تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ملالہ تضحیکِ پاکستان کی مرتکب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 3 محرم 1435هـ - 7 نومبر 2013م KSA 10:19 - GMT 07:19
ملالہ تضحیکِ پاکستان کی مرتکب

 برطانیہ کے جریدہ اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں ہر سال 52ہزار افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ اب تک ایک لاکھ برطانوی شہری اسلام قبول کر چکے ہیں اور ان کے قبولِ اسلام کی وجہ صرف اسلامی تعلیمات کا مطالعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے بہتر سماجی رویوں، اخلاقی اقدار، دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بہتر مساوی سلوک نے بھی قبولِ اسلام میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی وجہ ہے بھی بیان کی قبولِ اسلام کا سبب بدترین حالات میں راسخ العقیدہ مسلمانوں کا خوفِ خدا اور خوفِ آخرت سے بے نیاز ہونا بتایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بگرام میں دنیا کو تہذیب و شائستگی کا سبق سکھانے والے امریکی فوجیوں نے اکیلی عافیہ صدیقی کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا وہ اس کی زندہ مثال ہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، سپین ، جرمنی، ہالینڈ اور دیگر ممالک کے ہزاروں فلم سٹار، سائنس دان، کھلاڑی ، ڈاکٹر، انجینئر اور سیاستدان دائرہ اسلام میں داخل ہو کر دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ترقی یافتہ تہذیب و تمدن خیرہ کن سائنسی و سماجی ترقی اور عہدِ حاضر کے علمبردار امریکہ و یورپ کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ مذہبی تعصب، نسلی امتیاز اور اقتصادی و معاشی مفادات کا آئینہ دار ہے اور اس پھیلتے ہوئے مذہب کے خوف کا مظہر اِسی لئے امریکہ اور یورپی ممالک نے ملالہ کو پاکستان کے ضمیر فروش کالم نگار، اینکرز، دانشور اس نادان لڑکی کو بہت ہی زیادہ کر رہے ہیں۔

میں نے چند ماہ پہلے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ملالہ کا سارا کردار انتہائی پراسرار ہے۔ برطانوی ادارے نے سوات کے ضیاءالدین کی توسط سے ملالہ کو محض دولت اور مادی ترقی کے لئے مغرب کا ہتھیار بنا ڈالا۔

ضیاءالدین کی ملالہ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ملالہ کے ذریعے اسلام، پاکستان اور اس کی تہذیب کا مذاق اُڑانے کے لئے ملالہ کی شخصیت کو سامنے لایا گیا ہے۔ اور ملالہ ایسے سیکولر ذہنیت رکھنے والے اور اسلام دشمن ممالک کے ایسے نام نہاد دانشوروں، ملکی اور غیر ملکی میڈیا پرسنز کے ہاتھوں چڑھ گئی جو اسے اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ملالہ پر سازش کے تحت فرینڈلی فائر کر کے اسے اسی طرح زخمی کیا گیا جس طرح انڈیا کے پاپولر ڈرامہ سی۔ آئی۔ ڈی میں منظر دکھائے جاتے ہیں۔ اور اسی واقعہ کی آڑ میں اس کو ایسے حساس مذہبی معاملات میں گھسیٹا جا رہا ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے انتہائی حساس نوعیت رکھتے ہیں اور جس کی وجہ سے ملالہ انتہائی متنازع شخصیت کا روپ دھار چکی ہے۔

ملالہ کو اپنی کتاب میں اپنی زندگی، اپنی تعلیم، اپنے غریب لاچار اور اس کے کاروباری سرپرستوں نے اس نام نہاد آپ بیتی نما کتاب میں ملعون سلمان رشدی کی کتاب کے حوالے سے آزادی رائے کے حق میں بات کرنا، اللہ تعالیٰ کے ارشادات کئے ہوئے قانون کے نفاذ پر اعتراض اُٹھانا، ناموسِ رسالت ﷺ کے قانون کو پاکستان میں سخت کئے جانے کی بات کرنا، قادیانیوں اور مسیحی برادری پر پاکستان میں حملوں اور یہ کہنا احمدی (قادیانی) اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت ان کو غیر مسلم سمجھتی ہے۔ ملالہ کے سرپرست نے ایسے موضوعات کو شامل کروایا جو مسلمانوں اور اسلام مخالف قوتوں کے درمیان تناﺅ کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔

اب بین الاقوامی سازش کے تحت ملالہ کے ذریعے اسلام اور پاکستان کے خلاف ایک عام سی لڑکی کے ذریعے کہلوانا اور لکھوانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس کے والد نے اس کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

حقیقت یہ ہے وہ خود اس کتاب کا ایک ورق بھی نہیں لکھ سکتی۔ لہٰذا اب اگر پاکستان کی محب وطن سول سوسائٹی عدالتِ عظمی میں ملالہ کی نام نہاد کتاب کے حوالہ سے آئین کے آرٹیکل 184کے تحت آئینی درخواست دائر کر دیں اور عدالت سے استدعا کرے کہ ملالہ کو طلب کر کے اس سے کتاب کے متن کے بارے میں استفسار کر لیں تو وہ اور ان کے والد عدالت کے روبرو اپنا دفاع نہ کر پائیں گے۔

ملالہ نبی اکرمﷺ (Holy Prophet)کا حوالہ دیا مگر ایک مرتبہ بھی ﷺ(Peace be Upon Him)نہیں لکھا۔ میں نے تو غیر مسلموں تک کو بھیProphetکے ساتھPBUHلکھتے دیکھا۔ یہاں تک کہ صدر اوباما نے عید الفطر اور عید الضحیٰ کے موقع پر اپنے پیغامات میں Prophetکے ساتھ PBUHکا ذکر کیا تھا اور ملالہ کے نام پر جو کیا گیا وہ نہ صرف کسی مسلمان کے شایانِ شان ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے۔

ملالہ کی کتاب پڑھ کر یہ بات سمجھ میں آنے لگتی ہے کہ امریکہ و یورپ جنہوں نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق، افغانستان اور پاکستان میں لاکھوں مسلمانوں جن میں ہزاروں معصوم بچیاں شامل تھیں ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے وہ سوات کی اس ملالہ پر کیوں اتنے فریفتہ ہو گئے اور اس ملالہ کو کس مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے باپ نے بیٹی کے نام سے منسوب کتاب کو اپنے خیالات کے اظہار کا کیوں ذریعہ بنایا اور حیرت اس بات کی ہے کہ ملالہ کی عیادت کے لئے چیف آف آرمی سٹاف، صدرزرداری، وزیراعظم، کے علاوہ عمران خان سمیت ملک کے تمام معتبر اکابرین نے امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کو خوشنودی کے لئے کیوں اس کے ہاں حاضری دی اور نوبل پرائز نہ ملنے پر عمران خان، بلاول زرداری اور دیگر ناپختہ کار سیاستدانوں نے ملکی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنے کے بجائے ملالہ کو مستقبل کا وزیراعظم ہی قرار دے دیا ۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند