تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بلوچستان کا مسئلہ اور بدلتے ہوئے عالمی حالات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 27 محرم 1435هـ - 1 دسمبر 2013م KSA 12:39 - GMT 09:39
بلوچستان کا مسئلہ اور بدلتے ہوئے عالمی حالات

 بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اگر ہم نے بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو بحیثیت قوم ہمیں بہت پچھتانا پڑے گا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انتہائی جرأت مندی کا ثبوت دیا ہے۔ فوج اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے حکام کو عدالت میں طلب کر کے ان سے باز پرس کی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے تادم تحریر انہیں بھی مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود لاپتہ افراد کو پیش نہیں کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو شروع سے لے کر اب تک طاقت کی بنیاد پر حل کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس دوران اگر سیاسی حل نکالنے کی کوئی کوشش ہوئی ہے تو وہ بری طرح ناکام ہوئی ہے یا اسے ناکام کیا گیا ہے۔

پاکستان کا ایک مخصوص حلقہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف بھٹو صاحب کے دور میں فوجی آپریشن نہیں ہوا بلکہ 1947ء سے اب تک بلوچستان میں فوجی آپریشن ہو رہا ہے۔ مغربی اقوام کی ایک روایت یہ رہی ہے کہ وہ ہر تھوڑے تھوڑے عرصے بعد اپنی ان غلطیوں کا اعتراف کرتی ہیں جن کا ماضی میں ان سے ارتکاب ہوا ہوتا ہے۔ ہمیں اس اچھی روایت کو اپنانا چاہئے۔ بحیثیت قوم اب ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ ریاست قلات کی پاکستان میں شمولیت فوج کشی کے ذریعے ہوئی۔ اس کے باوجود بلوچوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کے لئے معاہدہ کیا تو اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی اور سردار نوروز خان، ان کے بیٹوں، بھتیجوں اور ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ 15 جولائی 1960ء کو حیدرآباد جیل میں نوروز خان کے بیٹوں اور بھتیجوں کو پھانسی دے دی گئی۔ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ اس وقت لیفٹننٹ کرنل ٹکا خان نے کیا تھا، جو بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں آرمی چیف بنے۔ مرحوم بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی کارروائی ہو۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے اپنے اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ بھٹو صاحب نے جنرل ٹکا خان کو بلایا اور کہا کہ بلوچستان میں مسئلہ سیاسی طور پر حل کیا جائے لیکن جنرل ٹکا خان غصے سے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے وزیر اعظم بھٹو کو جواب دیا کہ ’’فوج اپنا انتقام لے گی‘‘۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئے اور انہوں نے وزیراعظم کے پروٹوکول کا بھی خیال نہیں کیا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس سے بعض حلقوں کی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی لیکن یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو صرف طاقت سے حل کرنے کی کوشش کی گئی اور آج بھی جو کچھ بلوچستان میں ہو رہا ہے ، وہ بھی اسی اپروچ کا حصہ ہے۔ 1947ء سے لے کر اب تک اگرچہ 5 فوجی آپریشنز کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر بلوچستان میں کبھی سویلین حکومت کی رٹ نہیں رہی ہے۔ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت کو اب تک اس صوبے کی سب سے مضبوط سیاسی حکومت گردانا جاتا ہے لیکن اس وقت بھی بعض علاقوں میں حکومت کی رٹ نہیں تھی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی اختر جان مینگل والی حکومت بھی ان علاقوں میں رٹ بحال نہیں کر سکی۔ اب نیشنل پارٹی کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جو سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہیں اور جس بلوچستان اسمبلی نے ان کی حکومت تشکیل دی ہے، اسے اسمبلی کے ارکان خود ہی جانتے ہیں کہ بلوچستان میں عام انتخابات کس طرح ہوئے اور وہ کس طرح منتخب ہوئے۔ اس وقت اگرچہ تمام معاملات ایف سی کے کنٹرول میں ہیں اور ڈی جی ایف سی وزیر اعلیٰ سے زیادہ طاقتور ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایف سی پاک فوج کے ساتھ سیکورٹی ایشوز پر مسلسل رابطے میں ہے۔ اس وقت بھی بلوچستان کے مسئلے کو ملٹری اپروچ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے کوئٹہ سے کراچی تک جو پیدل مارچ کیا ہے، اس کے دوران بلوچستان کے مسئلے کے کئی سنگین پہلو اجاگر ہوئے ہیں۔ پہلی دفعہ دنیا کو پتہ چلا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ سیاسی کارکنوں کی تعداد سیکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ ان لاپتہ افراد میں سیاسی کارکن، وکلاء ، طلباء ، مزدور اور عام لوگ بھی شامل ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں اس بات کا خوف ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت اٹھا کر غائب کیا جا سکتا ہے ۔ لاپتہ افراد کی تھوڑے تھوڑے عرصے بعد مسخ شدہ لاشیں ملنے سے بھی خوف وہراس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک بات یہ بھی محسوس کی جارہی ہے کہ کراچی کا ٹارگیٹڈ آپریشن بھی لیاری تک محدود کردیا گیا ہے ۔ یہاں سے بھی لوگوں کو دھڑا دھڑ گرفتار کیا جارہا ہے اور لیاری میں آئے دن مقابلوں میں نوجوانوں کی ہلاکت کی خبریں آرہی ہوتی ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بلوچوں میں عدم تحفظ اور ریاست سے بیگانگی کا احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں بلوچوں کی کوئی مؤثر آواز نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی دوسرا ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر وہ اپنا مؤقف بیان کرسکیں۔ لاپتہ افراد کی جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام بلوچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خدارا اس صورتحال کا تدارک کیا جائے ۔ پوری قوم کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔ بلوچستان کو ’’ڈیل‘‘ کرنے کے لئے 1947ء میں جو اپروچ اختیار کی گئی تھی، اس پر نظرثانی کی جائے۔ سیاسی قوتوں کو بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کا اختیار دیا جائے اور سیاسی قوتیں جو معاملات طے کریں، غیر سیاسی قوتیں بھی ان معاملات کی پاسداری کریں ۔ بلوچوں کا یہ شکوہ بجا ہے کہ سیاسی قوتوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگلے روز وفاقی وزیر پانی وبجلی اور دفاع خواجہ آصف کراچی پریس کلب کے باہر بیٹھے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملنے گئے تو ان لواحقین نے بعد ازاں صحافیوں کو یہ بتایا کہ خواجہ آصف اور ان کی حکومت بے بس ہیں، وہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس تأثر کو ختم کیا جانا ضروری ہے۔ بالآخر سیاسی قوتوں نے ہی مذاکرات کے ذریعے سارے مسئلے حل کرنا ہیں۔ یہ کہنا کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو بیرونی قوتوں کی حمایت حاصل ہے لہٰذا ان سے ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا، یہ ایک غلط اپروچ ہے۔ اگر بیرونی قوتوں کی حمایت کا پنڈورا بکس کھل گیا تو بہت سے لوگوں کے چہروں سے حب الوطنی کے نقاب اتر جائیں گے ۔ اب بھی وقت ہے کہ لاپتہ افراد کو بہ سلامت رہا کیا جائے اور عام بلوچوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس ختم کیا جائے ۔ منتخب جمہوری حکومت کو دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل ڈھونڈنے میں معاونت فراہم کی جائے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس خطے کے لئے اپنی پالیسیوں میں جو ’’ اسٹرٹیجک شفٹ ‘‘ لا رہے ہیں ، اسے دیکھتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کے سیاسی حل میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند