تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسے سزا ضرور ملے گی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 13 صفر 1435هـ - 17 دسمبر 2013م KSA 09:54 - GMT 06:54
اسے سزا ضرور ملے گی

اس بار سقوط ڈھاکہ کئی زخم تازہ کر گیا ہے۔ عبدالقادر ملّا کی شہادت ایک طرف، مگر اس سے زیادہ حکومت پاکستان کی بے حسی ہے جو دل دکھائے دیتی ہے۔ ایک عرصے سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو رہا ہے جو کم از کم پاکستانیت کو مٹانا چاہتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہم مشرقی پاکستان کی علیحدگی یا سانحے پر اپنے گریباں میں جھانک کر اپنا احتساب کریں، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ خود کو کوسنے کے شوق میں تاریخ کا چہرہ مسخ کر دیا جائے کہ شاید ہماری اس طرح روشن خیالی کی دھاک بیٹھ جائے۔

مجھے یاد ہے سقوط ڈھاکہ کے ٹھیک ایک سال بعد حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس ہوا جس میں اس موضوع پر چار مضمون پڑھے گئے۔ اس میں ایک اس خاکسار کا تھا۔ ہم سقوط ڈھاکہ سے پہلے مشرقی پاکستان پر بڑی بحثیں کرتے رہے تھے۔ میرے مضمون کا پہلا فقرہ ہی یہ تھا کہ سقوط مشرقی پاکستان کی ساری ذمہ داری حلقہ ارباب ذوق پر عائد ہوتی ہے اور آج اس گناہ کا پیٹ ڈھانپنے کے لئے ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ اس حلقے کی بات ہے جسے سیاسی کہا جاتا تھا اور جس پر بائیں بازو کا قبضہ تھا، مگر میں اسی حلقے میں جاتا تھا کہ ہمیشہ مین سٹریم میں رہ کر طوفانوں کا مقابلہ کرنے کا شوق رکھتا ہوں، مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس وقت مجھے اس کی کتنی داد ملی تھی۔ مزید عرض کیا تھا کہ سارتر کہتا ہے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ذمہ دار میں ہوں، مگر ہمارے ادیب کا سیاسی شعور اتنی کچی گولیاں نہیں کھیلا ہوا۔ اس لئے وہ کہتا ہے مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا، اس کا ذمہ دار یحییٰ خاں ہے، سیاست دان ہیں، استحصالی قوتیں ہیں، فوج ہے، نوکر شاہی ہے، مگر وہ یہ بات ماننے اور کہنے کو تیار نہیں کہ اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔

عرض کر دوں سارتر کے اس فقرے کے بہت گہرے معنی ہیں۔ ہم ذمہ دار ہیں کے بجائے میں ذمہ دار ہوں کہہ کر اس نے گویا ایک فلسفیانہ گہرائی پیدا کر دی ہے۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ مجھے یاد ہے آگے چل کر میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ بالزاک خود کو معاشرے کا سیکرٹری جنرل کہتا ہے مگر (اس کا ناول ) بڈھا گوریو حلقہ ارباب ذوق کے نائب سیکرٹری کی ہفتہ وار رپورٹ نہیں ہے۔ یہ دوسری بات تو ادیبوں کی تخلیقی صلاحیتوں پر پھبتی تھی۔ ہفتہ وار اجلاس کی رپورٹ حلقے کا نائب سیکرٹری پیش کیا کرتا تھا۔ اس زمانے میں اس میں سوائے روزمرہ کی سیاست کے اور کچھ بھی نہ ہوتا تھا۔

میرا مؤقف آج بھی وہی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ میرے اردگرد لوگوں کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق آگیا ہے۔ اس ٹی وی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ عقل و دانش کا جنازہ نکال دیا ہے۔ میں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان میں بھی غداری کی اور آج بھی غداری کر رہی ہے۔ انہیں یہ سزا ملنا چاہئے تھی۔ یہاں بھی اس پر پابندی لگائی جائے۔ بھلے مانسو، یہ جماعت اسلامی کا مقدمہ ہے ہی نہیں، یہ تو پاکستان کا مقدمہ ہے۔ ایسی باتیں سن کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم کو کیا ہوگیا ہے۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہوئی جب ہمارے ایک دوست نے ٹی وی پر ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔پھر اگلے روز صلاح الدین قادر چوہدری پر کالم لکھا۔ صلا ح الدین ان لوگوں میں ہیں جن کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے ان میں اور شہید عبدالقادر ملّا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ یہ جماعت اسلامی کے نہیں، مسلم لیگی باپ کے بیٹے ہیں۔ عبدالقادر چوہدری متحدہ پاکستان کا ایک نامور نام تھا ۔

یہ اب خالدہ ضیاء کی بی این پی میں ہیں۔ میں نے اپنے کالم میں ان کا تذکرہ کیا تھا، کیونکہ میری نظر میں اس زمانے کے سبھی پاکستانی برابر ہیں، مگر ہمارے اس دوست کا کمال ہے کہ سارا کالم اس احتیاط سے لکھا کہ کہیں عبدالقادر ملّا یا ان کی طرح عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے کسی شخص کا نام نہ آجائے ۔کیا صلا ح الدین چوہدری اس لئے قابل توجہ ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے نہیں ہیں یا اس لئے کہ ان کے ملتان کے ایک سیاستدان اسحاق خاکوانی سے تعلقات تھے۔ نظریات کے اختلاف کے باوجود میں اپنے اس قلم کار ساتھی کے خیالات کو سنجیدگی سے لیتا ہوں اور ان کی طرح نہیں جو ان پر طرح طرح کی الزام تراشی کرتے ہیں، مگر ان کے اس رویے سے مجھے بھی بڑی تکلیف پہنچی ہے اور یقین بھی نہیں آتا کہ کوئی سمجھ دار شخص ایسی ڈنڈی بھی مار سکتا ہے۔

یہ تو ایک مثال ہے جس سے مجھے اس لئے تکلیف پہنچی کہ میں لکھنے والے کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہوں۔ وگرنہ کیا کچھ نہیں لکھا جا رہا اور کیا کچھ نہیں بولا جا رہا۔ یہ سب لوگ پاکستان کے مجرم ہیں۔

ابھی کل ہی منصورہ میں عبدالقادر ملّا کے حوالے سے ایک ریفرنس تھا۔ اس میں مجیب شامی صاحب اس حد تک گئے کہ دفتر خارجہ پر لعنتیں بھیجیں۔ یہ کارخیر تو خیر میں بھی کر رہا ہوں، مگر انہوں نے تو زبان کی سب حدیں پھلانگ ڈالیں، ان کا غصہ فطری تھا۔ پھر انہوں نے اسی غصے میں جماعت کو مخاطب کیا کہ وہ اب جہاد کا کھیل بند کریں۔ کیا ضرورت تھی اپنے بیٹوں کی کشمیر، افغانستان یا مشرقی پاکستان میں قربانیاں دینے کی ۔ جائیے، ان کے عزیز و اقارب سے معافی مانگئے کہ ہم سے غلطی ہوئی۔ یہ کام انہیں کرنے دیں جو اس کی تنخواہ لیتے ہیں۔ ان کے ساتھ مل کر وطن کی حفاظت کرنا یا جنگ آزادی میں حصہ لینا چھوڑ دیجئے۔ دیکھا نہیں۔ وقت آنے پر یہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

میں بھی اس سے پہلے دفتر خارجہ کو کوس چکا تھا اور عرض کر چکا تھا کہ جب ہم نے92ہزار فوجیوں کی واپسی کا بندوبست کیا تھا،تب ہم نے یہ بھی طے کر لیاتھا کہ وہ ہمارے ان195فوجیوں پر جنگی جرائم کا مقدمہ نہیں چلائیں گے جو انہوں نے نامزد کر رکھے تھے۔ یہ بھی طے پا گیا تھا کہ دونوں ملک کوئی ایسی کارروائی نہیں کریں گے جن سے گڑے مردے اکھیڑے جائیں اس کے بعد ہم نے بھی انہیں معاف کر دیا تھا اور انہوں نے بھی اپنے ان شہریوں کو جوخانہ جنگی میں ملوث رہے۔ میرا ارادہ تھا کہ کم از کم تین کتابوں کے اقتباسات نقل کرتا جو بتاتے کہ اس زمانے میں اصل حقیقت وہ نہیں جو ہم بیان کرتے ہیں۔ کوئی کچھ نہیں پڑھ سکتا تو کم از کم اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید سجاد حسین کی رو داد پڑھ لے کہ مکتی باہنی نے کیا کیا ظلم کئے ان پر بھی اور بہت سے لوگوں پر بھی۔ یہ ایک بنگالی کی رو داد ہے۔

ایک اور ہندو بنگالی شرمیلا بوس نے تو ظلم و ستم کی ساری عمارت ہی مسمار کر دی ہے۔ یہ کلکتہ کی رہنے والی ہیں۔ وہ اجتماعی قبروں کی تلاش میں نکلیں تو معلوم ہوا ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ قتل و زنا کی داستانیں سننے کے لئے گواہ ڈھونڈتی رہیں۔ سب کچھ جھوٹ کے انبار تلے مدفون ہے۔ اتنا جھوٹ بولا کہ خدا کی پناہ۔ کرنل شریف الحق ویلہم پہلا فوجی تھا جس نے پاک فوج سے بغاوت کی۔ اب وہ بتاتا ہے انڈیا میں جا کر کس طرح را کی مدد سے اس نے مکتی باہنی کو منظم کرنے کا کام کیا۔ پھر وہ اور ان کے ساتھی ہی شیخ مجیب کے خلاف بغاوت کے سرغنہ بنے۔ حقائق تاریخ کی چلمن سے جھلک جھلک کر سامنے آرہے ہیں۔ ہم نے بہت جھوٹ بولا ہے۔ میں اس وقت کوئی نئی کہانی گھڑنا نہیں چاہتا، تاہم یہ بات دو ٹوک لفظوں میں کہنا چاہتا ہوں کہ حسینہ واجد نے اس وقت جو کچھ کیا، وہ بنگالیوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ میرا ایمان ہے اسے اس کی سزا ضرور ملے گی۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند