تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قومی تاریخ کا اہم مرحلہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 15 محرم 1435هـ - 19 نومبر 2013م KSA 20:35 - GMT 17:35
قومی تاریخ کا اہم مرحلہ

جنرل (ر) پرویز مشرف پر، غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ ہماری چھیاسٹھ سالہ تاریخ کی پہلی کروٹ ہے جو آمریت اور جمہوریت کے درمیان جاری طویل جنگ کا ایک بڑا معرکہ بننے کو ہے۔ اگر یہ معرکہ آئین، قانون اور انصاف کے میدان تک محدود رہا تو پاکستان دستوری ضابطوں پہ کاربند ایک توانا جمہوری ریاست کے طور پر ابھرے گا۔ اگر اسے مصلحتوں، منافقتوں یا زورآور قوتوں کی طاقت آزمائی کا کھیل بنادیا گیا تو ہم نئی روشن منزلوں کی طرف بڑھنے کے بجائے کئی سال پیچھے لڑھک جائیں گے۔تاریخ دم سادھے دیکھ رہی ہے کہ تینتیس برس تک آمریتوں کی آماجگاہ بنے رہنے والے اس کم نصیب ملک سے کوئی آفتاب تازہ طلوع ہوتا ہے یا نامرادی اور بے یقینی کی رات لمبی ہوتی چلی جائے گی۔

قیام پاکستان کے صرف گیارہ سال بعد جمہوریت کا دفتر لپٹا اور فوج پہلی دفعہ اقتدار آشنا ہوئی۔ گہری نگاہ رکھنے والے بابائے قوم کا ماتھا شروع میں ہی ٹھنکا تھا کہ فوجی افسروں کے دل و دماغ میں سرکشی کی ہوا چلنے لگی ہے۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے 1948ء میں اسٹاف کالج کوئٹہ کے زیر تربیت افسروں کو ان کا حلف یاد دلاتے ہوئے کہا تھا کہ تمہارا کام صرف آئین کی اطاعت اور اپنے عہد کی پاسداری کرنا ہے۔ قائد کی اس تلقین کے دس سال بعد اسکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کیا۔ دو ہفتوں بعد اسکندر مرزا کو رخصت کرکے جنرل ایوب خان ملک کے مختار کل بن گئے۔ ایوب کا اقتدار 25؍مارچ 1969ء کو غروب ہوا اور اسی لمحے جنرل یحییٰ خان کی فرمانروائی نے سفر آغاز کیا۔ یہ لمبی رات 16؍دسمبر 1970ء تک جاری رہی جب قائد اعظم کا پاکستان دو لخت ہوگیا، جنرل نیازی نے جگجیت سنگھ اروڑہ کے آگے ہتھیار ڈالے۔ ایک لاکھ قیدی بھارت کے بندی خانوں میں جابسے اور شکست کا داغ ہمارے ماتھوں کی زینت بن گیا۔

نئے سرے سے کارآشیاں بندی کرنے والوں نے سوچا کہ ملک بچانا ہے تو فوجی آمریتوں کا راستہ روکنا ہوگا۔ حمود الرحمٰن کمیشن نے بھی یہی رائے دی۔ 1973ء کے دستور میں ایک شق ڈال دی گئی کہ آئندہ آئین سے کھیلنے والا مہم جو سنگین غداری کا مرتکب سمجھا جائے گا۔ اس آرٹیکل کی روشنی میں سنگین غداری ایکٹ کی منظوری دی گئی۔ طے کردیا گیا کہ آئندہ مہم جوئی کرنے والا موت یا عمر قید کی سزا پائے گا۔ نفاذ آئین کے صرف چار سال بعد جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کرتے ہوئے مارشل لا نافذ کردیا۔ آئین کے جابر آرٹیکل6 کو خبر ہی نہ ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے اس بغاوت یا غداری کو نظریہ ضرورت کی قبا پہنا دی۔ اس فوجی حکمرانی نے گیارہ سال کی عمر طویل پائی۔ اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے صرف اپنی نوکری کے تحفظ کے لئے جمہوری نظام کی بساط الٹ ڈالی۔ اس وقت کے چیف جسٹس نے آمر کے حضور سجدہ ریز ہونے سے انکار کردیا۔کئی ججوں سمیت انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ ایک نئی عدالت تشکیل پائی جس نے اس مہم جوئی کو بھی نظریہ ضرورت کی مخملی چادر میں لپیٹ کر گود لے لیا۔مشرف نو برس تک ناقوس حکمرانی بجاتے اور آئین و قانون سے گلی ڈنڈا کھیلتے رہے۔

پرویز مشرف ہماری تاریخ کا واحد ڈکٹیٹر ہے جس نے دو بار آٹیکل 6 کو روندتے ہوئے آئین شکنی کا ارتکاب کیا۔ 12؍اکتوبر 1999ء کا اقدام، ارشاد حسن خان کی عدالت سے روا قرار پایا اور 2002ء میں تشکیل پانے والی، کنیزانہ ادائوں کی حامل قومی اسمبلی نے بھی اس کی توثیق کردی۔ 3؍نومبر 2007ء کی آئین شکنی فضا میں معلق چلی آرہی ہے۔ اسی روز یعنی 3؍نومبر 2007ء ہی کو عدالت عظمیٰ کے ایک سات رکنی بنچ نے اس اقدام کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ تعلق داروں کو تعاون سے روک دیا۔ 2008ء میں منتخب ہونے والی قومی اسمبلی تشکیل پائی تو جناب آصف علی زرداری، اپنے قریبی رفقاء کے ساتھ نواز شریف سے ملے اور خواہش ظاہر کی کہ 3؍نومبر کے اقدام کو سند جواز عطا کردی جائے۔ نواز شریف نہ مانے اور یہ معاملہ اٹک گیا۔ 31؍جولائی 2009ء کے فیصلے کی رو سے سپریم کورٹ نے 3؍نومبر کے اقدام کو خلاف آئین و قانون قرار دے دیا۔ عدالت نے کم و بیش ایک غاصب قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ چونکہ صدر رفیق تارڑ نے استعفیٰ نہیں دیا تھا اس لئے آئین کی رو سے پرویز مشرف کبھی جائز صدر نہیں رہے۔ سپریم کورٹ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ مسلح افواج کا کردار کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کسی طرح کے حالات میں بھی، وفاقی حکومت کی ہدایت یا حکم کے بغیر، فوج ازخود کوئی اقدام نہیں کرسکتی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ 3؍نومبر کے غیرآئینی اقدام کی تمام تر ذمہ داری ایک فرد واحد پر عائد ہوتی ہے چاہے اس نے کتنے ہی لوگوں سے مشاورت کیوں نہ کی ہو کیونکہ ’’ایمرجنسی‘‘ کے نفاذ کی دستاویز میں لکھا ہے …’’میں جنرل پرویز مشرف پورے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرتا ہوں‘‘ اس نے رعایا سے خطاب کے دوران بھی ’’میں‘‘ ہی کا صیغہ استعمال کیا سو قانون اسی ’’میں‘‘ کو شکنجے میں لے گا۔

اسے اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہر مارشل لا کے بعد حکمرانی کا تاج پیپلزپارٹی کے سر سجا۔ ایوب اور یحییٰ کے طویل مارشل لائی عہد کے بعد ذوالفقار علی بھٹو یکے بعد دیگرے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، صدر مملکت اور وزیر اعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔ آئین میں آرٹیکل6 کی شمولیت کے وہ پرجوش وکیل تھے لیکن 1978ء تک انہوں نے اس آرٹیکل پر لحاف ڈالے رکھا اور ایوب یا یحییٰ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ حمود الرحمٰن کمیشن نے نام لے کر بعض جرنیلوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی سفارش کی۔ بھٹو یہ حوصلہ بھی نہ کر پائے۔ ضیاء الحق کے طویل مارشل لا کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے آئین سے غداری یا اپنے والد کو پھانسی کے حوالے سے آرٹیکل6 کو حرکت دی نہ کوئی علامتی مقدمہ قائم کیا۔ البتہ جنرل اسلم بیگ کی ستائش کرتے ہوئے فوج کے سینے پر ’’تمغہ جمہوریت‘‘ سجایا اور یہ جانا کہ اب ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ باقی نہیں رہا۔ پرویز مشرف کا عہد غروب ہوا تو ایک بار پھر پیپلزپارٹی کو زمام حکومت ملی۔ اب کے بھی 1973ء کے آئین کی کلغی سر پہ سجانے اور جمہوریت کے ترانے گانے والی عوامی جماعت کو حوصلہ نہ ہوا کہ وہ آرٹیکل6 کو آواز دیتی۔ مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کردیا گیا اور این آر او کی ساون رت میں ’’پانچ سال پورے کروں گی‘‘ کا نغمہ الاپتی حکومت بھول گئی کہ ’’قائد عوام‘‘ کے آئین میں ایک آرٹیکل6 بھی ہے۔

سنہ 1973ء کے آئین کے نفاذ کے چالیس سال بعد، پہلی بار آرٹیکل6 کی تلوار نیام سے نکالی جارہی ہے۔ مصلحتوں میں جکڑی، لمبے اقتدار کی ہوس میں مبتلا کوئی بزدل حکومت یہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔ کیڑا کار بہت کچھ کہیں گے، بہت کچھ کہا بھی جاسکتا ہے لیکن اگر وزیر اعظم نواز شریف نے بارودی سرنگوں سے اٹے علاقے میں قدم رکھ ہی دیا ہے تو سوچنا ہوگا کہ اس اقدام سے ان کا کون سا شخصی، حکومتی، جماعتی یا سیاسی مفاد وابستہ ہے؟ اگر وہ اپنے ایک عہد کی پاسداری کرتے ہوئے خوں آشام آمریتوں کا راستہ روکنے اور جمہوریت کی پائیداری کے لئے ’’آتش نمرود‘‘ میں کود پڑے ہیں تو اہل سیاست، سول سوسائٹی، میڈیا، وکلاء اور اہل فکر و دانش کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں؟ موشگافیوں اور کیڑا کاریوں کے لئے بڑے موضوعات پڑے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار سجنے والا یہ تاریخی معرکہ بھی سیاسی مفادات اور باہمی توتکار کی نذر ہوگیا تو شاید کبھی اس کوتاہی کی تلافی نہ ہوسکے۔ اس معرکے میں سب سے اہم کردار فوج کو ادا کرنا ہے۔ کیا وہ اس کے تقاضوں اور نزاکتوں کو سمجھتی ہے؟ (جاری ہے)

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند