تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2018

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نشان حیدر کے بعد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 10 ربیع الاول 1440هـ - 19 نومبر 2018م
آخری اشاعت: اتوار 27 محرم 1435هـ - 1 دسمبر 2013م KSA 12:43 - GMT 09:43
نشان حیدر کے بعد

ان دنوں مجھے اپنے مہربان دوست میجر شریف یاد آئے۔ میرے مرحوم چچا میجر شاہ جہاں نے نثار روڈ لاہور کینٹ میں جہاں اپنا گھر بنایا تھا، اس سے متصل میجر شریف کا گھر تھا۔ ان سے سرراہے ملاقات ہوتی تھی، بعد میں جب میں جم خانہ کلب آنے جانے لگا تو وہاں میجر صاحب کلب کے بہت اہم رکن تھے اور برِج روم میں ان کی مستقل نشست ہوا کرتی تھی جہاں شیخ بشیر احمد کے ذریعے ان سے ملاقات ہوتی تھی۔ جمخانہ کے اسی برج روم میں ایک عجیب واقعہ ہو گیا۔ ایک دن میجر صاحب حسب معمول برج روم پہنچے تو دیکھا کے سامنے مشرقی پاکستان والے جنرل نیازی بیٹھے تھے۔ اسے دیکھتے ہی میجر صاحب پر غصے کی کپکپی طاری ہو گئی اور انھوں نے کہا کہ یہاں ایک ملعون اور منحوس شخص بیٹھا ہے کہ اگر وہ فوراً اٹھ کر نہ گیا تو میں اسے گولی مار دوں گا۔

چنانچہ جنرل نیازی فوراً چلے گئے۔ نشان حیدر کے باپ سے یہ سب بالکل توقع کے عین مطابق تھا۔ آج ان کا بیٹا پاکستانی فوج کا سربراہ ہے اور راحیل شریف سے قوم اسی جذبے کی توقع رکھتی ہے جو ان کے والد گرامی اور ان کے نامور بھائی کے دلوں میں موجزن تھا۔ وہ ایک سراسر فوجی خاندان اور راجپوت نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ان کی رگوں میں ایک سپاہی کا خون گردش کر رہا ہے۔ ایک مجاہد کا خون جو گرمجوشی اور جاں فروشی کے لیے ہر لمحہ تیار اور بے قرار رہتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج کو ایسے ہی سپہ سالار کی ضرورت تھی۔ ہم ایک ایسے سفاک دشمن کے پڑوسی ہیں جس کی دشمنی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے اور خطرہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی حکمران اس کی خوشنودی کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ انھیں وہ مجوزہ ناقابل عبور دیوار دکھائی نہیں دیتی جو کشمیر میں بننے والی ہے، صرف وہ عام سی سرحد دکھائی دیتی ہے جو واہگہ کہلاتی ہے اور جسے آزادی کے ساتھ عبور کرنے کے لیے ویزے کی پابندی ختم کرنے کی گستاخی سرِ عام کی جا رہی ہے۔
یعنی فارسی شاعر کے بقول ہم دونوں ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہو جائیں کہ پھر کوئی یہ نہ کہے کہ میں اور تم دو الگ الگ اور مختلف وجود ہیں۔ ان ہی دو الگ الگ وجودوں کا نام پاکستان ہے اور اقبال و جناح نے قوم کو یہی بتا کر اسے الگ ملک پاکستان کے لیے تیار کیا اور قوم نے قائداعظم کی قیادت میں ملک بنا کر دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مثال قائم کر دی۔ اس ملک کے آج کے حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ واہگہ کی بظاہر آسان سرحد بھی اس ملک کے لیے سدِ سکندری ہے اور ہمارے نئے فوجی سربراہ کے خاندان نے اس سرحد کے تقدس پر جان قربان کرنے کی تیاری کی ہے۔ اس خاندان کے ہر نوجوان کو اس کے بزرگ نے یہی وصیت کی ہے جس کا دوسرا نام نشان حیدر بن گیا۔

جنرل راحیل شریف گجرات کے رومان پرور شہر کنجاہ کی مٹی کی پیداوار ہیں اور پاکستان کے دشمن بھارت کے کٹر دشمن ہیں۔ اس ملک کے ساتھ دشمنی ان کے خاندان کا ورثہ ہے۔ بھائی میجر شبیر شریف نشان حیدر اور ماموں میجر عزیز بھٹی نشان حیدر کی مثالیں ان کی رہنما ہیں۔ جن سپاہیوں کی قربانی کی جگمگاہٹ سے پوری قوم ولولہ حاصل کرتی ہے ان کی یہ قربانی ان کے کسی خون کے رشتہ دار کو کیسے بھول سکتی ہے۔ جنرل راحیل ایک بڑا ہی بھاری بوجھ اپنے سینے میں دبائے پھرتے ہیں اور اسے اتارنے کے لیے ظاہر ہے کہ بے تاب بھی رہتے ہیں لیکن وہ ایک بہت ہی مشکل وقت میں اس آزمائش میں پڑے ہیں۔ پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیاست پر اتنا مشکل وقت پہلی بار آیا اور اس وقت کا سامنا اس فوجی کو کرنا ہے جو اس کا ایک ثانوی فرض ہے لیکن جب یہ فرض اور کوئی نہ اٹھائے تو پھر کسی کو تو اٹھانا ہے۔ اس فرض کو لاوارث تو نہیں چھوڑا جا سکتا۔

ہم دنیا بھر میں دیکھتے ہیں کہ فوجی سربراہ سیاسی حکمرانوں کے دست و بازو بن کر رہتے ہیں۔ روس کے پولٹ بیورو کے جلسوں میں فوجی وردی میں ملبوس جنرل دکھائی دیتے تھے، چین میں بھی ان کی مرکزی حیثیت ہے اور امریکا تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس سپر پاور کو فوج چلا رہی ہے۔ بھارت کے پہلے حکمران نے اگرچہ کوشش کی تھی کہ فوج سیاست سے دور رہے لیکن بعد کے حالات نے بہت کچھ بدل دیا، ایک بار پنڈت نہرو کے سامنے ایک فائل پیش کی گئی کہ کسی چھائونی میں فوج کوئی نئی دیوار بنانا چاہتی ہے اس کی منظوری دی جائے لیکن وزیر اعظم پنڈت نہرو نے یہ فائل پرے رکھ دی اور جب فوج کی طرف سے بار بار یاد دہانی کرائی گئی تو پنڈت جی کے کسی ساتھی نے مشورہ دیا کہ اس معمولی سی بات کی منظوری دے دیں لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ نہیں ان لوگوں کو انکار بھی کرنا چاہیے تا کہ وہ حکومت کی طرف سے انکار سننے کے عادی بن جائیں۔

نہرو فوج کو اس کی آئینی اوقات میں رکھنا چاہتے تھے جب کہ پاکستان میں معاملہ بالکل الٹ تھا اور فوجی سیاسی حکمرانوں کو ان کی اوقات میں رکھنا چاہتے تھے بلکہ اکثر اوقات تو انھوں نے سیاسی حکمرانی کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا۔ اگر فوج پاکستان کے آئین کا دم بھرتی تو آج ہم سقوط ڈھاکہ کو یاد نہ کرتے اور ہمارا یہ حصہ ہمارا ہی ہوتا۔ بہر کیف اب جو فوجی نسل سے اور مزاج کا فوجی سربراہ آیا ہے اس سے اچھی توقعات ہمارا حق ہیں۔ خدا کرے وہ ہمارا حق ادا کرتے رہیں اور ہم ان کی دفاعی ضروریات کو مقدم سمجھیں تا کہ وہ ہمارے دشمنوں کے سامنے کھڑے ہو سکیں جب کہ ہمارے دشمنوں میں صرف بھارت ہی نہیں اس کا سرپرست امریکا بھی ہے جو افغانستان سے تو ڈرون حملے میں کسی بچے کی موت پر معافی مانگتا ہے لیکن پاکستان میں وہ یہ تکلف نہیں کرتا اور یہی وہ حالات ہیں جن میں نیا جنرل آیا ہے اور اسے ان بے حد مشکل حالات کا سامنا کرنا ہے۔ قوم اس کے ساتھ ہے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند