تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈرون اور ڈالر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 6 محرم 1435هـ - 10 نومبر 2013م KSA 10:59 - GMT 07:59
ڈرون اور ڈالر

 سیاست میں سیاہ اور سفید جیسا دوٹوک پن کم ہی ہوتا ہے۔ سرمئی رنگ اکثر و بیشتر حاوی رہتا ہے جو سیاہ اور سفید کی آمیزش سے تیار ہوتا ہے۔ سیاست بنیادی طور پر اقتدار کا ایک بے رحم کھیل ہے جس میں دائو پیچ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ دائو پیچ کے اس اسلحہ خانے میں جھوٹ، منافقت اور دوغلہ پن جیسے ہتھیار خاصے کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ جو شخص بھی شاطرانہ چالیں چلنے اور اپنے چہرے پہ کئی چہرے چڑھا لینے کے فن میں طاق ہو، وہ اقتداری سیاست میں خاصا کامیاب رہتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے بعض اوقات اخلاقیات جیسی معصوم چیزیں بھی کچلی جاتی ہیں اور تضادات بھی سر اٹھاتے ہیں لیکن ان سب باتوں کو تقاضائے سیاست سمجھ کر قبول کرلیا جاتا ہے۔

گزشتہ روز ایک اسٹوری دی نیوز میں شائع ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے نزدیک خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کامیاب و کامران دیکھنا ایک اہم ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے بین الاقوامی ترقی کے لئے قائم امریکی ادارے ’’یو ایس ایڈ‘‘ نے ڈالروں کی برسات کا رُخ خیبرپختونخوا کی طرف موڑ دیا ہے جہاں تحریک انصاف کے عمائدین اور امریکی اہلکار، باہمی مشاورت سے مختلف منصوبوں کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے عوامی چہرے اور انقلاب آفریں بیانات سے قطع نظر یو ایس ایڈ اس وقت تحریک انصاف کے تعاون سے لگ بھگ پچاس ارب روپے کے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ یہ رقم باقی پاکستان میں خرچ کی جانے والی مجموعی رقم سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں جاری ’’یو ایس ایڈ‘‘ منصوبوں کی لاگت 87ارب روپے ہے۔ گویا 37 ارب روپے باقی پاکستان کے لئے مختص ہیں اور 50ارب روپے صرف خیبرپختونخوا کے لئے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق گڈ گورننس، صحت، تعلیم، پانی اور اس نوع کے جن دیگر منصوبوں پر کام ہورہا ہے ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہے۔ خیبر پختونخوا کی چار یونیورسٹیوں اور صوبے کی کوئی تیرہ پریس کلبوں کو بھی ٹیکنیکل اور دیگر امداد دی گئی ہے۔ 25کروڑ ڈالر کے ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ کا ایک بڑا حصہ بھی خیبرپختونخوا کو مل رہا ہے۔ گورننس سپورٹ فنڈ کے لئے 60لاکھ ڈالر فراہم کئے گئے ہیں۔ سڑکوں کی مرمت کے لئے 80لاکھ ڈالر مل رہے ہیں۔ صحت کی سہولتوں کے لئے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر مختص ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے خیبرپختونخوا کے گورنر سے تفصیلی ملاقات کی اور فاٹا سمیت خیبرپختونخوا میں جاری منصوبوں پرتبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ سے آئے کئی ماہرین، آئے روز تحریک انصاف کے انقلابی قائدین کے ہمراہ خیبرپختونخوا آتے اور تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ متعدد اجلاسوں میں جماعت اسلامی کے رہنما اور خیرپختونخوا کے وزیرخزانہ جناب سراج الحق بھی شرکت کرتے ہیں جو اس امریکی زرنوازی کا مدلل جواز پیش کرچکے ہیں۔

ڈالروں کی اس برسات کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں کی برکھا بھی جاری ہے۔ پاکستان کی رائے عامہ ان حملوں کے خلاف ہے اور ملک بھر میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو کھل کر ان حملوں کی حمایت کررہی ہو۔ وزیراعظم نوازشریف اقوام متحدہ سے خطاب اور صدر اوباما سے ملاقات کے دوران کھل کر اپنا موقف پیش کرچکے ہیں لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈرون حملوں کی مخالفت میں عمران خان کی آواز سب سے نمایاں ہے۔ عوامی اجتماعات میں و بعض اوقات اس مجاہدانہ بانکپن اور سپاہیانہ طمطراق کے ساتھ امریکی رعونت پر برستے ہیں کہ سید منور حسن بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔ وہ اکثر قومی غیرت کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور کشکول برداری پر بھی بھرپور سنگ زنی کرتے ہیں۔ وہ متعدد بار نیٹو سپلائی روکنے کے لئے احتجاجی دھرنے بھی دے چکے ہیں۔ اب ایک بار پھر وہ اعلان کرچکے ہیں کہ 20نومبر تک حملے نہ رُکے تو وہ بزور نیٹو سپلائی بند کردیں گے۔ سب سے زیادہ امریکی امداد لینے والی خیبرپختونخوا حکومت نے اسمبلی سے ایک قرارداد بھی منظور کرالی ہے۔ امریکی ڈالروں سے محبت اور امریکی ڈرونز سے نفرت کا ناٹک پورے جوبن پر ہے۔

میاں شہباز شریف بھی امریکہ کے بارے میں کم و بیش ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں لیکن ایک بڑی قومی جماعت سے وابستگی اور طویل عرصہ صوبے کا انتظامی سربراہ رہنے کی وجہ سے وہ عالمی سیاست کی نزاکتوں کو بھی سمجھ گئے ہیں۔ نواز شریف ان کے بھائی ہی نہیں، سیاسی اتالیق بھی ہیں جو حکمت کو جذباتیت پر فوقیت دینے کا ہنر سیکھ چکے ہیں۔شہباز شریف اپناجداگانہ تشخص رجسٹر کراتے رہتے ہیں۔ ڈھائی تین سال قبل جنوں کی ایک ایسی ہی لہر اٹھی تو شہباز شریف نے کہا کہ یار ان ڈرون حملوں سے ہماری بڑی توہین ہورہی ہے۔ اگر پنجاب ڈرون حملوں سے محفوظ ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں چپ رہنا چاہئے۔ سو انہوں نے اپنی خفگی کے اظہار کے طور پر امریکیوں سے کہا کہ میں یو ایس ایڈ کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہیں پاتا۔ دوسری طرف سے حیرت کا اظہار ہوا، واقفان حال کو خبر ہے کہ اس طرح کی امداد ایک طرح کی بہتی گنگا ہوتی ہے جس میں حسب توفیق کوئی ہاتھ دھوتا اور کوئی اشنان کرتا ہے۔ شہباز شریف اپنی بات پہ قائم رہا۔ انہوں نے یقینی بنایا کہ یو ایس ایڈ کے مساوی وسائل دوسرے ذرائع سے پیدا کئے جائیں تاکہ ترقیاتی یا فلاحی منصوبوں پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ امریکی اب تک کوشاں ہیں، مسلسل ترغیب دیتے رہتے ہیں۔ بھائو بھی بڑھاتے رہتے ہیں لیکن شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جس دن آپ لوگوں نے ڈرون بند کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا اس دن میں آپ کی امداد بھی لے لوں گا۔

میری معلومات کے مطابق وفاقی حکومت بھی امریکی امداد سے دستکش نہیں ہوئی۔ قرضوں کو چکانے کے لئے قرضے لینے پڑ رہے ہیں اور اس کے لئے امریکہ کی سرپرستی ضروری ہے لیکن وزیراعظم نواز شریف، اسحاق ڈار یا ان کے دیگر وزراء انقلاب آفریں نعروں، دھرنوں اور نیٹو سپلائی روکنے کے لئے مجاہدانہ جاہ و جلال کا مظاہرہ بھی نہیں کررہے ہیں۔ وہ ایک اصولی موقف کا اظہار کرتے ہوئے حکم آمیز راستہ تلاش کررہے ہیں اور جانتے ہیں کہ پاکستان فولادی دیواروں سے سر ٹکرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ سو وہ رسمی احتجاج بھی کررہے،لیکن بڑھک بازی سے اجتناب کرتے ہوئے تحمل اور توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
خان صاحب کو چاہئے کہ وہ ڈرون حملوں سے نفرت کے پُرزور اظہار کے لئے ڈالروں سے معذرت کرلیں۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہو کہ ’’غیرت‘‘ کیا چیز ہوتی ہے اور کسی فرعون کی خودسری کے خلاف مصروف جہاد لوگ، اس فرعون کے عطیات اور نوازشات سے جھولیاں بھی نہیں بھرا کرتے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند