تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک امریکہ تعلقات: نظرثانی!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 1 محرم 1435هـ - 5 نومبر 2013م KSA 20:49 - GMT 17:49
پاک امریکہ تعلقات: نظرثانی!

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس طے شدہ وقت پر ہی ہوئی لیکن منظر نامہ تبدیل ہوچکا تھا اور نفس مضمون بھی۔ جمعتہ المبارک کی جس شام انہیں قوم کو یہ نوید سنانا تھی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تین علمائے کرام کا ایک وفد، حکومت پاکستان کا ایک خط لے کر باہمی طور پر طے کردہ ایک مقام کی طرف روانہ ہوگیا ہے اس شام وہ اہل وطن کو بتا رہے تھے کہ امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت نے ان کوششوں کو سبوتاژ کردیا ہے۔ وزیرداخلہ کے لب و لہجہ میں تلخی کا عنصر خاصا نمایاں تھا جسے عین فطری کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے شب و روز کی تھکادینے والی ریاضت کے بعد یہ کامیابی حاصل کی تھی کہ بالآخر طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک باضابطہ رابطہ قائم ہورہا تھا۔ امریکی ڈرون نے تنکا تنکا جوڑ کر کی جانے والی آشیاں بندی کو پل بھر میں بھسم کردیا۔ چوہدری نثار علی خان کی برہمی بلاجواز نہ تھی اور ان کا یہ کہنا بھی بے محل نہ تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی جائے گی۔

ادھر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ قیام امن کی کوششوں کو زک پہنچا کر بالواسطہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی نہ کرے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انہیں ضمانت دی تھی کہ کم از کم مذاکراتی عمل کے دوران کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا جائے گا لیکن یہ عہد نہ نباہا گیا۔ شبہازصاحب نے اس امریکی عہدیدار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن اسلام آباد کے باخبر صحافیوں کو بیشتر تفصیلات کا بخوبی علم ہے۔ یہ عہدیدار پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن تھے۔ شہباز شریف درجنوں زبانوں پہ عبور رکھتے ہیں لیکن سفارتی ایچ پیچ اور منافقتوں میں گندھی لچھے دار خوش کلامیوں کی زبان سے ناآشنا ہیں۔ سیدھی، کھری اور دو ٹوک بات کہنے کی کوشش میں وہ لفظوں کی نزاکت اور حملوں کی لطافت کا کم ہی خیال کرتے ہیں۔ وہ ڈرون حملوں کے بارے میں کم و بیش عمران خان جیسا ہی سخت گیر موقف رکھتے ہیں۔ امریکہ کی خوئے جہاں داری بھی انہیں نہیں بھاتی۔ پنجاب کی حد تک وہ امریکی امداد سے بھی دست کش ہو چکے ہیں۔ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران انہوں نے ڈرون حملوں کے منفی اثرات پر کھل کر بات کی پھر ان کے مخصوص بہائو کی ایک لہر اٹھی اور بولے ’’ڈرون حملہ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ہمارے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہو‘‘۔ امریکی سفیر چونک کر بولے۔ کیا واقعی، شہباز نے اپنے جملے کی مزید تشریح کردی۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک اور ملاقات کے دوران رچرڈ اولسن نے شہباز شریف سے کہا۔ ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے دوران ڈرون حملے نہیں کئے جائیں گے‘‘۔

چوہدری نثار علی خان نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اس یقین دہانی کا حوالہ دیا تھا۔ شہباز شریف نے بھی اس ضمانت کا ذکر کیا ہے۔ عین ممکن ہے وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کے دوران بھی کسی نہ کسی سطح پر اس نوع کا وعدہ کیا گیا ہو۔ کچھ اخباری رپورٹس اس کی تصدیق بھی کرتی ہیں لیکن پراسراریت کی گہری دھند میں لپٹے اس کھیل کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہورہا ہے کہ آخر ایکا ایکی حکیم اللہ محسود امریکہ کا سب سے بڑا ہدف کیسے بن گیا۔ حکیم اللہ محسود اسی روز نشانہ کیوں بنا جس روز مذاکراتی عمل کا باقاعدہ آغاز ہورہا تھا؟ اس سوال کے کئی جوابات ہوسکتے ہیں لیکن ایک بات حتمی ہے کہ امریکہ اس مذاکراتی عمل کے حق میں نہیں۔ اسے اچھی طرح خبر تھی کہ حکیم اللہ کی ہلاکت سے مائل بہ مذاکرات طالبان کی طرف سے شدید ردعمل آئے گا۔ پرامن حل کے حامیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور تشدد پسند عناصر کو تقویت ملے گی۔ طالبان کی طرف سے آنے والا تازہ بیان، امریکی توقعات یا منصوبہ بندی کے عین مطابق ہے۔

حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں پر برہمی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا عزم فوری ردعمل کے سیاسی اشارے ہیں۔ حکیم اللہ محسود بے شک پانچ کروڑ کی قیمت رکھنے والا ایسا شخص تھا جس نے پاکستان میں کئی وارداتیں کیں اور جو حکومت پاکستان کو بھی مطلوب تھا لیکن امریکہ کو بہرحال یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے طور پر فیصلے کرتا اور لوگوں کی گردنیں اڑاتا رہے۔ حکومت کی رنجش کا ایک سبب یہ ہے کہ حکیم اللہ اس وقت نشانہ بنا جب وہ بہت سے دوسرے گروہوں سمیت، بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہوچکا تھا لیکن کیا حکومت پاکستان واقعی پاک امریکہ تعلقات پر نظرثانی کرسکے گی؟ کیا واقعی ہمارے پیکر خاکی میں اتنی جان ہے کہ ہم پورے قد کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور معروضی احوال و کوائف سے بے نیاز ہو کر امریکہ سے ٹکرا جائیں؟
ایک اسلوب جانبازی تو وہی ہے جس کا مظاہرہ عمران خان کررہے ہیں۔ ایسی مہم جویانہ سوچ نئی نہیں۔ بزورنیٹو سپلائی روک لینے سے کیا امریکہ گھٹنے ٹیک دے گا؟ برسوں یہ ہتھیار استعمال نہ ہوا لیکن اس کے استعمال کی دھمکی خاصی کارگر رہی۔ سلالہ چوکی کے واقعے کے بعد ہم نے یہ کیمیائی میزائل بھی چلا لیا۔ سات ماہ تک نیٹو سپلائی بند رہی اور افغانستان میں امریکی جنگ چلتی رہی۔ بالآخر ہم تھک گئے اور اپنی آبرو کے تحفظ کے لئے امریکہ سے ایک بے آب و رنگ سی معافی کی عرضی گزاری، یوں گاڑی پھر چل پڑی۔ خان صاحب کی سیاست اسی نوع طفلانہ شوخ چشمیوں سے عبارت ہے سو انہیں روایتی فاتحین کے ساتھ مل کر اس بے ثمر مہم جوئی کی راہ پہ چلنے دیجئے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان، تازہ ترین امریکی رویے کے بعد، باہمی تعلقات پر کیا نظرثانی کرسکتی ہے؟ اس میں کبھی کوئی شک نہیں رہا کہ امریکہ (ہر دوسرے ملک کی طرح) اپنی ترجیحات رکھتا ہے۔ اس کی بیشتر ترجیحات پاکستانی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس نے پاکستان کو اپنا نان نیٹو اتحادی قرار دے رکھا ہے لیکن خطے میں اس کی شطرنج کا سب سے بڑا مہرہ بھارت ہے۔ وہ افغانستان سے انخلاء کے بعد اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان کا عمل دخل محدود ہوجائے۔ اس مقصد کے لئے وہ کابل میں بھارت کا کھونٹا مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو ہماری معاشی حالت زار کا بھی علم ہے۔ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی تجوری میں پانچ سات ارب ڈالر کا زرمبادلہ پڑا ہے جبکہ بھارت تین سو ارب ڈالر کے ذخائر رکھتا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کونکیل ڈالنے کے لئے بھی اس کی نگاہیں بھارت پہ جمی ہیں۔ کیا امریکی تھنک ٹینکس سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسا ماحول پیدا کررہے ہیں کہ پاکستان خم ٹھونک کر امریکہ کے سامنے آکھڑا ہو؟ کیا بھارت بھی اس ناٹک کا ایک اہم کردار بن چکا ہے؟

امریکہ کے سامنے واضح کر دینا چاہئے کہ وہ پاکستان کو ایک لاوارث چراگاہ نہ سمجھے۔ قومی آزادی و خود مختاری اور حاکمیت اعلیٰ کے بارے میں کوئی ابہام نہ رہنے دیا جائے۔ اس حوالے سے باہمی تعلقات میں جتنی تراش خراش ضروری ہے، وہ کی جائے لیکن وزیراعظم نواز شریف کو قومی تاریخ کے اس نازک موڑ پر، عوامی مقبولیت کی لہروں پر سوار ہونے یا کوچہ و بازار کی نعرے باز سیاست کے سطحی پن کا شکار ہونے کے بجائے، ایک مدبر کے طور پر دانشمندانہ حکمت عملی تراشنا ہوگی؟ ایسی حکمت عملی جو قومی مفادات اور ریاستی خودمختاری کی امین بھی ہو اور تلخ زمینی حقیقتوں کے شعور کی پاسدار بھی۔ ہم بے مغز اور کھوکھلی جذباتیت کی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ عالمی اوباشوں کی باریک چالیں، ہمیں فراست سے عاری جذباتیت کے اندھے جنگلوں میں دھکیل دیں اور ہمیں واپسی کا کوئی راستہ بھی نہ ملے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند