تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ملالہ کا مغرب میں امیج
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 3 محرم 1435هـ - 7 نومبر 2013م KSA 09:51 - GMT 06:51
ملالہ کا مغرب میں امیج

 پچھلے دنوں میرے ایک دوست امریکہ سے آئے وہ اوباما کے شہر شکاگو میں رہتے ہیں۔ کہنے لگے ملالہ پر طالبان نے حملہ کیا تو اس کے ساتھ ہی امریکہ میں اس بچی کیلئے ہمدردی کی لہر اٹھی اس کے بعد میڈیا نے ملالہ کے بارے میں خبریں دینا شروع کیں اور بتایا کہ یہ ننھی بچی پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے جدوجہد کر رہی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان میں بھی لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت ہو اس جدوجہد میں اس نے بی بی سی میں بلاگ بھی لکھے اور جو محنت کی وہ قابل ستائش ہے۔

اس کے بعد میرے دوست نے بتایا کہ ان سے ان کے کام کے مقام پر جس امریکی سے بھی بات ہوئی وہ امریکی میڈیا کی دی گئی خبروں کے مطابق ہم سے مختلف سوال کرتا اور پوچھتا کہ تمہارے ملک میں لڑکیوں کو اب تک تعلیم کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ اور اگر آج 21ویں صدی میں ایک ننھی بچی پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا انقلاب لاناچاہتی ہے تو اس میں رکاوٹ کیوں؟

میرے دوست کہتے ہیں کہ کچھ دن تو میں نے امریکیوں کی یہ باتیں سنیں پھر میں نے کہا میں ان کو جواب بھی ایسا ہی دوں جس طرح کی وہ باتیں کر رہے ہیں جب ایک امریکی نے مجھ سے پوچھا ’’کیا واقعی تمہارے ملک میں اب تک لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت نہیں ہے ؟‘‘ میں نے کہا’’ہاں بالکل نہیں‘ تم کو معلوم ہے تمہارے ملک میں پاکستان سے دو خواتین سفیر کے طور پر کام کرتی رہی ہیں اور ان دونوں کو دستخط تک نہیں کرنا آتے تھے یہ عام طور پر اپنے چیک پر بھی انگوٹھا لگاتی تھیں پھر جب ان کو سفیر لگایا گیا تو ان کو دستخط کرنا سکھائے گئے پھر یہ لوگ دستخط کوایک ڈرائنگ کے طور پر کرتی ہیں۔

بےنظیر بھٹو صاحبہ کے والد نے ان کو انگلینڈ اور امریکہ بھیج دیا تھا اس لئے وہ پڑھ لکھ گئی تھیں۔اس پر وہ امریکی حیرت زدہ رہ گیا کہنے لگا’’مجھے پاکستان پر اور پاکستان کی لڑکیوں پر رحم آتا ہے‘‘۔ میں نے اس سے کہا’’مجھے امریکیوں پر اور تم پر رحم آتا ہے کہ میڈیا نے تم کوپاکستان کی تعلیم کے بارے میں ایسی ہی معلومات دی ہیں جنہیں اس نے تمہیں چاند پر نیل آرسٹرانگ اور میجرایلنا کے جانے کے بارے میں دی تھیں اور تم ان معلومات پرایمان لے آئے تھے اور ایمان لے آئے ہو‘‘۔ایسی بہت سی باتیں سنانے کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا کہ ویسے ملاملہ پر قاتلانہ حملہ کس نے کیاتھا؟میں نے کہا ’’کہا تو یہ جاتاہے کہ طالبان نے حملہ کیاہے‘‘۔ میرادوست بولا ’’کون سے طالبان؟ کیونکہ کئی لیڈروں کے مطابق پاکستان میں 32قسم کے طالبان ہیں اور یہ کس قسم کے طالبان تھے کہ جنہوں نے اپنی مرضی کا حملہ کیا، گاڑی میں گھس کر گولیاں چلائیں اور صرف زخمی کیا۔ کیاا یسے ہی قاتلوں کے بارے میں کہا جاتا ہے؟ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو‘‘۔ میرے دوست نے کہا’’میں امریکیوں کو بتاتاہوں کہ ملالہ پر پختون طالبان حملہ نہیں کر سکتے کیونکہ پختونوں کی صدیوں پرانی روایت ہے کہ وہ بچوں اور عورتوں کو خنجر‘ تلوار یا گولیوں کانشانہ نہیں بناتے۔ جو لوگ عورتوں اور بچوں پر حملہ کرتے ہیں یہ ان کے طالبان ہیں۔ ایسے طالبان اگر پکڑے بھی جاتے ہیں کبھی ٹیٹو کے ساتھ اور کبھی غسل میت کے وقت‘‘۔

میں نے اپنے دوست کو بتایا امریکی تو یہ سمجھتے ہیں کہ پورے پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ہے لیکن میں بھی یہ سمجھتاتھا کہ شاید صوبہ سرحد یا سوات میں ایسی پابندی ہو گی جس کے خلاف ملالہ نے تحریک شروع کی۔ نیٹ پر انہی دنوں ایک لابی نے سوات کے سیدوشریف گرلز کالج کا بورڈ ہٹا کر وہاں ملالہ گرلزکالج کا بورڈ لگا دیا اس پر کالج کی لڑکیوں نے احتجاج کیااور ملالہ والا نیابورڈ اکھاڑکر جلادیا اس کے بعد پتہ چلا کہ سوات میں توکئی عشروں سے گرلز کالج قائم ہے میرا دوست بہت حیران ہے کہ سوات کے ایک اسکول کے مالک کے ساتھ امریکی سفیروں اور سی آئی اے کے اعلیٰ افسروں کے تعلقات کیوں تھے کہ وہ اس کے گھر بھی آتے تھے اورپھر اس کی ننھی بچی کے ساتھ بھی بیٹھتے تھے۔

پاکستان میں لڑکیوں میں تعلیم نہیں ہے‘‘ کا نعرہ پوری دنیا میں کیوں عام کیاجارہاہے؟ اس کیلئے ملالہ کی مثال کیوں بنائی جارہی ہے اس کی ملاقات امریکی صدر اور برطانوی ملکہ سے بھی کرادی گئی، اقوام متحدہ میں اس کی تقریر بھی کرا دی گئی اور میڈیا اسے نوبل کوریج دے رہا ہے وہ یہ یاد نہیں کرتے کہ اسی پاکستان کے ایک اسکول جامعہ حفصہ میں طالب علموں کے جسموں کو فاسفورس سے جلا دیا گیا تھا۔ ملالہ کی طرف سے ایک کتاب بھی شائع ہو گئی ہے۔ امریکہ سے آنے والا میرا دوست یہ کتاب بھی پڑھ رہا ہے اور ہمیں بھی پڑھا رہا ہے وہ کہتا ہے جس نے یہ کتاب لکھی ہے اس نے بتایا ہے کہ آئی ایم ملالہ اور کتاب میں جو خیالات پیش کئے گئے ہیں وہ بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہی اصل ملالہ ہے اور مغرب کو ایسی ہی ملالہ کے امیج کی ضرورت تھی۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند