تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایک عورت کا بوجھ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 14 صفر 1435هـ - 18 دسمبر 2013م KSA 08:32 - GMT 05:32
ایک عورت کا بوجھ

"جنگ" موسمی تبدیلی اور عورتیں‘ کے نام سے شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے ان تقریباً 50 % لوگوں میں سے جو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، 80 % عورتیں ہیں۔ دنیا کے وہ ایک ارب تیس کروڑ لوگ جو ایک ڈالر یومیہ سے کم آمدن پر گزر بسر کر رہے ہیں، ان میں سے 70 % عورتیں ہیں۔

دنیا کے شدید فاقہ زدہ افراد میں سے تقریباً 60 % عورتیں ہیں اور اب جیسا کہ دنیا کا موسم بدل رہا ہے، امکان ہے کہ اس کا زیادہ بوجھ بھی عورتوں پر ہی پڑے گا۔

عورتوں کے حالات کے حوالے سے پاکستان میں بھی کچھ زیادہ مختلف صورتِ حال نہیں ہے۔ سندھ میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والی انسانی حقوق کی ایک تنظیم سیوا ڈویلپمنٹ ٹرسٹ کے مطابق، ہمارا ملک موسمی تبدیلیوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا، یہاں تک کہ پاکستان گرین ہاؤس گیس کا اخراج دنیا میں سب سے کم کرتا ہے۔

موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو ہمالیہ کے پہاڑوں میں موجود گلیشیئروں کے پگھلنے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے متعدد عشروں میں ان گلیشیرؤں کا پگھلنا سیلابوں میں اضافے کا باعث بنے گا، جس کے بعد خشک سالی کے حالات پیدا ہو جائیں گے کیونکہ وہ دریا جنہیں ان گلیشیئروں سے پانی ملتا تھا، وہ اپنی بنیاد ہی سے مٹ جائیں گے۔

جنوب میں بلند ہوتی ہوئی سمندروں کی سطحیں ، بحیرہ عرب کے ساتھ ساتھ واقع ساحلوں کو ممکنہ طور پر مزید خطرات سے دوچار کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دریاؤں اور سمندر میں سیلاب آ سکتا ہے۔ نیز سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کی تعداد میں کمی کا باعث بن رہا ہے، جس کے سبب مچھیروں کا روزگار بھی براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق، پاکستان میں ساحلی زمین کا ایک لاکھ دس ہزار ایکڑ سے زائدعلاقہ پہلے ہی سمندر سے اوپر آ جانے والے نمکین پانی کے سبب متاثر ہو چکا ہے۔یہ پیش گوئی بھی کی جا چکی ہے کہ سندھ میں اوسط درجہ حرارت، اگلی صدی تک پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جانے کی توقع ہے۔

مجموعی طور پر، فصلیں پیدا کرنے کی محدود صلاحیت اور ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی، امکان ہے کہ مل کر غیر معمولی تناسب کی ایک آفت بپا کر دیں۔ پاکستانی خواتین کے اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم’’ شرکت گاہ‘‘ کی حال ہی میں شائع کردہ ایک رپورٹ، ضلع ٹھٹھہ میں خارو چھان کے قریب آباد خواتین پر موسمی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔ انتیس ہزار کی آبادی پر مشتمل خارو چھان میں بنیادی صحت کے ایک مرکز کے علاوہ کوئی اور سرکاری دفتر نہیں ہے۔

خاروچھان کے صرف ایک گاؤں کو تاحال بجلی فراہم کی گئی ہے۔یہاں کوئی پولیس سٹیشن نہیں ہے، اور رجسٹر میں درج شدہ125لڑکیوں میں سے صرف بیس روزانہ مقامی پرائمری سکول میں پڑھنے جاتی ہیں۔

مڈل سکول کی سطح پر یہ تعداد مزید مایوس کن ہے، جہاں داخل شدہ 18طالبات میں سے صرف تین حاضر ہوتی تھیں۔ حتیٰ کہ ان طالبات کے لئے خاتون اساتذہ کی بھی کمی ہے۔

یہ بنیادی تنظیمی ڈھانچے کی کمی کی کہانی ہے۔

زمین کی زرعی صلاحیت میں کمی نے زرعی علاقوں میں موجود مردوں کو ملازمتوں کی تلاش میں قریبی شہروں سے ہجرت کرنے کی ترغیب دی ہے، جس کے نتیجے میں پیچھے دیہاتوں میں تنہا بچ جانے والی خواتین پر پہلے سے موجود بوجھ دو چند ہو گیا ہے۔

کنوؤں اور دریاؤں کے خشک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کو اپنے گھریلو امور کی انجام دہی کے لئے پانی ، اور اپنے چولہے جلانے کے لئے لکڑی کی تلاش میں بہت زیادہ چلنا پڑے گا۔پانی اور لکڑیوں کو جمع کرنے میں خواتین کا جتنا زیادہ وقت لگتا ہے، اتنا ہی ان کے پاس اپنے بچوں اور بزرگوں کا خیال رکھنے کے لئے وقت کم ہوجاتا ہے۔اس سفر کا اثر خواتین کو لاحق صحت کے مسائل میں اضافے کی شکل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین کی اوسط عمرمیں کمی کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔

خارو چھان کی کہانی بتاتی ہے کہ کاشتکار کے نقد آور فصلوں کی طرف مڑ جانے اورقدرتی کھادوں کی بجائے کیمیکلز کے استعمال نے کس طرح ایک محصور آبادی کے لئے موسم میں اس منفی تبدیلی کے عمل کوتیز کر دیا ہے۔ خواتین، جو پہلے ہی معاشرے کے ذرائع پر گرفت سے محروم ہیں، کاشتکار کے نقد آور فصلوں کی طرف مڑ جانے اور حالات کو پلٹ دینے کی صلاحیت سے عاری ہونے کے سبب مزید بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔

پاکستان کے دوسرے حصوں میں، موسمی تبدیل کا اثر، جنگ کے نتیجے میں مزید بھیانک ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، قبائلی اور فرقہ ورانہ تنازعات، سکیورٹی اداروں کی طرف سے کئے جا رہے آپریشنز اور ڈرون حملوں میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کے اثرات کے مطالعے، پر بھی کم توجہ دی گئی ہے۔

دنیا کے دوسرے حصوں میں موجود ابتدائی تنازعات سے حاصل شدہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ تقریباً ہمیشہ، ماحول پر اثر ڈالتی ہے اور، دوبارہ، عورتوں اور بچوں پر اس کے مظالم کا بوجھ مسلط ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں، ان خواتین سے متعلق کسی شماریاتی مواد کی کمی، جن کے روزی کمانے والے قتل کر دئے گئے ہیں، کا مطلب یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کی زندگیوں پران تنازعات کا اثر زیادہ تر غیر واضح ہے۔

وہ خواتین جنہیں طالبان کے غلبے والے علاقوں میں گھروں کے اندر رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، یا کام یا سکول میں جانے سے روک دیا جاتا ہے، وہ فراموش کردہ شکار ہیں جن کی تعداد اور مصائب، موسمی تبدیلی اور تنازعے کے درمیان تعلق کے حوالے سے وسیع حد تک غیر شمار کردہ ہے۔

بے ضابطہ استعمال اور قلیل المدت فوائدکی خاطر ماحول کو تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے، اور تنازعات سے بھرپور سیاسی نظام، پاکستانی خواتین کی اگلی نسل کے لئے ایک گھمبیر صورتِ حال پیش کرتا ہے۔ماحول کی بربادی میں اضافے کی رفتار کو منجمد کرنے کے لئے تعلیم اور افراد کی استعدادِ کار میں اضافہ ضروری ہیں،مگر یہ دونوں طویل المدت سرمایہ کاری کی وہ اقسام ہیں جن پر مشکل زمانوں میں توجہ کم ہو جاتی ہے۔

گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان نے موسم کے سبب فطری ماحول کی تباہی کا بڑی حد تک سامنا کیا ہے۔مگر ان تباہیوں کے باوجود مقامی حکومتوں کو ہوش آیا اور نہ ہی معنی خیز انداز میں ترقی کے متعلق سوچنے کے انداز میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی کے حوالے سے دستیاب معلومات کی روشنی میں،پاکستان کا حساس محلِ وقوع، گلیشیئروں کے پگھلنے سے لے کر ساحلی ملک ہونے کے سبب پہلے ہی گرم آ ب و ہوا کا حامل ہونے تک ، ہر لحاظ سے مستقبل کی فطری آفات کے امکان کو یقینی قرار دیتا ہے۔جیسا کہ گزشتہ آفات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تمام ممکنہ بوجھ، ایک بار پھر ملک کی خواتین ہی کو اٹھانا پڑیں گے۔

بشکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند