تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکہ کو کس نے کیا بیچا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 24 محرم 1435هـ - 28 نومبر 2013م KSA 08:05 - GMT 05:05
امریکہ کو کس نے کیا بیچا؟

 حملہ ہے ہی بری چیز، خواہ عراق یا افغانستان پر ہو، دنیا ملک کے ’’عزت و وقار‘‘پر شیخ رشید کی طرف سے بیانات کا حملہ ہویا ہماری ملکی سرحدوں کے اندر امریکی ڈرون طیاروں کا حملہ ہو۔ حملہ اس لیے منفی چیز ہے کہ حملہ آور کے پیش نظر اس کا اپنا مفاد ہوتاہے، جس پر حملہ ہوتاہے اس پر کیا گزرتی ہے، اس سے حملہ آور کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔ پس پتا چلا کہ ہر حملہ آور خود غرض ہوتا ہے۔

امریکی ڈرون حملوں کی مذمّت ان دنوں سیاسی جماعتوں کا مقبول عام فیشن ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں آدھی حقیقت کی مذمّت کرتی اور آدھی حقیقت کو نظر انداز کردیتی ہیں۔ مثلاً وہ امریکی غرض کو تو دیکھتی ہیں کہ امریکا اپنی غرض سے ڈرون حملے کرتا ہے اور بہت برا کرتاہے لیکن وہ امریکی قرض کو برا نہیں کہتیں کہ اسی سے ملک چلتا ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ ایک خود غرض ملک ہے۔ جب اسے غرض پڑتی ہے تو ہمارے آگے بچھ بچھ جاتا ہے، جیسے افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد وہ ہمارے آگے ایسا بچھا کہ مونگ پھلیوں کے تاجر امریکی صدر جمّی کارٹر نے جب پاکستان کو امداد دینے کا اعلان کیا تو ہمارے زیرک ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے اسے مونگ پھلی کے دانے سے تعبیر کیا اور امریکی امداد کی پیش کش حقارت سے ٹھکرا دی۔ چونکہ امریکی گوٹ اس وقت پھنسی ہوئی تھی لہٰذا جمّی کارٹر نے طنز کے اس کڑوے گھونٹ کو خندہ پیشانی سے پی لیا اور پھر صدر ضیاء کے حسب منشا امداد دی گئی۔

صدر بش تک آتے آتے پاکستان کی سٹریٹجک پوزیشن اور زیادہ اہمیت اختیار کرگئی تھی۔ اب افغانستان پر پاکستان کے حامی طالبان کا قبضہ تھا اور اسامہ بن لادن نے بھی وہاں پناہ لے رکھی تھی۔ نائن الیون نے امریکیوں کو ایک بار پھر پاکستان سے رجوع کرنے پر مجبور کیا۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان میں ایک ڈرپوک قوّت ایمانی سے محروم اور بے بصیرت کمانڈو حکمران تھا۔ جب امریکیوں نے اس سے کہا کہ اگر تم ہمارے ساتھ نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہو، جلد بتاؤ تم کس کے ساتھ ہو۔ یہ سن کر ہمارے کمانڈو کی گھگھی بند ھ گئی:\”مائی باپ! دشمنوں کے منہ میں خاک، آپ نہیں تو کوئی نہیں‘‘۔ اس یو ٹرن نے ملکی ٹرین کی پٹری ہی بدل دی۔

امریکہ کی دیرینہ عادت ہے جو اس سے ڈرتا ہے ، اس کو وہ ڈراتا ہے۔ اور جو اس سے نہیں ڈرتا، جو اسے خاطر میں نہیں لاتا، اس کے وہ تلوے چاٹتا ہے۔ ایران ، کوریا وغیرہ سامنے کی مثالیں ہیں۔ بزدل کمانڈو نے یہی نہیں کیا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کو شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار ہونے کے جذبے سے اپنی جنگ قرار دیا بلکہ افغانستان پر امریکی حملے میں دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر طرح سے تعاون فراہم کیا، امریکی طیاّروں کو اڑنے کے لیے اڈے فراہم کئے۔ نیٹو سپلائی کے لیے راہداری دی اور اس غلامانہ تابع داری کا صلہ کیا ملا؟ ملک دہشت گردی کی آگ میں جل کر بھسم ہوا اور تاحال ہورہا ہے، امریکی ڈرون حملوں نے ہماری خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے ایسے پرخچے اڑائے کہ ہم دنیا بھر میں تماشا اور دنیا کے ساتھ اپنے ہی تماشائی بن گئے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ کیا حکومت ، کیا فوج، کیا ایجنسیاں ، کیا سیاسی جماعتیں سب ہی گھر پھونک تماشائی ہیں۔ سب کے اپنے اپنے ایجنڈ ے ہیں۔ اور قومی مفاد کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ اس کا تصور ہر ایک کا اپنا ہے۔ ایسے ایشوز جن پر ملک و قوم کی بقاء اور فناء کا انحصار ہے، ان پر بھی کوئی اتحاد، یگانگت اور یک سوئی نہیں پائی جاتی۔ جو ڈرون حملوں پر امریکی مذمت کا اعلان کرتاہے، اس پر در پردہ امریکہ سے ڈالر وصولنے کا الزام لگادیا جاتاہے۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم امریکہ کی مذمّت کھل کر نہیں کرتے۔ مبادا سی آئی اے کے کارندے ڈالروں سے جھولی بھر کر ہمارے آستانے پر پہنچ گئے تو ہماری وضع داری انکار کی اجازت نہ دے گی۔ اب سی آئی اے والوں کا طریقہ مومنانہ تو ہے نہیں کہ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ ڈنکے کی چوٹ پر امریکہ ہمارے غریب ملک کو اپنی غرض رکھ کر قرض دیتا ہے۔ اور سی آئی اے ہم جیسوں کو پہلے خریدتی ہے بعد ازاں خریدے جانے والوں کی فہرست شائع کراکے بدنام کرتی ہے۔

ہمارا یہ ہے کہ ہم بدی سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا بدنامی سے ڈرتے ہیں۔ ہم حسین حقاّنی تو ہیں نہیں جو بدی اور بدنامی دونوں سے ایک ساتھ معانقہ کرنے کے عادی ہیں۔ نہ کبھی بدی سے خوف زدہ ہوئے نہ بدنامی سے ہراساں۔ ان ہی سے ہم نے سیکھا کہ بندے کی نظر اپنے مفاد پر ہو نی چاہے اور ذریعے کو خاطر میں نہ لانا چاہے۔ جائز ناجائز ، حرام حلال، صحیح غلط۔ حسین حقانی نے ہمیں سمجھایا کہ یہ تنگ دماغوں اور کم ظرفوں کا مسئلہ ہے۔ آدمی کو کشادہ دل اور کشادہ ظرف ہونا چاہے۔ نیکی اور بدی میں امتیاز نہ کرنا چاہیئے کہ امتیازی روّیہ عقل مند کو زیبانہیں ۔ دو نوں کو ایک ساتھ گلے لگانا چاہئے۔ اب رہا یہ مسئلہ کہ خدا ایسا کرنے سے منع کرتا ہے تو ہر معاملے میں خدا سے اتفاق کرنا بھی عقل مندوں کا شیوہ نہیں۔خداراضی ہو نہ ہو، شیطان بھی راضی ہوجائے تو بہت۔ کیوں کہ خداکے ہاں انعام ملنے میں دیر لگتی ہے مثلاً آخرت وغیرہ میں۔ شیطان کا انعام دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔

دنیا آنکھوں دیکھی حقیقت ہے، آخرت کا کسے پتا۔ موت کے بعد کچھ نہ ملا تو دنیا سے بھی گئے اور آخرت سے بھی۔ حسین حقاّنی کے اس فلسفے کو مغرب میں عملیت پسندی کا نام دیا جاتاہے ہمارے ہاں مفاد پرستی کا۔ ہم شیکسپیئر کے حوالے سے پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ نام سے زیادہ کام سے غرض ہونا چاہئے چاہے کوئی خود غرض ہی کیوں نہ کہے۔ حسین حقانی نے قرب اقتدار کی ہوس میں عزّت گنوائی اور دولت کمائی۔ آدمی کی ہوس کی بھی تو کوئی تھا ہ نہیں ہے۔

شہرت اور دولت باندی بن کر ہاتھ باندھے کھڑی ہوجاتی ہے تو گنوائی ہوئی عزّت یاد آنے لگتی ہے۔ سو ہمارے پیارے دوست حقاّنی پہلے صدر زرداری کی تالیف قلب میں مصروف رہتے تھے ، ان دنوں تالیف کتب سے دل بہلارہے ہیں۔ یہ ان کی پرانی عادت ہے ، جب سیاست کے جھمیلوں سے نکال باہر کیے جاتے ہیں تو قلم کی نب صاف کرکے یا کمپیوٹر پر بیٹھ کر کتاب لکھنے میں دماغ سوزی کرتے ہیں۔ شاید کسی نے انہیں بتایا ہے عزت کمانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آدمی مصنف بن جائے اور جو لکھے سچ لکھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی حالیہ کتاب میں سب باتیں سچ سچ لکھ دی ہیں۔ دینی سوچ اور دینی وضع قطع رکھنے والے انصار عباسی کو شکوہ ہے کہ حسین حقانی نے اپنی کتاب میں یہ لکھ کر قائد اعظمؒ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں کہ قائد اعظمؒ نے امریکی سفیر سے اپنی جائیداد بیچنے کا معاملہ کرنا چاہا۔ حقانی بضد ہیں کہ یہ تاریخی حقیقت ہے ۔ انھوں نے انصار عباسی کے اخبار میں ایک جوابی مضمون میں انھیں طعنہ دیا ہے کہ اگر انھیں اخبار نویسی سے فرصت مل جائے تو کچھ مفید کتابیں پڑھ لیا کریں تاکہ ان کی معلومات میں تھوڑا بہت اضافہ ہوجائے۔ ہم انصار عباسی کو مشورہ دیں گے کہ وہ قائد اعظمؒ کی طرف سے خاطر جمع رکھیں، انھوں نے تو امریکی سفیر کے ہاتھوں اپنا ذاتی بنگلہ ہی بیچنا چاہا نا، یہ تو کوئی بری بات نہیں۔ حقانی صاحب نے تو امریکہ کے ہاتھوں پورا ملک ہی بیچنے کی کوشش کی۔ حرج تو خیر اس میں بھی کوئی نہیں۔ بشرطیکہ حقاّنی صاحب ایک کتاب سچائی سے اس موضوع پر بھی لکھ دیں کہ انھوں نے اس قوم و ملک کو اب تک کس کس کے ہاتھوں کتنے داموں بیچا اور اس کے عوض جو کچھ ملا، اس سے کیا کیا خریدا۔ مثلاً امریکہ ہی میں کوٹھی، کار ، جائیداد ، تجوری وغیرہ ۔ رہ گئی امریکی شہریت تو وہ ان کی ان ہی گراں قدر خدمات کے عوض اغلب گمان یہی ہے کہ امریکیوں نے خوشامد کرکے انھیں پیش کی ہو گی۔

حقاّنی کا ذکر تو برائے وزن بیت آگیا اور کچھ زیادہ ہی آگیا وگر نہ ملک میں ملک کو بیچنے والوں اور ملک نہیں تو چند ٹکوں کے عوض اپنے آپ کو بیچ ڈالنے والوں کی ایک لمبی قطار لگی ہے۔ کیا بتائیں کہ کس کس کا نام ہے سر محضر لکھا ہوا ۔ وطن عزیز کا حال یوں ہی تو دگرگوں نہیں ہے۔ لیکن قلم کو یہ سوچ کر روکتے ہیں کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند