تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ذمہ دار کون؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 10 محرم 1435هـ - 14 نومبر 2013م KSA 08:20 - GMT 05:20
ذمہ دار کون؟

 بحث تو ہوتی رہے گی،ہمیشہ ہو سکتی ہے۔ پہلے بھی ہوتی رہی تھی کہ کوّا حلال ہے یا حرام یا یہ کہ ایک سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے آ سکتے ہیں۔ نتیجہ اس کا مگر وہی نکلا جو تاریخ میں عبرت کا نشان بن گیا...سقوط بغداد۔ بزدلی گہری ہوچکی تھی، اتنی کہ مغلوب بغدادی جہاں گرایا گیا تھا وہیں پڑا رہا،تاوقتیکہ تاتاری سپاہی کند تلوار پھینک کر نئی نہیں لایا اور بزدل کو قتل نہیں کردیا۔

سو بحث تو ہوتی رہے گی جس موضوع پر چاہیں ہو سکتی ہے،جب تک چاہیں۔ فائدہ اس کا کوئی نہیں، کسی بھی مسئلے کا حل یہ نہیں۔ کون شہید ہے، کون نہیں، غیر ضروری بحث میں الجھالیا گیا ہے۔ یہ اللہ ربُّ العزّت طے کرے گا۔ اسے آپ سے مشورہ کی حاجت، نہ آپ اس کے مستحق۔ اور ذرا سطح سے نیچے دیکھیں تو مسائل کا ایک انبار ہے۔ یہ مسائل بہت تکلیف دہ ہیں، گھنائونے۔ معاشرے کو گھن کی طرح اندر ہی اندر سے کھا جانے والے، ایک ناسور ہے جو پھیل گیا ہے، جس کی تشخیص نہیں ہو سکی ہے، توجہ ہی نہیں ہے۔ یہ ان مسائل سے زیادہ گمبھیر اور تباہ کن ہیں جو اوپر سے نظر آتے ہیں...مہنگائی، امن و امان، دہشت گردی...مسائل ہیں، حل بھی ہو سکتے ہیں، ہو جائیں گے۔ سطح سے نیچے مگر ایک طوفان ہے، عذابِ الٰہی کو دعوت دیتا۔ ذمہ داری انفرادی کم ہے، اجتماعی زیادہ، سزا بھی اجتماعی ہوگی۔عذاب قوم لوط کے اُن لوگوں پر بھی نازل ہوا جو اُس قوم کے گناہوں میں شریک نہیں تھے، خاموش تو رہے تھے۔

کوئی اندازہ ہے کسی کو؟

یونہی بیٹھے بیٹھے ایک سوشل ویب سائٹ پر اُس کی نظر پڑی۔ ایک نام، ایک فون نمبر۔ بہت سی ویب سائٹس پر ہوتے ہیں۔ آج کل دوستیاں کرنے کے لئے یہ سہل ذریعہ ہے۔ رشتے بھی اب تو اس ذریعے سے جڑ جاتے ہیں۔ اِس تعارف میں مگر کچھ اور تفصیل بھی تھی۔ کاروباری سی، چند گھنٹوں کی قیمت۔ اُسے پسند نہیں آئی۔ اظہار کر دیا۔ بات وہاں ختم ہو جانی چاہئے تھی، یونہی ہوتا ہے۔ جواب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیوں ہو؟یہ کاروبار ہے۔ آپ کو مطلوب ہے تو بات آگے بڑھائی جائے، نہیں ہے تو وقت کیوں ضائع کریں۔ یوں مگر ہوا نہیں۔ بات آگے بڑھی۔’’اگر آپ کو یہ پسند نہیں تو میرے بھائی کو نوکری دلا دیں۔ہمارے گھر کی حالت بہت خراب ہے، نوکری نہیں مل رہی، مجبوری ہے‘‘۔ اس کا بھی شاید کوئی مطلب نہ ہو۔ یہ بھی شاید دھوکہ دہی کا ایک طریقہ ہو۔ یہاں معاملہ مگر مختلف تھا۔ ایک بار، دو بار، کئی بار...بار بار... اصرار ہوتا رہا۔

’’بھائی کی ملازمت کا کچھ ہوا‘‘۔
’’پلیز کچھ کر دیں‘‘۔’’جلدی کچھ کرادیں‘‘۔

یوں کب ہوتا ہے۔ پہلے ہی برائے نام، تفریح سے رابطے میں، کون اپنی ،مجبوری بیان کرتا ہے، کون اپنا دامن پھیلاتا ہے۔ ہاں مگر ضرورت اگر شدید ہو، بات اگر بہت خراب نہ ہو چکی ہو۔ ورنہ اس طرح کے معاملات تو کسی اور طرح آگے بڑھائے جاتے ہیں،مقصد اگر کچھ اور ہو۔ ایسا ہوا نہیں۔ایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں ہوا۔ ملاقات کا کوئی جھانسہ، نہیں، کچھ بھی نہیں۔ ایک ہی بات پر اصرار’’بھائی کو نوکری دلا دیں‘‘۔ یہ بھائی گریجویٹ ہے۔مقامی ہے۔اس کی تعلیمی قابلیت اتنی ضرور ہے کہ کلرک یا اس کے لگ بھگ کوئی ملازمت اسے مل سکے۔’’بہت کوشش کی ہے۔ کئی جگہ درخواستیں دی ہیں، کچھ ہوا نہیں،پلیز کچھ کرادیں، کوئی ملازمت دلا دیں‘‘۔ بس یہ ایک ہی بات، بار بار۔

اسے یہ سب جھوٹ نہیں لگا۔ سچ کی اپنی بھی کوئی قوت ہوتی ہوگی۔ اتنی تمیز اس میں ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکے۔ پھر وہ بے کلی،وہ گمبھیرتا، جو گھر کے حالات نے پیدا کردی ہے، لہجہ میں بھی اتر آئی تھی۔ دکھ کا احساس۔ اُس نے درخواست منگوالی۔ اب تک اس کے پاس پڑی ہے۔ ایک عام سا آدمی، کیا کر سکتا ہے۔

یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔ایسے بہت سے واقعات ہیں۔ پچھلے دنوں پولیس نے کچھ لوگ پکڑے۔ان میں سے کئی نے گھریلو حالات کو وجہ بتایا۔ یونہی تو کوئی اپنی متاعِ عزیز نیلام نہیں کرتا، مجبوری کی انتہا ہو گی کہ یہ لوگ کاروانِ زندگی لٹانے بازار میں آنکلے۔ کسی کو تکلیف ہو، اِک ذرا تحقیق ہو، کوئی جستجو کرے تو ایسے بہت سے خاندان ہیں، حالات کے ہاتھوں جو مجبور ہیں، بے شمار۔ گو مجبوری اس کا یا عام راہ سے ہٹی کسی اور راہ کا، کوئی جواز نہیں ہے۔مگر مجبوری تو ہے، مشکلات کا باعث تو ہو۔ نوکری اگر سیدھے راستے سے نہ مل سکتی ہو،نہ مل رہی ہو، گھر کی ذمہ داریاں ہوں، ایک راستہ انہیں کوئی دکھا دیتا ہے۔اس پر چل پڑتے ہیں۔ حقیقت تو ان کا منہ چڑاتی ہے، باقی تو بحث ہے، ’دانشوری‘ ہے۔

اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم سب ذمہ دار ہیں۔ یہ پورا معاشرہ ذمہ دار ہے جو لوگوں کی حاجتیں پوری نہیں کر پاتا۔ جسے لوگوں کی ضروریات کا کوئی احساس نہیں ہے وہ غریب کو اس کا حق،ضرورت مند کو اس کی ضرورت فراہم نہیں کر پاتا۔یہ معاشرہ یعنی ہم لوگ اس خرابی کے ذمہ دار ہیں۔

زیادہ ذمہ داری مگر حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس بات کو دہراتے رہنا چاہئے، مسلسل، بار بار اقتدار کے ایوانوں میں براجمان لوگوں کو بتاتے رہنا چاہئے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی ذمہ داری کا اتنا زیادہ احساس تھا کہ آپ ؓ فرماتے تھے کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو عمر اس کا ذمہ دار ہو گا۔ دریائے فرات مدینے سے بہت دور ہے۔ امیرالمومنین ؓوہاں تک اور مملکت کی حدود میں رہنے والے تمام انسانوں اور جانوروں کی نگہداشت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے اور یہ احساس انہیں ہمیشہ دامن گیر رہتا کہ اگر ایک حقیر جانور بھی بھوک سے مر گیا تو عمر کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔

حکمران تو یہاں بھی ہیں۔احساس سے مگر عاری۔ کتا تو کیا انسان بھی اگر بھوک سے مرے اور مرتے ہیں، تو بھی یہ خودکو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ انہیں پتہ ہی نہیں جس پر جتنی ذمہ داری ہے اتنی ہی جواب دہی ہوگی۔ یہ اپنے حال میں مست ہیں۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ان کے روزمرہ کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ ان کے محلوں کا کھانا بھی ایک عام آدمی کے دیئے ہوئے ٹیکس کا مرہونِ منّت ہے۔ اپنی جیب سے ان کا کچھ نہیں جاتا۔ یہ ایک دورے پر عوام کے لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں۔ ویب سائٹ پر اُسے ملنے والی خاتون کو صرف چند ہزار کی ضرورت ہے۔ اس کا بھائی چند ہزار روپے کی نوکری کا متلاشی ہے اور وہ جو دوسری خاتون ہے، اور تیسری، اور چوتھی... اور انگنت، نہ جانے کہاں کہاں، ان کی بنیادی ضروریات بھی چند ہزار ہی کی ہیں۔ یہ ضروریات فراہم کرنا مملکت کی ذمہ داری ہے مگر یہ ذمہ داری ادا نہیں کی جا رہی۔ کوئی کرنا ہی نہیں چاہتا۔ جوابدی کا احساس کسی کو ہے ہی نہیں۔

ایک آدمی کیا کرسکتا ہے؟ کتنا کر سکتا ہے؟ ایک اتفاقی، حادثاتی جان پہچان کے بعد اُس نے ایک بچی کی تعلیم اور کچھ اضافی اخراجات کا بوجھ اٹھا لیا۔اپنے طور پر یہ یقین کہ ضرورت اب کہیں اور سے پوری نہیں ہوگی، نہیں کی جائے گی مگر ایک فرد اپنے طور پر کتنا کرسکتا ہے۔ بھائی کو ملازمت دلانے کی کوشش اِس نے کی،کامیابی نہیں ہوئی پھر اس نے جواب دینا بھی چھوڑ دیا۔ پہلے ہر دوسرے تیسرے دن یاد دہانی کرائی جاتی تھی۔ ’کچھ ہوا‘، ’کچھ کرادیں، پلیز۔ پھر یاددہانی کے وقفے بڑھتے گئے،پھر شاید آس ہی ٹوٹ گئی۔ اِسے یہ کام پسند نہیں، مگر وہ اُس کے بھائی کونوکری نہیں دلا سکا۔ اسے اس کام سے نہیں روک سکا۔ اس کا کوئی قصور نہیں ،مگروہ بہت شرمندہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند