تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی ڈرون:راہول ،عمران ۔ نواز اور اقوام متحدہ ؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 7 صفر 1435هـ - 11 دسمبر 2013م KSA 08:13 - GMT 05:13
امریکی ڈرون:راہول ،عمران ۔ نواز اور اقوام متحدہ ؟

 گزشتہ کالم میں20سے زائد امریکن، پاکستانی ڈاکٹروں کے گروپ کا ذکر تھا جن کی تنظیم ’’اپنا‘‘ پاک بھارت مفاہمت کے لئے خیر سگالی کے جذبات کےاظہار کیلئے ہر سال اپنے کنونشن میں بھارتی فنکاروں کو بھاری معاوضے ادا کر کے ان کا شو کراتی ہے۔ امریکہ کے بھارتی ڈاکٹروں کی تنظیم ’’آپی‘‘ سے بھی اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن ’’اپنا‘‘ کے200ممبر ڈاکٹروں کے گروپ کو بھارت کے دورہ خیر سگالی کیلئے آخری لمحات میں یہ کہہ کر ویزہ دینے سے انکار کر دیا گیا کہ پاکستانی شہریت کی منسوخی کا ثبوت لائیں تو پھر آپ کو ویزے جاری کریں گے اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں ہوگی۔’’اپنا‘‘ کے صدر ڈاکٹر جاوید سلیمان نے پروگرام منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے بے ساختہ طور پر کہا کہ بھارت کے بعض بیورو کریٹ پاک بھارت مفاہمت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ،بھارتی حکام کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ملاقات اور پاک بھارت مفاہمت کیلئے سالہا سال کے ریکارڈ اور اپنے ہی بعض ممبران کی مخالفت کے باوجود نیویارک کے بھارتی قونصل جنرل اور دہلی کے بعض حکام کی جانب ویزے سے انکار کے بعد اب دیکھنا ہے کہ ’’اپنا‘‘ مستقبل کے حوالےسے کیسے ردعمل کا اظہار اورکیا رویہ اختیار کرتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ سے بھی اس سلسلے میں رجوع کیا جا سکتا ہے ۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی بھارت کا دورہ کر کے راہول گاندھی اور دیگر بھارتی شخصیات سے ملاقاتیں کر کے لوٹے ہیں اور ان کے مقرر کردہ نئے صوبائی صدر اعظم خان سواتی نے بھی پھریری لی ہے۔ ان کا نیا فیصلہ یہ ہے کہ عمران خان کی بھارت سے واپسی کے بعد نیٹو سپلائی کے خلاف تحریک انصاف کا دھرنا ختم نہیں بلکہ جاری رہے گا۔ اعظم خان سواتی امریکہ میں محنت مزدوری سےابتدا کرکے مالدار پاکستانی امریکن بننے کے بعد پاکستان لوٹے ہیں۔ پاکستان واپسی کے بعد ان کے رویّے، سوچ اور سیاسی فکر میں مجھ سمیت بہت سے دوستوںنے بڑی متضاد تبدیلی محسوس کی ہے۔ میں تو اس حقیقت کا بھی عینی شاہد ہوں کہ انہوں نے اپنی امریکی شہریت کو باقاعدہ ترک کیا اور پھر وہ کچھ عرصہ بعد موسمی طوفان سے اپنی جائیداد کو ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے امریکہ کا ویزا حاصل کر کے آئے تھے۔اس وقت وہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھی تھے ۔اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹرز کے دریچوں میں ان سے یہ مختصر اور آخری ملاقات یوں تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 55ہزار کلومیٹر علاقے کا ایک تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان آج کل اقوام متحدہ کے ثالثی کمیشن کے ساتھ چل رہا ہے۔

یہ تنازع پاکستانی55ہزار کلومیٹر کی سرزمین کا ہے جس پر بھارت نے تیل کی دریافت کے لالچ میں دعویٰ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون اور موجودہ سفیر مسعود خان اس مسئلے کی اہمیت، اور نزاکتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اعظم خان سواتی جب زرداری کابینہ میں وفاقی وزیر تھے تو ان کی وزارت نے ہی اس تنازع میں پاکستان کا موقف انتہائی کمزور انداز میں تیار کرایا جو کہ اقوام متحدہ میں ثالثی کیلئے داخل کیا گیا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر پاکستانی موقف انتہائی کمزور رکھا گیا ہے جس سے اعظم سواتی بخوبی واقف تھے۔

آج کل پاکستان نیوی کے ایک اعلیٰ ریٹائرڈ افسر نیویارک میں اسی کیس کی سماعت اور پیروی میں مصروف ہیں اور گزشتہ دنوں ایک تقریب میں ہمارے محترم نامور بیرسٹر اعتزاز احسن کی موجودگی میں مجھ سے یہ دعویٰ فرما رہے تھے کہ وہ بھارت کے خلاف یہ کیس جیت کر دکھائیں گے، خدا کرے کہ وہ سچے ثابت ہوں مگر مجھے اس کے آثار کم نظر آتے ہیں کیونکہ فائلوں میں درج پاکستانی موقف جان بوجھ کر کمزور رکھا گیا تھا۔ اسی دور میں وفاقی وزیر، اعظم سواتی سے رابطہ کیلئے میں نے انہیںفون کئے تاکہ انہیں پاکستان کے ممکنہ قومی نقصان اور اس کی اہمیت سے انہیں آگاہ کیا جا سکے اور ان کا موقف معلوم کیا جا سکے مگر آج تک اعظم سواتی نے بات کرنا ہی گوارہ نہیں کی۔ بعض حلقوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اس تنازع میں پاکستانی مفاد کا بڑے پیمانے پر سودا بھی ہوا ہے۔مگر حقائق سے پردہ اٹھنے میں ابھی مزید کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے زیر سماعت ہے جو کئی سال کے التواکے بعد اب ابتدائی سماعت اور حتمی فیصلے تک مزید کئی سال لے گا۔ احتساب اور شفافیت کے دعویدار محترم عمران خان بھی اس معاملے میں اپنے طور پر حقائق معلوم کر لیں تاکہ کسی مرحلہ پر انہیں اور انکی پارٹی کے کسی عہدیدار کے حوالے سے خفت کا سامنا نہ کرنا پڑجائے۔ سمندری حدود اور سمندری پانی کے اس علاقے میں تیل اور گیس کی یقینی موجودگی کے تناظر میں اس پاک بھارت تنازع کے حقائق کو جاننا عمران خان جیسے لیڈر کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

عمران خان ڈرون حملوں کے خلاف دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں اورجس کے بعد وہ ڈرون حملوں کا معاملہ بھی اقوام متحدہ میں ہی لانے کا اعلان کر چکے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے قبل حقائق واسباب اور ماحول کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیں ۔ عمران خان کی حب الوطنی ، عالمی اپیل، جمائما کی ڈرون کے خلاف مہم اور فلم کے اثرات میں کوئی شک و شبہ نہیں مگر عمران خان کو اقوام متحدہ کے محاذ پر ڈرون کے معاملے میں امریکہ کے خلاف کوئی زیادہ کامیابی کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ وہ سلامتی کونسل میں ڈرون کا معاملہ صرف حکومت پاکستان کے ذریعے ہی لا سکتے ہیں کیونکہ اقوام متحدہ اپنے رکن ممالک کی حکومتوں سے ہی ڈیل کرتی ہے۔ ہاں وہ اقوام متحدہ کے باہر جتنا احتجاج چاہیں ضرور کر لیں۔ اگر پاکستانی حکومت بھی کچھ ملکوں کی مدد سے اسے سلامتی کونسل میں لے آئے تب بھی امریکہ اسے ویٹو کے استعمال سے ختم کر دے گا ۔ تعجب ہے کہ اس بارے میں عمران خان نے دو سابق وزرائے خارجہ شاہ محمود قریشی اور خورشید محمود قصوری سے مشورہ نہیں کیا جو انہیں کئی حقائق سے آگاہ کر دیتے۔ تحریک انصاف کو دھرنے کے ذریعے امریکہ اور نیٹو کیلئے سپلائی بند کرنے میں ناکامی ہی ہوئی ہےکہ یہ سپلائی مہنگے داموں سینٹرل ایشیاء کی ملکوں کے ذریعے جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اگر نواز شریف حکومت کے تعاون یا مجبوری سے آ بھی گئے اور امریکہ نے اگر ویٹو استعمال نہیں کیا تو وہ امریکہ کے خلاف 8رکنی ممالک بشمول چین، روس، فرانس ، برطانیہ اور غیر مستقل اراکین دس ممالک ڈرون کے خلاف حمایت حاصل کر لیں گے۔ پاکستان تو اگلے چند دنوں میں خود بھی سلامتی کونسل سے سبکدوش ہو رہا ہے۔ یورپی ممالک نیٹو میں شامل امریکی اتحادی ہیں وہ ڈرون حملوں میں امریکہ کے اتحادی ہیں۔ کیا وہ ڈرون کے خلاف کسی اقدام یا قرارداد کی حمایت کریں گے؟ عالمی ماحول میں ڈرون حملے طالبان کے خلاف سمجھے جا رہے ہیں لہٰذا ڈرونز کے خلاف اقوام متحدہ کی عالمی برادری میں حمایت حاصل کرنا اور سلامتی کونسل سے قرارداد حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بھارت کے راہول گاندھی کا آپ سے گفتگو میں ڈرون حملوں کے خلاف پرجوش مخالفت بجا لیکن کیا بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر اداروں میں عمران خان کی پاکستانی قرارداد کی حمایت کرے گا؟ اگر وہ راہول کے ذریعے بھارت کو ہی ڈرون حملوں کے خلاف بھارت کو تیار کر لیں تو افغانستان اور دیگر معاملات میں امریکہ کی جانب سے بھارت کو دیا گیا رول امریکیوں کیلئے اتنا اہم ہے کہ امریکہ مستقل نہ سہی ایک عارضی مدت کیلئے ڈرون حملے روک سکتا ہے مگر عملاً نہ بھارت یہ چاہتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔

یہ درست ہے کہ ہمارے سابق حکمرانوں نے ڈرون حملے کرنے کی صرف امریکہ کو منظوری ہی نہیں دی بلکہ اس کے ساتھ زمین، فضا اور دیگر تمام سہولتیں بھی پاکستانی سرزمین سے ہی فراہم کی ہیں لیکن گزشتہ اکتوبر میں وزیر اعظم نواز شریف کا امریکہ آ کر ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ تو یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا منتخب وزیراعظم یہ کہہ رہاہے کہ اگر ماضی میں پاکستانی حکمرانوں نے کوئی خفیہ منظوری بھی دی تھی تو اب یہ منظوری پاکستان اور اس کے عوام نے ختم کر دی ہے، یہ ایک قانونی پہلو بھی ہے۔

عمران خان کو مشورہ:۔ عمران خان کے مشیروں نے درست مشورہ نہ دے کر انہیں دھرنے کی مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے مگر ڈرون کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی امریکی یقین دہانی یا ڈرون حملے رکنے کا اعلان آیا۔ عمران خان ایک وفد لیکر امریکہ آئیں اراکین کانگریس سے ملیں، کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے ڈرون حملوں کے نقصانات اور تباہ کاریاں بیان کریں۔ جمائما خان کی تیار کردہ فلم کو امریکہ اور یورپ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ملکر نمائش کر کے رائے عامہ اور امریکی میڈیا کے ذریعے امریکی انتخابات میں اہم سیاسی ایشو میں تبدیل کرنے کا کام کریں اور نتائج حاصل کریں۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند