تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بنگلہ دیش ! کہانی کا دوسرا رخ...انسانوں کے نام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 12 صفر 1435هـ - 16 دسمبر 2013م KSA 14:01 - GMT 11:01
بنگلہ دیش ! کہانی کا دوسرا رخ...انسانوں کے نام

برادر اسلامی ملک بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو حال ہی میں ’’البدر‘‘ نامی عسکری تنظیم کے رکن کی حیثیت سے 300 سے زائد بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کے بنا پر سپریم کورٹ کی طرف سے پھانسی کی سزا دی گئی ہے اس پر بنگلادیش میں جلائو گھیرائو توڑپھوڑ اور تشدد کی ایک نئی لہر پھوٹ پڑی ہے جس میں سرکاری و پرائیویٹ املاک کو نشانہ بنایا گیا ہے کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیاگیا ہے جس میں پہلے روز کی رپورٹ کے مطابق 7 اور اگلے روز 8 افراد جاں بحق ہوئے ہیں زیادہ تر حملے ہندوئوں کے گھروں پر کئے گئے ہیں علاوہ ازیں جنگی جرائم کے 5 رکنی ٹربیونل کے ایک جج جسٹس فضل کبیر کے گھر پر بھی پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں جماعت اسلامی نے بھی بھرپور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے جماعت کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ملا عبدالقادر کو پھانسی دے کر شیخ حسینہ واجد نے درحقیقت اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کئے ہیں۔ سید منور حسن کے الفاظ میں ’’بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اس آگ میں جل کر بھسم ہو جائیں گی‘‘۔ جماعت کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الدعوۃ نے بھی مذمتی بیانات جاری کرتے ہوئے پھانسی کی سزا کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے اور پاکستانی حکومت کی اس حوالے سے خاموشی کو شرمناک قرار دیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ملا عبدالقادر کو پاکستان سے وفاداری کی سزا دی گئی ہے۔ ہم اپنے اسلامی بھائیوں کے خیالات و جذبات کا احترام کرتے ہیں لیکن صحافتی آداب کا تقاضا یہ ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔

تحریک پاکستان سے آگہی رکھنے والا ہر شخص یہ جانتا ہے کہ بنگالیوں نے قیام پاکستان کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ 1906ء میں جب ہمارے قائد اعظم کانگریس کے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل تھے اس وقت ڈھاکہ میں ایک بنگالی رہنما ہی تھا جس کے گھر پر مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ رابندر ناتھ ٹیگور ہی کی سرزمین تھی جہاں آزادی کی تحریک پروان چڑھی۔ حسین شہید سہروردی جیسی قدآور شخصیت کی عظمت و خدمات کا کون انکار کرسکتا ہے لیکن قرارداد مقاصد پاس کرانے والوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ذرا پہلی دستور ساز اسمبلی کی کارروائیاں نکال کر دیکھیں اور اس میں سہروردی مرحوم کی تقاریر اور دردمندی ملاحظہ فرمائیں پھر جس طرح انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا۔

1940ء کی قرارداد پاکستان پیش کرنے والوں کے ساتھ مابعد کیا سلوک کیا گیا۔ علاوہ ازیں بنگالیوں کو ان کے صدیوں پر محیط شاندار تہذیب، ثقافت، ادب اور زبان سے کاٹ دینے کی کوشش کی گئی۔ ان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور دانشوروں کو تہس نہس کرنے کیلئے قبضہ گروپ بنائے گئے۔ Parityکا ظالمانہ ضابطہ متعارف کراتے ہوئے ون یونٹ کے تحت ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا سیاست میں ہی نہیں ملازمتوں میں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا اگر ہم جمہوریت پر ایمان رکھتے ہیں تو اس سوال کا جواب دیں کہ متحدہ پاکستان کے آخری الیکشن میں کون جیتا تھا اور کتنی بھاری اکثریت سے جیتا تھا، حقدار کو اس کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟ ڈھاکہ میں نومنتخب قومی اسمبلی کا اجلاس طے پایا کس نے کہا وہاں جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی؟ کس نے اس قومی یکجہتی کے اجلاس کا بوریا بستر لپیٹ کر بنگالیوں پر دھاوا بول دیا اور انسانی تاریخ کے وہ بدترین مظالم بنگالیوں پر توڑے کہ ہلاکو اور ہٹلر بھی شرمندہ ہوجائیں مذہبی نظریئے کے جبری ہتھوڑے پکڑے کون لوگ تھے جو اس بربریت کا ہراول دستہ بنے ہوئے تھے۔ وہ کون سے چہرے تھے جو بنگالی دانشوروں اور پروفیسروں کی چن چن کر ٹارگٹ کلنگ کروا رہے تھے۔ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ میں ذرا ’’البدر‘‘ اور ’’الشمس‘‘ جیسی عسکری تنظیموں کا رول تو ملاحظہ فرما لیجئے رہتی کسر چوہدری سردار کی Ultimate Crimeسے نکال لیجئے۔ ذہین اور پرعزم بنگالی قوم کو ان کے اپنے وطن میں ہی دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ان کی بستیاں مشین گنوں سے اڑا دی گئیں لاشیں الٹی لٹکا دی گئیں، مسلمان فوجیوں نے ان کی بچیوں کے ساتھ جو سلوک کیا اسے دیکھ کر تو یہود و ہنود بھی شرم میں ڈوب گئے۔ بنگالی قوم کے ساتھ سراج الدولہ کے وقت سے لے کر ایسا گھنائونا سلوک تو بدیسی حکمرانوں نےبھی نہیں کیا تھا جو ان دیسیوں نے کیااوراس میں پیش پیش ’’نظریۂ جبر‘‘ تھا۔

اس پس منظر میں ضرورت اس امر کی تھی کہ مظلوم بنگالی بھائیوں کے زخموں پرمرہم لگایا جاتا لیکن مابعد بھی نظریئے کے نام پر نمک اور مرچ لگایا جاتا رہا۔ ہم پوچھتے ہیں کہ محترمہ شیخ حسینہ واجد سے بڑی مظلوم مسلمان خاتون کون ہے جس کے پورے کنبے کو بیدردی سے قتل کیاگیا۔ وہ شیخ مجیب الرحمٰن جو کبھی سائیکل پر طویل سفر طے کرتے ہوئے قائد کے جلسوں میں جاتے اور تحریک پاکستان کے پوسٹر لگاتے پھرتے انہیں اہل پاکستان کیلئے نفرت کا سمبل بنا کر پیش کیا گیا۔ آج یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ جی فلاں کو پاکستان سے محبت کی سزا دی جا رہی ہے یہ کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہئے اور قانون پر عمل ہونا چاہئے جسے کنگرو کورٹ کہا جارہا ہے اس ٹربیونل نے تو پھانسی کی سزا کافیصلہ نہیں دیا یہ فیصلہ تو بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کا ہے۔ کیا اس نے ملزم کو صفائی کا پورا موقع نہیں دیا، کیا استغاثہ کے گواہوں پر جرح نہیں ہوئی، کیااپیل پر نظرثانی کی درخواست نہیں آئی؟کیا اس کی مناسب سماعت نہیں ہوئی؟ کیا اسلام ہی کا یہ حکم نہیں ہے کہ دانت کے بدلے دانت، آنکھ کے بدلے آنکھ اور جان کے بدلے جان۔ کیا قرآن یہ نہیں کہتا کہ اے عقل والو قصاص میں زندگی ہے؟ عام معافی کا اصول اپنی جگہ، فتح مکہ کےموقع پرعام معافی ضرور دی گئی لیکن جن لوگوں نے مظالم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتھا ان سترہ افراد کا نام لے کر کیا کہا گیا؟ یہ کہ فلاں ابن فلاں اگر کعبے کا غلاف بھی تھامے ہوں پھر بھی انہیں ذبح کردیا جائے۔ علمائے کرام یہ فیصلہ فرمائیں کہ قتل اور اغوا کی گھنائونی وارداتیں ثابت ہو جانے پر شرعی قانون کیا ہے؟

ایک طرف ہم تحریکیں چلاتے ہیں عدلیہ بحالی اور عدالتی سربلندی کیلئے۔ اگر پاکستانی سپریم کورٹ قابل احترام ہے تو بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کیوں قابل احترام نہیں؟ اگر دوسرا ملک ہمارے معاملات میں مداخلت کرے تو ہماری خودمختاری متاثر ہو جاتی ہے کیا حکومت پاکستان کے لئے روا ہے کہ وہ دوسروں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے دوسری حکومتوں سے یہ تقاضا کرے کہ وہ اپنی سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام نہ کریں۔ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد اقوام عالم میں دوستی پر استوار کرنی ہے یا دشمنی پر؟ اسلامی ممالک کے درمیان پہلے ہی خلفشار کیا کم ہیں جو پاکستان اور بنگلہ دیش میں نئے خلفشار کو جنم دے دیا جائے۔

ان تمامتر جملہ ہائے معترضہ کے ساتھ ہم برادر اسلامی ملک بنگلہ دیش کی ہر دلعزیز باصلاحیت وزیراعظم محترمہ شیخ حسینہ واجد کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ وہ درگزر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کریں جن لوگوں نے ان کے عوام پر مظالم روا رکھے انہوں نے عدالتوں کے ذریعے مجرموں کو بے نقاب کردیا اس سے آگے نہ جائیں وہ بڑے باپ کی حوصلہ مند بیٹی ہیں کشادہ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک میں رواداری اور بھائی چارے کی فضا پروان چڑھانے کیلئے چار دہائیوں پر محیط زخموں کو مزید نہ کریدیں ۔ اپنے تمام اہل وطن کیلئے عام معافی کا ویسا ہی اعلان کریں جیسا نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کے لئے کیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند