تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
16،دسمبر۔ پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 12 صفر 1435هـ - 16 دسمبر 2013م KSA 12:30 - GMT 09:30
16،دسمبر۔ پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ

آج بنگلہ دیش میں پاکستان کے اصل تصور کے علمبردار اور قائداعظم کے پاکستان کے حقیقی محافظ قید و بند کی صعوبتیں ہی نہیں جھیل رہے، تختہ دار کا بھی ہنستے کھیلتے مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کی خواتین بھی فتح کا نشان (V ) بنا رہی ہیں جس طرح انہوں نے 1970-71ء میں پاکستان کے دستور اور ملکی حاکمیت اور سالمیت کیلئے قربانی دی اسی طرح انہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اس سیاسی حقیقت کو دل سے تسلیم کر کے اس کی تعمیر نو کی جدوجہد کی ، وہ اصول پرستی اور حق کی راہ میں استقامت کی ایک روشن مثال ہے۔ انہیں سیاسی انتقام اور عدالتی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن جسے انہوں نے حق سمجھا اس کیلئے ہر قربانی دینے کو وہ اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں اور رحم کی اپیل سے بھی اپنے دامن کو داغدار کرنے کا تصور نہیں کرتے لیکن اہل پاکستان کیلئے 16 دسمبر ایک لمحہ فکریہ ہے اور خود احتسابی اور تاریخ سے سبق لینے کا ایک نادر موقع ہے۔

بلاشبہ سقوطِ ڈھاکہ ہماری تاریخ کے المناک ترین واقعات میں سے ایک ہے ۔ یہ صرف ہماری تاریخ ہی کا نہیں بلکہ ہم میں سے ہر شخص کی زندگی کا بھی بڑا ہی المناک لمحہ تھا۔ میں زندگی میں اگر اپنے آنسووں پر کبھی قابو نہیں رکھ سکا ہوں تو وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد سقوطِ ڈھاکہ کی خبر تھی اور یہ اس لئے کہ پاکستان ہم نے ایک نظریئے، ایک مقصد اور ایک نئی زندگی کے حصول کیلئے قائم کیا تھا اور سقوطِ ڈھاکہ سے اس عظیم تاریخی جدوجہد پر ایک ضرب کاری لگی۔ یہی وجہ ہے اس پر سب سے زیادہ خوشی اندرا گاندھی کو ہوئی جس نے یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں دفن ہو گیا ۔ یہ ہم سب کے لئے ایک المناک واقعہ تھا لیکن ضرورت ہے کہ علمی دیانت کے ساتھ غور کر کے اور ان اسباب و عوامل کو سمجھا جائے جن کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا۔

حصول آزادی کے 24 سالوں میں مشرقی پاکستان میں جو حالات پیدا ہوئے اور ان کے جو تکلیف دہ نتائج نکلے ان کی پہلی وجہ یہ ہے کہ جس مقصد کیلئے اور جس جذبے اور جن قربانیوں کی بنیاد پر یہ ملک حاصل ہوا تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعداس مقصد کو بھلا دیا گیا۔ لگتا ہے جیسے چند ہی سالوں میں ایک انقلاب معکوس کا عمل شروع ہو گیا اور ایسے لوگ برسراقتدار آئے جن کا کوئی حصہ قیام ِ پاکستان کی تحریک میں نہ تھا۔ سیاستدان، بیوروکریسی، عسکری قیادت آہستہ ،آہستہ سب ہی کارفرما عناصر نے اس انقلاب ِ معکوس کو فروغ دینے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا اور بالآخر پاکستان دو لخت ہو گیا۔ قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑی ضرورت تحریکِ پاکستان کے مقاصد کو سامنے رکھ کر زندگی کے ہر شعبہ میں...خصوصیت سے تعلیم،سیاست، معیشت، معاشرت ، انتظامیہ میں ...تشکیل نو کی ضرورت تھی اور اس تصور کے مطابق ضروری تھی جو اقبال اور قائدِ اعظم نے ہم کو دیا تھااور جس کا خواب برصغیر کے تمام مسلمانوں نے دیکھا تھا، حتیٰ کہ انہوں نے بھی جو جانتے تھے کہ وہ پاکستان کا حصہ نہیں ہوں گے۔

بدقسمتی سے یہ منفی رجحان خود قائداعظم کی زندگی میں شروع ہو گیا تھا جن کا احساس ان کی ان تقاریر کو غور سے پڑھنے سے ہوتا ہے جو انہوں نے مارچ 1948ء میں مشرقی پاکستان کے دورہ کے موقع پرکیں۔ ان میں وہ یہ بات صاف الفاظ میں کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان تو بنا لیا ہے لیکن جو لوگ پاکستان کو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے وہ اب اس کو اندر سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان سے خبردار ہو جائو اور ان کے مدمقابل اصل پاکستانی تحریک کی جو اسپرٹ ہے اُس کے مطابق تشکیل نو میں لگ جائو لیکن ہم نے قائد کے اس انتباہ کی کوئی پروا نہ کی ۔ 16 دسمبر کا المیہ ،نتیجہ ہے اس امر کا کہ ہم نے بحیثیت قوم اس نظرئیے کو پسِ پشت ڈالا اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا اور ایسی قیادت کو بروئے کار لانے میں ناکام رہے جس کا کمٹمنٹ اپنی ذات اور اپنے مفادات سے نہ ہو بلکہ پاکستان، اس کے نظرئیے اور اس کے اس وژن سے ہو جس نے مسلمانوں کو متحرک کیا تھا اور جو قیام پاکستان کا سبب بنا تھا۔

دوسرا اہم سبب جمہوری عمل کا بار بار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا ہے۔ پاکستان کی تحریک ایک خالص عوامی اور جمہوری تحریک تھی اور تحریک پاکستان کا فیصلہ 1945-46ء کے انتخابات میں ہوگیا تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد ہم نے جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے بارے میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ دستور بنانے میں ایک نہیں نو سال لے لئے حالانکہ ہندوستان نے دوسال کے اندر اپنا دستور بنا لیا۔ وہ دستور بھی تسلسل کے ساتھ روبہ عمل نہ رہنے دیا گیا۔ یہاں پہلا قومی انتخاب ہی 1970ء میں ہوا یعنی پاکستان بننے کے 23سال کے بعد۔ ایک کے بعد دوسری فوجی حکومت بنتی اور بگڑتی رہی جس کے نتیجے میں جمہوری پراسس جاری نہ رہ سکا۔ 1971ء میں بھی ایک فوجی حکمران تھا جسے ذاتی اقتدار نے اندھا کر دیا تھا۔

تیسری چیز پاکستان کے تصور کایہ پہلو تھا کہ ہمیں ایک ایسی سوسائٹی بنانی ہے جس میں سب شریک ہوں اور ملک کے وسائل میں جس کا جو حق اور حصہ ہے وہ اسے ملے اور سب ہی اس جدوجہد میں شریک اور کارفرما عامل کے طور پر حصہ لیں، انصاف اور ادائیگی حق اس ملک کا شعار بنیں مگر ہوا کیا؟ بیوروکریسی، مفاد پرست سیاستدان اور پھر ایک فوجی ٹولہ تمام اختیارات پر قابض ہو گیا اور اپنے مفادات کیلئے اس نے کیا کچھ نہیں کیا۔ جس طرح مشرقی پاکستان کے مسائل کو نظر انداز اور جس طرح ان کے حقوق کو پامال کیا گیا حتی ٰ کہ ان کے ساتھ حقارت تک کا سلوک کیا گیا، حالانکہ وہ ہمارے برابر کے ساتھی تھے، تواس کے نتائج مختلف نہیں ہو سکتے تھے ۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 1906ء میں مسلم لیگ قائم کہاں ہوئی تھی؟ اگر بنگال اورآسام تحریک پاکستان میں پیش پیش نہ ہوتے تو پاکستان کیسے بن سکتا تھا؟ واضح رہے کہ خود قائد اعظم ، لیاقت علی خان ، مولانا شبیر احمد عثمانی، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، مشرقی پاکستان سے دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن ہم نے ان چیزوں کو نظر انداز کیا ۔اس زمانہ کی قومی اسمبلی کے مباحث نکال کر دیکھ لیجئے، ان میں ہمیں ہر ہرصفحہ پر ان کی طرف سے ایک درد، ایک دکھ، محرومی کا ایک احساس ملے گالیکن ہم نے اس سب کو نظر انداز کیا۔حقوق کی عدم پاسداری ، عدل و انصاف کا فقدان اور اقتدار اور وسائل کے باب میں عدم شرکت کا احساس ، اصل بگاڑ کا تیسرا سبب بنا۔ چوتھی چیز جو بہت ہی اہم ہے وہ 1970ء کے انتخابات کے نتائج کو قبول نہ کرنا ہے۔

جماعت اسلامی مشرقی پاکستان میں انتخابی نتائج کے باب میں دوسرے نمبر پر تھی لیکن جماعت کی شوریٰ نے اعلان کیا کہ اب جسے بھی عوام نے منتخب کیا ہے اسے اقتدار ملنا چاہیے لیکن یحییٰ خان اور کچھ دوسرے سیاسی عناصر نے اپنی چوہدراہٹ کیلئے یہ نہ ہونے دیا۔ بلاشبہ اس کا فائدہ ہمارے دشمنوں نے اٹھایا لیکن جہاں تک مشرقی پاکستان کے عوام کا تعلق ہے ان کی عظیم اکثریت علیحدگی نہیں اپنا حق مانگ رہی تھی۔بلاشبہ اس کے بعد عوامی لیگ نے بھارت کی مدد سے مکتی باہنی کی شکل میں بغاوت کی آگ جلائی ، کشت و خون ہوا، پھر اس تصادم میں ہر طرف سے زیادتیاں ہوئیں جن کا اعتراف حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں بلاشبہ موجود ہے۔ بھارت کی فوج کشی اور مکتی باہنی کے ذریعہ تخریبی کارروائی سقوطِ ڈھاکہ کا سبب بنے۔ بیرونی مداخلت اور بھارت کا سامراجی کردار ایک فیصلہ کن عامل رہا اور یہ شکست کا پانچواں سبب بنا۔اس لئے بھارتی سامراج اور بین الاقوامی سازشوں کے کردار کو تسلیم نہ کرنا حقیقت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔ بلاشبہ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ شرمناک بھی ہے اور المناک بھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے آنکھیں کھولنے والا واقعہ بھی ہے اور اگر ہم نے اس سے سبق نہ سیکھا تو یہ خطرہ ہے کہ یہ ہماری تاریخ کا آخری المناک واقعہ نہیں ہو گا۔ اس لئے اس سے سبق سیکھا جائے اور جن باتوں کی طرف اشارہ کیا گیاہے ان میں سے ہر ایک کے باب میں صحیح رویہ اختیار کیا جائے تاکہ آج کے پاکستان کو سنبھالنے اور ترقی دینے اور اسے صحیح معنی میں اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کی طرف موثر اور مسلسل پیش قدمی ہو سکے۔

بشکریہ روزنامہ"جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند