تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
راہول گاندھی کا بیان اور مسلمان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 24 ذوالحجہ 1434هـ - 29 اکتوبر 2013م KSA 13:34 - GMT 10:34
راہول گاندھی کا بیان اور مسلمان

 بھارت میں حکمران کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی کے اس انکشاف نے کیا ہے کہ ریاست اترپردیش کے مظفرنگر ضلع میں حالیہ فسادات سے متاثراور کیمپوں میں پناہ گزین مسلم نوجوان، پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رابطے میں ہیں، تمام مسلمانوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ ان کی اس دلیل مں وزن ہے کہ فرقہ پرستی یا کسی قوم کو مجبور بنانا دہشت گردی کو جنم دیتا ہے مگر جس طرح انہوں نے خفیہ محکمہ کے ایک افسر سے اپنی ملاقات کا ذکر کر کے مظفرنگر کے فساد زدگان کے کسی امکانی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث ہونے کا عندیہ دیا، وہ باعث تشویش ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اس مفروضے کی بنا پر فسادیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں حراست میں لینے اور ہراساں کرنے کا جواز پیدا کر رہی ہیں۔

اس سے قبل بابری مسجد کی شہادت اور 2002ء میں گجرات فسادات کی آڑ میں بھی لا تعداد مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے کئی زندگی کے قیمتی سال سلاخوں کے پیچھے گزار کر عدالتوں سے بری ہوچکے ہیں۔ ان میں سے متعدد کو پولیس مقابلوں کے نام پر اس شبے میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا کہ وہ فسادات کا بدلہ لینے کیلئے گجرات کے وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ مسلم نوجوانوں کی تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا [سیمی] پر پابندی عائد کردی گئی اور نوجوانوں کا قافیہ تنگ کیا گیا۔

مجموعی طور پر راہول گاندہی کے بیان نے ان طاقتوں کو تقیوت پہنچائی ہے جو ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کو فساد اور فرقہ پرستی کی دہری مار کا شکار بنا رہے ہیں۔

گزشتہ برس جب ممبئی میں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے ایک اہم اجلاس سے دوروز قبل مرکزی وزارت داخلہ نے عدالتی ٹرائیبونل میں حلف نامہ دائر کیا، جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ سیمی پر پابندی عائد کر دیے جانے کے باوجود یہ تنظیم 51 مختلف تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ اپنی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس حلف نامے کی بنیاد پر خیرامت ٹرسٹ نامی اس تنظیم کو بھی سیمی کی ذیلی تنظیم قرار دے دیا گیا جو ممبئی میں ہونے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس کی میزبانی کرنے والی تنظیموں میں شامل تھی۔

اس حلف نامے پر ایک نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں مسلامنوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی چھوٹی بڑی تنظیموں کو سیمی سے وابستہ قرار دے کر اور میڈیا میں اس کے خلاف مہم چلا کر ان کے ارکان کو زیر عتاب لایا گیا۔ حیرت کی انتہا ہے کہ مدھیہ پردیش میں نوجوانوں میں اسپورٹس کو فروغ دینے والی تنظیم کروائی اسپورٹس ویلفیئر اکیڈمی کو بھی سیمی کا اتحادی قرار دے دیا گیا۔ اس تنظیم کا قصور یہ ہے کہ چند سال قبل جب پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شہریار خان بھوپال آئے تھے تو انہیں اس تنظیم کی ایوارڈ تقسیم کرنے والی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ حکومت نے سیمی پر پابندی برقرار رکھنے کیلئے حلف نامے میں میں یہ بھی بتایا ہے کہ اس تنظیم نے مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں اور دیگر مسلم تنظیموں میں رسائی حاصل کرلی ہے تاکہ اس کےخلاف عائد پابندیوں کو ختم کرنے کیلئے رائے عامہ تیار کرکے حکومت پر دبائو ڈالا جا سکے۔

حکومت نے حلف نامے میں جن تنظیموں کو سیمی کی اتحادی قرار دیا، قارئین بالخصوص مسلم قیادت کی آنکھیں کھولنے کیلئے اسکی فہرست پیش کی جارہی ہے؛ خزینتہ الکتب الاسلامیہ ، جوہوپارہ یوتھ فیڈریشن گجرات، عوامی جمہوری محاذ اور تحریک تحفظ اسلام اتر پردیش، اتحاد المسلمین، انجمن نوجوانان اسلام اور اسٹوڈنٹس اسلامک فیڈریشن بہار، اقبال گیشنا پریشد، فیڈریشن آف مسلم آرگنائزیشن، مسلم یوتھ فرنٹ، تحریک دعوت اسلام، آل بنگال اسلامک اسٹوڈنٹس کانفرنس، یونائٹیڈ فورم آف اسلامک آرگنائزیشن اور بنوپربھا تمام مغربی بنگال۔ اسکے علاوہ مہاراشٹر کی آٹھ مسلم تنظیمیں خیرامت ٹرسٹ، ادارہ خیرامت، تحریک حیات امت، سابقہ طلبہ کی تنظیم، اصلاح معاشرہ، فارغین جماعت، خدمت خلق اور قرآن فائونڈیشن شامل ہیں۔

ییس تنظیموں کا تعلق کیرالہ سے ہے جن کے نام یہ ہیں: فورم فار آئیڈیالوجیکل تھاٹ، کرونا فائونڈیشن، اسلامک یوتھ سینٹر، مانس فائونڈیشن، ایسوسی ایشن فار رورل ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ ، مسلم مونیٹا، سمسکار یکا سمیتی، درشن یوتھ مومنٹ، حراچیر یٹیبل ٹرسٹ، مسلم یوتھ کلچر فورم، مسلم شوریدہ بیدی، دھیشانا، الجماعت نیتھی دیدی، سینٹر فار انفارمیشن اینڈ سوشل ایکٹی ویٹرز، امیر المسلمین، امام غزالی ٹرسٹ، دارالقرآن، سہروردیہ لائبریری، انسٹی ٹیوٹ آف قرانک ریسرچ اینڈ انالیسس اور مائناریٹی رائٹس واچ۔

خیال رہے کہ کیرالہ ملک کی ایسی ریاست ہے جس میں مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس حلف نامے میں حکومت نے عدالتی ٹریبونل کو بتایا ہے کہ سیمی پر مسلسل پابندیوں کے باوجود یہ تنظیم اپنے نیٹ ورک کو زندہ رکھنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں کامیاب رہی ہے اور وہ ملک میں بھر میں لٹریچر، کتابجوں، میگزین اور پوسٹر وغیرہ کے ذریعہ مذکورہ بالا تنظیموں کی مدد سے اپنی آئیڈیالوجی کو پھیلانے مں مصروف ہے۔

حکومت نے اپنے حلف نامے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سیمی اپنے لٹریچر اور دیگر ذرائع کے ذریعہ اسلام کے نظام خلافت کی تشہیر کر رہی ہے اور اسے ملک میں نافذ کرنے کی خواہش مند ہے۔ سیمی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم مسلم نوجوانوں کو اسلام پر مکمل عمل کرنے اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے پر بھی زور دیتی ہے۔ حلف نامے میں اس سلسلے میں ایک کتاب کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کا نام "خلافت کے تمام مسائل کا واحد حل"ہے۔ حلف نامے کے مطابق اس کتاب کو مہاراشٹر سے اسوقت ضبط کیا گیا جب سیمی کے کارکنان اسے مسلمانوں میں تقسیم کر رہے تھے۔

اسلام کے نظریہ خلافت یا سیمی جس نظریہ خلافت کو پیش کرتی ہے اس سے اختلافات کی گنجائش تو موجود ہے لیکن مہاتما گاندھی کے اس خط کے بارے میں کیا کہیں گے جو انہوں نے جولائی 1937ء کو اسوقت کی صوبائی حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ کے نام لکھا تھا۔ گاندھی نے اس خط میں کانگریسی وزرائے اعلیٰ کو سادگی اور ایمانداری کے ساتھ حکومت کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے لکھا کہ :"میں آپ کے سامنے ابوبکر اور عمر کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ رام اور کرشن تو ماقبل تاریخ کے کردار ہیں، میں انکے نام مثال کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مہارانا پرتاپ اور شیواجی بھی سادگی کا پیکر تھے لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے جو کچھ کیا اس پر لوگوں کی رائیں مختلف ہیں، تاہم پیغمبر{صلی اللہ علیہ وسلم} اور انکے خلفاء حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بارے میں آرا میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ دنیا بھر کی دولت انکے قدموں میں تھی، اس کے باوجود انہوں نے جس مشقت اور سادگی کی زندگی گزاری تاریخ میں اسکی مثال ملنا مشکل ہے"۔ گاندھی نے مذید کہا کہ "اگر کانگریسی وزراء اسی طرح کا سادگی کا مظاہرہ کریں تو اس سے ملک کا ہزاروں روپیہ بچے گا اور غریبوں اور ناداروں کو امید کی کرن دکھائی دے سکتی ہے اور حکومت کے کام کاج پر بھی اسکا بہتر اثر پڑے گا"۔ مہاتما گاندھی کا یہ خط “Collected works of Mahatma Gandhi” میں موجود ہے اور یہ 17 جولائی 1937ء کو انکے اخبار"ہریچن" میں بھی شائع ہو چکا ہے۔

سیمی کے خلاف پابندی کو برقرار رکھنے کیلئے دلائل اور ثبوت کے طور پر حکومت کی طرف سے عدالتی ٹریبونل میں پیش کیا گیا یہ حلف نامہ دراصل بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کی اس سوچ کی عکاس ہے جس کی بنا پر وہ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم کے فروغ کو بھی انتہا پسندی کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس حلف نامہ اور بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کے رویہ سے ظاہر ہے کہ راہول گاندھی کا یہ بیان کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ایجنسیاں مظفرنگر فسادات کا بدلہ لینے کیلئے ایک سازش کے تحت گرفتاریوں کی تیاریاں کر رہی ہے۔ تیاریاں کر رہی ہیں۔ گزشتہ دس برسوں سے بھارت میں کانگریس کی حکومت ہے اور تمام تر ناراضگیوں کے باوجود مسلمانوں کی اکثرییت اس پارٹی کو ووٹ دیتی ہے۔ اس لیے اس پارٹی سے امید کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کے حقمیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے گی اور انہیں مجبور و مقہور نہیں بننے دے گی۔

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند