تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
برما کے مسلمانوں کے مصائب و آلام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 ذوالحجہ 1434هـ - 24 اکتوبر 2013م KSA 09:18 - GMT 06:18
برما کے مسلمانوں کے مصائب و آلام

بُدھ مت وہ مذہب ہے جس کی رُو سے کیڑے مکوڑوں تک کو مارنے کی ممانعت ہے مگر ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ اُس کے نام لیوا آج اپنے ہم وطن مسلمانوں کو اِس سفّاکی کے ساتھ قتل کر رہے ہیں جیسے وہ کیڑے مکوڑوں سے بھی نچلے درجے کی مخلوق ہوں۔ آج برما کے بُدھسٹ ہجوم مسلمانوں کے گھروں، مدرسوں اور مسجدوں کو نذرِآتش کر نے،اُن کی دکانیں اور کاروبار تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔برما میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد ہے۔ اِس خوف سے کہ کہیں مسلمانوں کی آبادی رفتہ رفتہ بڑھ نہ جائے ،یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ دو سے زیادہ بچے پیدا نہ کریں۔Ashin Wirathu ایک ایسے تشدد پسند بُدھسٹ راہب ہیں جن کی زبان اپنے سامعین کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کے دوران مسلمانوں کے خلاف آگ برساتی چلی آ رہی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ ” اگر ہم اِس وقت کمزوری دکھائیں گے تو ہماری سرزمین پر مسلمان چھا جائیں گے۔ “گذشتہ ایک برس کے دوران اُنہوں نے بُدھ مت کے پیروکاروں کو اِس قدر جنگجو بنا دیا ہے کہ اب ہر کوئی تیغ بکف ہے اور ہجوم کے ہجوم برمی مسلمانوں کو مٹا ڈالنے کو کارِ ثواب سمجھنے لگے ہیں۔اِسے وہ لوگ بُدھ مت کی حیاتِ نو کا نام دینے لگے ہیں۔

آج جب میں مسخ شدہ بُدھ مت کی اِن اُلٹی تعبیروں کے اثرات و نتائج پر غور کرتا ہوں تو مجھے چودھویں صدی کا بُدھسٹ کشمیر یاد آتا ہے۔ بُدھ مت کی تعلیمات سے دردناک رُوگردانی کی عکاسی کشمیر کے سنسکرت شاعر نے اپنی جن نظموں میں کی ہے اُن میں سے ایک نظم قارئین کی نذر ہے:

بھکشُو!تمہارا جسم اتنا بدبُودار کیوں ہے؟
مچھلی کھانے سے کیا تم مچھلی کھاتے ہو؟
ہاں، یہ شراب نوشی کا جزوِ لایُنفک ہے
کیا تم شراب پیتے ہو؟
ہاں ، جب میں عورتوں کی صحبت میں ہوتا ہوں
کیا تم عورتوں سے شغف رکھتے ہو؟
ہاں، جب میں اپنے دشمنوں کا کام تمام کر دیتا ہوں
کیا تمہارے دشمن بھی ہیں؟
کیونکہ میں چوری چکاری کر لیتا ہوں
کیا تم چور ہو؟
ہاں، اِس لیے کہ میں جوا کھیلتا ہوں
کیا تم جواری ہو؟
ہاں، میں ایک بِھکشُو ہوں!

جب بُدھ مت کے مذہبی رہنماﺅں تک نے مہاتما بُدھ کے انسان دوست اور رُوح پرور روحانی مسلک کی نفی سے درج بالا مبتذل طرزِ حیات اپنا لیا تب مسلمان صوفیائے کرام کے انسانی اخوت و مساوات اور محبت فاتحِ عالم کے طرزِ فکر و عمل نے کشمیریوں کے دل میں کشش پیدا کی اور وہ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے(1327ء) جب سیّد علی ہمدانی جنہیں آج کشمیری امیرِ کبیر اور شاہِ ہمدان کے القاب سے یاد کرتے ہیں اپنے سات سو مریدوں کے ساتھ کشمیر میں وارد ہوئے۔شاہِ ہمدان نے خانقاہیں بھی قائم کیں اور کارگاہیں بھی۔خانقاہ میں ذکر و فکر میں مصروف صوفیاء کارگاہ میں داخل ہوتے ہی صنعت و حرفت کی ترقی میں مصروف ہو جاتے۔ یوں روحانی پاکیزگی اور سربلندی صنعت و حرفت کی ترقی سے مادی زندگی کو بھی سرسبز و شاداب کرنے لگی۔ نتیجہ یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے کشمیر پر ایرانِ صغیر کا گمان ہونے لگا۔ اِس صوفی تحریک نے معاشرتی زندگی کو اُونچ نیچ ، برہمن شودر کی سی طبقاتی تقسیم سے آزاد کر کے انسانی اخوت و مساوات کا سکہ رائج کر دیا۔آج برما کے جنگجو اور دہشت پسند بُدھسٹ اگر اِس تاریخی صداقت کو سمجھ لیںتواُنہیں مسلمانوں پر ضبطِ تولید کی سی پابندیاں لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔بُدھسٹ کشمیر میں اسلام کی حیرت انگیز مقبولیت پُرامن بھی تھی اور برق رفتار بھی۔یہ ایک زندہ اور برتر دینی مسلک کی جانب خلقِ خُدا کی حیرت انگیز پیش قدمی تھی۔

ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور چند دیگر مورخین نے وادی سندھ میں اسلام کی آمد اور فروغ میں یہاں کی بُدھسٹ آبادی کی حمایت اور مدد کے شواہد پیش کیے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ محمد بن قاسم کی فوج نے جن کشتیوں پر دریائے سندھ عبور کیا تھا وہ یہاں کے بُدھسٹ نے فراہم کی تھیں۔ مسلمان صوفیاءاور بُدھسٹ علماءکا پہلا اور گہرا تعلق خراسان میں پیدا ہوا تھاجہاں ہر دو مذاہب کے مشترک عناصر نمایاں ہونے کے بعد بُدھسٹ رہنماﺅں نے وادیِ سندھ کو انتہا پسند ہندو گردی سے نجات دلانے کی خاطر مسلمانوں کی فتح سندھ کی راہ ہموار کی تھی۔آج کے برما میں مسلمان دشمنی کی موجودہ لہر اُس انتہاپسند مُلّائیت کا ردعمل بتایا جاتا ہے جس کی تشدد پسندی نے بامیان میں مہاتمابُدھ کے مجسموں کے توڑ پھوڑ کی تخریبی کارروائی عمل میں لائی تھی۔جب میں اِس پرتشدد مُلائیت کا خیال کرتا ہوں تو مجھے شاہِ ہمدان ، اُن کے مریدوں کا اسلامی نصب العین یاد آتا ہے اور میرے دل میں یہ تمنّا بے تاب ہو جاتی ہے کہ کاش آج پھر ہم اُن کے روحانی مسلک کواپنا کر خانقاہیں بھی قائم کریں اور کارگاہیں بھی اور پھر محبت ، اخوت اور وسیع تر انسانی بہبود کے مسلک کو ہر دو اداروں کے درمیان پھر سے ایک اٹوٹ پُل تعمیر کر ڈالیں۔اشاعتِ اسلام اور فروغِ انسانیت کا اِس سے مٶثر ذریعہ اور کوئی نہیں۔

حال ہی میں برما کی نئی حکومت نے باغیوں سے گفت و شنید کر کے ایک امن معاہدہ کیا ہے جس کی رُو سے ، گذشتہ دو سال سے جاری خانہ جنگی کوختم کر کے فریقین میں گفت و شنید کے ذریعے صلح و آشتی اور ملک میں امن و امان کی فضا پیدا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سالہا سال تک اقتدار میں رہنے والی سفاک فوجی آمریت نے ملک پر ایک ایسا آئین مسلط کر رکھا تھا جس کی رُو سے نوبل انعام یافتہ بین الاقوامی شخصیت Daw Aung San Suu Kyi تک کوالیکشن میں حصہ لینے کی آزادی نہیں تھی۔ قیامِ امن کی خاطرنئی حکومت نے ایک نمائندہ پارلیمانی کمیٹی قائم کی ہے جوآئین کو عوامی اور جمہوری بنانے میں مصروف ہو گئی ہے۔

اِس کمیٹی نے Daw Aung San Suu Kyi اور اُن کی نیشنل لیگ فار ڈیماکریسی کوبھی الیکشن میںحصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔نئی حکومت کے وزیر Aung Min نے کہا ہے کہ ”ہم صرف منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی خاطر جہد آزما نہیں ہیںبلکہ ایک ایسے سیاسی کلچر کے فروغ میں کوشاں ہیں جو باہمی احترام ، افہام و تفہیم پر مبنی ہو۔ ہماری آج کی مشکلات کی جڑیں گذشتہ نصف صدی کی دہشت اور تشدد میں پیوست ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ ہم اِن مشکلات پر جلد قابو پا لیں گے۔ “((AFP, The Express Tribune, October 11, 2013 اللہ کرے کہ برما کی نئی حکومت کی یہ مساعی جلداز جلد کامیاب ہو اور یوں مہاتمابُدھ کی پیروی سے رُوگردانی کے مرتکب جنگجو اور دہشت پسند مذہبی رہنما مہاتما بُدھ کی حقیقی تعلیمات کو اپنانے پر مجبور ہو جائیں۔بُدھ مت کی حقیقی تعلیمات کی جانب لوٹ جانے کا راستہ بھی یہی ہے اور فلاحِ انسانیت کی راہ بھی یہی !

بشکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند