تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
چک ہیگل اور خفیہ سینٹر؟ یہ خاموشی یا لاتعلقی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 20 ذوالحجہ 1440هـ - 22 اگست 2019م
آخری اشاعت: بدھ 14 صفر 1435هـ - 18 دسمبر 2013م KSA 08:15 - GMT 05:15
چک ہیگل اور خفیہ سینٹر؟ یہ خاموشی یا لاتعلقی؟

نہ جانے کس کے دبائو یا مطالبے کو پورا کرنے کیلئے میرے محترم مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے یہ بیان دے ڈالا کہ بھارت کی جانب سے افغانستان کو فوجی اسلحہ، تربیت اور تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کو قطعاً اعتراض نہیں پاکستان کے موجودہ حالات اور حقیقی و عملی دنیا کی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کو انتہائی ناموافق حالات کا سامنا ہے۔ دہشت گردی، بدامنی اور خراب معیشت کے ہاتھوں خود پاکستان کے اپنے حالات پر ہی کنٹرول نہیں تو بھارت، افغان فوجی تعاون اور اسلحہ کی سپلائی کو پاکستان کیسے روک سکتا ہے لیکن پھر بھی سرتاج عزیز کو یہ بیان دینے کے بجائے خاموش رہنا یا یہ کہہ دینا کافی تھا کہ صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اول تو قیام پاکستان سے اب تک کی 66سال کی تاریخ میں جب کبھی پاکستان نے کبھی کسی ملک سے اسلحہ خریدا یا امداد لی تو بھارت نے پاکستان سے چھ گنا زیادہ بڑا ملک ہونے اور ہتھیاروں سے پوری طرح لیس ہونے اور کئی گنا بڑی فوج رکھنے کے باوجود ہمیشہ اپنی تشویش و احتجاج کا اظہار یہ کہہ کر کیا کہ پاکستان کو ملنے والا اسلحہ اور فوجی تربیت بھارت کی سلامتی کے خلاف استعمال ہونے کا ڈر ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک سے بھارت نے پاکستان کو اسلحہ کی فراہمی پر احتجاج کیا خواہ اس کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے۔ افغانستان میں ماضی میں بھارت نے ایک درجن سے زائد جو سفارتی قونصل خانے کھولے تھے ان کے اثرات براہ راست پاکستان پر یوں پڑے کہ آج بلوچستان میں بدامنی کے حالات پر قابو پانا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی منظوری اور حمایت سے افغانستان میں بھارت کو جو برتر رول اور افغان فوج کو مسلح کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اس کے براہ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔

کیا امریکہ افغانستان میں پہلے سے موجود اپنے جدید اسلحہ اور دفاعی ٹیکنالوجی سے افغان فوج کی تربیت اور مسلح کرنے کا کام انجام نہیں دے سکتا تھا؟ اور بقیہ ضرورت کا اسلحہ خود فراہم کرکے مقصد کو مکمل نہیں کرسکتا تھا؟ آخر یہ کام بھارت کیلئے کیوں چھوڑا گیا؟ مشیر امور خارجہ کا یہ بیان مزید واضح کردیتا ہے کہ علاقے میں بھارت کے اس برتر رول کو کھلے اعلان کے ساتھ پاکستان نے بھی تسلیم کرلیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں اور غلط فیصلوں کی قیمت ادا کرتے ہوئے صورتحال کے ہاتھوں بے بسی کے ساتھ یہ اعلان پاکستان کے کون سے سفارتی اور قومی مفادات کی حفاظت کرے گا؟ اگر اس بارے میں حقائق اور بے بسی کو خاموشی سے نگل لیا جاتا تو یہ زیادہ بہتر تھا۔ افغان صدر حامد کرزئی کا حالیہ دورہ بھارت بہت کچھ واضح کررہا ہے۔ بھارت اور افغانستان کا فوجی تعاون اور تربیت کسی خلائی مخلوق یا مملکت کیلئے تشویش کا باعث نہیں ہو سکتا۔ سرتاج عزیز کا یہ بیان اور امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا دورہ پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب و قطر اس دلدل اور سمت کی نشاندہی کررہے ہیں جس میں پاکستان آہستہ آہستہ دھنس رہا ہے۔ اتنے کروڑ آبادی والا ایٹمی پاکستان اپنے حالات کے ہاتھوں اس گرداب میں بری طرح پھنسا ہوا ہے عمران خان کا ایجی ٹیشن، علامہ طاہر القادری کا نعرہ انقلاب، نواز شریف حکومت کی موجودہ پالیسی، پی پی پی کی لاتعلقی، ایم کیو ایم، اے این پی اور جماعت اسلامی کے موجودہ رویّے سمیت کوئی بھی سیاسی عنصر پاکستان کے مستقبل کو درپیش ان خطرات کے بارے میں سنجیدہ فکر کااظہار کرتا نظر نہیں آتا۔

امریکہ کی پاکستان سے بڑھتی ہوئی لاتعلقی اور تعلقات میں تلخی کی ایک بڑی وجہ تو یہ بھی ہے کہ امریکہ نے خطے کی صورت حال پر اپنا موثر کنٹرول رکھنے کے متبادل انتظامات کر لئے ہیں اور پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت کے ہاتھوں لاحق مجبوریوں کا بھی ایک حل تلاش کرلیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کاافغان صدر کرزئی پر امریکہ سے سمجھوتہ کیلئے دبائو اور پاکستان کو امریکی امداد روکنے کی دھمکی ملاقاتوں اور مذاکرات کے بعد امریکہ واپسی سے قبل سعودی عرب اور قطر بھی گئے تھے۔ قطر میں وہ العدید کے اس امریکی مستقر پر بھی گئے جو ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا اور امریکی اس امریکی آپریشن سینٹر کے بارے میں خاموش یا انکاری تھے۔ خود امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور دیگر ذرائع ابلاغ نے چک ہیگل کے دورہ قطر کے حوالے سے اس امریکی ائیر بیس کو دنیا بھر میں انتہائی کمپیوٹرائزڈ آپریشن سینٹر قرار دیتے ہوئے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ یہ انتہائی کلاسی فائیڈ امریکی ائیر بیس ہے جو پنٹاگون کے خفیہ دستاویزات میں ’’کمائنڈ ائیر اینڈ اسپیس آپریشنز سینٹر‘‘ کہلاتا ہے اور عراق اور افغانستان کی جنگوں میں جاسوسی اور نگرانی کا کام کرتا رہا ہے اور دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔

چک ہیگل کے دورہ قطر سے قبل اس آپریشن سینٹر کو قطر اور پنٹاگون دونوں نے خفیہ رکھا۔اب اسے دنیا کے سامنے لایا گیا ہے ورنہ پنٹاگون اسے ’’جنوب مغربی ایشیاء‘‘ کے کسی گمنام علاقے میں واقع قرار دے کر خاموش ہو جاتا۔ چک ہیگل نے اس آپریشن سینٹر کا دورہ کرکے اب اسے دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے گزشتہ ہفتے اس سینٹر کو دنیا کے سامنے لانے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی کہ خلیجی ممالک کے اتحادی حکمرانوں اور ایشیائی ممالک پر یہ واضح کردیا جائے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ اور ایشیاء کے خطوں میں امریکہ ایک بڑے عرصہ تک کیلئےموجود و مصروف رہے گا۔ یہ انتہائی جدید کمپیوٹرائزڈ آپریشن سینٹر امریکہ کی معاشی مشکلات کے باوجود جاری رہے گا۔ قطر کی ہمسایہ مملکت بحرین میں امریکی فوج کی پانچویں کمان کا اڈہ اس قطری ائیر بیس کے علاوہ ہے۔ قطری ائیر بیس سے اب بھی ہر روز 48 سے زائد نگرانی کی پروازیں افغانستان کی فضائی نگرانی کیلئے ہر روز روانہ ہوتی ہیں۔ادھر شام کے خلاف امریکی کارروائیاں بھی یہیں سے کی گئیں۔ یہ سینٹر میزائلوں، بموں، فضائی حملوں اور نگرانی کیلئے افغانستان، پاکستان، ایران سے لے کر خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں شام سمیت سب کو اپناہدف بنائے ہوئے ہے۔

مختصر یہ کہ امریکہ آپ کے خطے میں اپنی تمام تر تیاریوں کے ساتھ موجودہے۔وقت اور غلط فیصلوں کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان کی سرزمین کی جغرافیائی اہمیت اور لینڈنگ کی امریکی ضرورت کم ہو گئی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں سے امریکیوں کی لاتعلقی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ پاکستان اور افغانستان سمیت متعدد ممالک میں فوجی اڈوں کے بغیر ہی بہت کچھ کرنے کے انتظامات کرچکا ہے۔ ایران محض چند منٹوں میں امریکی بمباروں اور میزائلوں کی زد میں لایا جا چکا ہے لیکن ہمارے حکمران اس تمام صورت حال سے بے خبر اور بڑی حد تک لاتعلق نظر آتے ہیں۔ ہمارے بعض حلقے اس خوش فہمی میں ہیں کہ امریکہ افغانستان میں شکست کھاکر واپس جارہا ہے اور پاکستان کے راستے واپسی امریکہ کی مجبوری ہے۔ ماضی کی یہ حقیقت اور آج کی یہ ’’متھ‘‘ (MYTH) اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے ڈالر کے ذریعے خوشحالی کی خام خیالی اور غلط دعوے کے ساتھ افغان جنگ میں اتحادی بن کر اپنے اقتدار کو طول دینے کے لالچ میں پاکستان کو سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور قومی تباہی کے دلدل میں پھنسا کر رکھ دیا ہے اور اب ہم اس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ہر معاملہ ہمارے کنٹرول سے باہر نکلتا جارہا ہے۔

حکومت کی رٹ، پولیس، رینجرز اور فوجی امن و امان اور حفاظت کی ذمہ داریوں تلے ہی دب کر اپنی صلاحیت کھو رہے ہیں۔ رشوت غیرملکی جاسوسی اور سیاسی قائدین میں خلفشار قومی فیبرک کو ختم کررہا ہے لیکن کسی کو اس کی پروا نہیں۔ ہمارے حکمرانوں اور قائدین کی بصیرت ملاحظہ ہو کہ قطر میں واقع اس امریکی آپریشنز سینٹر کے منظرعام پر آنے اور پاکستان افغانستان اور ایران پر اس کے اثرات کا اندازہ ہونے کے باوجود اس کا ذکر بھی کرنے سے گریزاں ہیں یہ لاعلمی ہے یا مجرمانہ خاموشی یا مستقبل سے لاتعلقی؟

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند