرف 13 مذہبی بنیاد پرستوں پر مشتمل ہیں۔ بنیاد پرستوں کے علاوہ بائیں بازو، قوم پرست اور سیکولر رجحانات رکھنے والی بے شمار قوتیں موجود ہیں جو افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلا کیلئے مسلح یا سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستوں کی "امریکا دشمنی" اور انقلابی سوشلسٹوں کی سامراج کے خلاف جدوجہد، دو متضاد رجحانات ہیں۔ مذہبی بنیاد پرستوں کی امریکا دشمنی کا مطلب امریکی محنت کشوں اور محروم طبقات سے نفرت ہے۔ یہ سوچ دراصل نسلی، قومی اور مذہبی تعصب پر مبنی ہے۔

اس کے برعکس انقلابی سوشلزم کے تحت سامراج مخالفت کا مطلب امریکی حکمران طبقات اور کارپوریٹ اجارہ داریوں کے استحصال اور وحشت کے خلاف جدوجہد ہے۔ مذہبی پارٹیاں اور بنیاد پرست سیاست دان بغلیں بجا رہے ہیں کہ نیٹو کے انخلا کے بعد افغانستان میں ایک بار پھر طالبان اپنی حاکمیت قائم کر لیں گے جس سے پاکستان میں مذہبی رجحانات کو فروغ ملے گا اور مذہبی رہنمائوں کو نجی زندگیوں میں مداخلت کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ یہ محض خود فریبی ہے۔ 1992ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے مذہبی طبقے اور "مجاہدین" کے مختلف گروہوں کی باہمی لڑائیوں نے 1996ء تک افغانستان کو برباد کر کے رکھ دیا تھا۔

پھر امریکی اور عرب سامراج کی سیاسی و مالی معاونت اور پاکستانی ریاست کی پشت پناہی کے ذریعے کابل پر طالبان کا قبضہ کروایا گیا اور افغ عوام پر جبر و تشدد اور وحشت کے نئے باب کا آغاز ہوا۔ خصوصاً خواتین کی زندگیاں عذاب بنا دی گئیں۔ افغانستان پر طالبان کا قبضہ کروانے میں امریکی نائب وزیرِ خارجہ رابرٹ اوکلے نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ملا عمر کے ساتھ مل کر رابرٹ اوکلے نے ایک فوجی اور لاجسٹک پلان ترتیب دیا، لیکن امریکی سامرااج اور طالبان کے درمیان اختلافات تب پیدا ہوئے جب تیل کی بڑی پائپ لائن کا ٹھیکہ امریکی اجارہ دار کمپنی یونی کول ) جس کا ڈائریکٹر اب رابرٹ اوکلے بن چکا تھا( کی بجائے ارجنٹینا کی ایک کمپنی بریڈاس کو دے دیا گیا۔

پاکستانی ریاست کے کچھ دھڑوں کی سرپرستی میں طالبان خود کو ضرورت سے زیادہ طاقتور سمجھنے لگے تھے۔ یوں امریکی سامراج اور طالبان کے درمیان نئی مخاصمت اور براہ راست جنگ کا آغاز ہوا جو پچھلی ایک دہائی سے اس خطے کو تاراج کر رہی ہے۔ امریکی انخلا کے بعد ان بنیاد پرستوں کے مختلف دھڑوں میں ایک نئی لڑائی کا آغا ہو جائے گا اور تباہ کاریوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ پاکستانی حکمرانوں اور ریاست کے لبرل اور سیکولر دھڑے اور مغربی امداد پر چلنے والی این جی اوز یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ سامراجی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں بہت خونریزی ہوگی لہٰذا اس خطے میں امریکی موجودگی ضروری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کونسی خون ریزی ہے جو پچھلے دس برسوں میں نہیں ہوئی اور اب ہونا باقی ہے؟

افغانستان اور عراق کی جنگوں میں امریکی سامراج نے چار ہزار ارب ڈالر صرف فوجی کارروائیوں پر خرچ کیے۔ اس بڑے پیمانے کے جنگی اخراجات نے امریکی معیشت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ میدانِ جنگ سے واپس جانے والے امریکی فوجیوں کی خودکشیاں، جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ذہنی توازن کھو کر پاگل خانوں میں داخل ہونے والے فوجی اس کے علاوہ ہیں۔ افغانستان میں امریکی شکست اسی وقت عیاں ہوگ ئی تھی جب جنگ کے عروج پر امریکی فوج کے سپہ سالار جنرل سٹینلے میکرسٹل نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ آج امریکی سامراج کی بے بسی اور نامرادی کا یہ عالم ہے کہ نہ وہ افغانستان میں رہنا چاہتے ہیں اور نہ اسے چھوڑ سکتے ہیں۔

اس نظام میں سامراجی فوجوں کا مکمل انخلا ممکن نہیں ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں امریکی کٹھ پتلی افغان صدر حامد کرزئی نے برملا کہا ہے کہ " نیٹو کی تمام تر کارروائیوں نے افغانستان کو بہت اذیتیں دی ہیں، بہت جانیں ضائع ہوئی ہیں اور کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ ملک بدستور عدم تحفظ کا شکار ہے"۔ کرزئی کے اس قسم کے بیانات نے امریکی جرنیلوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن انکے پاس اسے برداشت کرنے کے سوا فی الحال کوئی چارہ نہیں ہے۔ کرزئی کے متبادل صدارتی امیدوار زیادہ گستاخ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک ممکنہ متبادل عبدالرسول سیاف ہے۔

یہ وہ شخص ہے جس نے افغانستان میں القاعدہ کی بنیادیں قائم کی تھیں۔ صدارت کا ایک اور امیدوار قندھار کا موجودہ گورنر گل آغا شیرازی ہے جس کے طالبان سے قریبی مراسم رہے ہیں۔ گل آغا شیرازی اپنے کردار کے حوالے سے "بل ڈوزر" کے نام سے بھی مشہور ہے۔ رشید دوستم جیسے" موسمی اتحادی" بھی فہرست میں موجود ہیں۔ رشید دوستم ایک انتہائی مکار اور ظالم جنگجو سردار ہے جس کی غداری نے 1992ء میں نجیب اللہ حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ورلڈ بینک کے سابق عہدہ دار اشرف غنی کو سامراج کی خفیہ حمایت حاصل ہے۔

2014ء افغانستان میں صدارتی "انتخابات" کے ساتھ ساتھ نیٹو فورسز کے انخلا کا سال بھی ہے۔ سب جانتے ہیں افغانستان میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ انتخابی نظام کی خستہ حالی، خانہ جنگی اور خونریزی کی اس کیفیت میں علامتی قسم کے انتخابات کا انعقاد بھی پورے ملک میں ناممکن ہے۔ کابل اور صوبائی گورنروں کے دفاتر سے باہر افغان ریاست کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں ہے۔
قطر میں طالبان امریکا مذاکرات کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا ہے۔

طالبان کے کئی دھڑے موجود ہیں جو مختلف علاقائی اور سامراجی قوتوں کیلئے کرائے پر خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے اور اگر کوئی معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے تو وہ عارضی ثابت ہو گا۔ افغانستان میں سرگرم ہر عسکری قوت منشیات، اسلحے کی سمگلنگ، بھتہ خوری اور دوسرے جرائم پر مبنی کالے دھن کی معیشت میں حصہ دار ہے۔ ان تمام تر قوتوں کا باہمی تضاد دراصل کالے دھن کی زیادہ سے زیادہ حصہ داری پر لڑائی اور تنازعات پر مبنی ہے۔

1978ء میں افغان ثور انقلاب کے خلاف سامراجی قوتوں نے جو "جہاد" شروع کیا تھا وہ آج ان کے اپنے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ ان "جہادیوں" کی بربریت نے افغان اور پاکستانی عوام کی نسلوں کو برباد کر دیا ہے۔

انگریز سامراج نے پشتون قوم کو تقسیم کرنے کیلئے جو ڈیورنڈ لائن تراشی تھی آج اس میں چھید ہی چھید ہیں۔ افغانستان کی یہ خانہ جنگی آج پاکستان میں بھی بہہ نکلی ہے۔ یہ نظام  زر اور اس کے محافظ اس خطے کے عوام کے اصل مجرم ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے محنت کش عوام سامراجیوں، ان کے مقامی گماشتوں اور مذہبی جنونیوں کو ایک طبقاتی جنگ کے ذریعے ہی شکست دے کر اس خون ریزی اور بربریت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند