تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغانستان اور تزویراتی گہرائی کا نظریہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 17 صفر 1435هـ - 21 دسمبر 2013م KSA 08:19 - GMT 05:19
افغانستان اور تزویراتی گہرائی کا نظریہ

وزیر اعظم نواز شریف نے افغانستان میں تزویراتی گہرائی Strategic Depth کی پالیسی کو ترک کر دیا ہے۔ کیا راحیل شریف بھی منتخب وزیر اعظم کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں؟ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد نے یہ سوال ساؤتھ ایشیاء میڈیا ایسوسی ایشن کے تحت اسلام آباد میں افغانستان اور پاکستان کے صحافیوں اور اساتذہ کی دو روزہ کانفرنس میں اٹھایا۔ اس کانفرنس کا موضوع افغانستان سے 2012ء میں امریکا اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد دونوں ممالک میں تعاون تھا۔

اس کانفرنس میں افغانستان سے 20 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں صحافی، اساتذہ، چیمبر آف کامرس کے نمایندے، اراکین پارلیمنٹ اور خواتین شامل تھیں۔ کانفرنس میں شرکاء نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ معروف صحافی سلیم صافی نے کہا کہ دونوں ممالک کے صحافیوں اور دانشوروں میں طویل فاصلے ہیں، دونوں ممالک کے دانشور اور صحافیوں کی معلومات برطانیہ اور امریکا کے بارے میں تو ہیں مگر ایک دوسرے کے بارے میں کم جانتے ہیں۔ افغان دانشوروں نے اپنی تقاریر میں کہا کہ طالبان کے ذریعے افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی، ان مندوبین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں گزشتہ 13 برسوں میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اب افغانستان میں 50 سے زائد ٹی وی چینلز اور 100 سے زائد ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم ہیں۔ ایک مضبوط قوم پرست فوج موجود ہے، اگر افغانستان میں مداخلت ختم کر دی جائے تو افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ ان دانشوروں نے اس بات کو واضح کیا کہ افغانستان میں امن کی صورت میں پاکستان میں بھی دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے۔ ایک افغان صحافی نے کہا کہ جب تک چین اور بھارت کے درمیان دوستی نہیں ہو گی خطے میں امن نہیں ہو گا۔

افغان دانشوروں کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی خود مختار حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ فاٹا میں ہزاروں سال سے مختلف قومیں آباد ہیں، اگر فاٹا کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ تجزیہ نگار بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسد منیر نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے موقع پر افغانستان نے یو این جنرل اسمبلی میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا، ڈیورنڈ لائن کو ختم نہیں کیا اور پختونستان کا نعرہ لگایا اور اب بھارت افغانستان میں فوجی اڈے قائم کر رہا ہے۔

افغانستان کی غیر سرکاری تنظیم پیس اینڈ ڈیموکریٹس کی ڈائریکٹر نرگس نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے افغانستان کا بہت ساتھ دیا ہے۔ ہزاروں افغانوں نے پاکستان میں تعلیم حاصل کی ہے، دونوں ممالک میں بہت اختلافات ہیں، ان اختلافات کو عوامی رابطوں، کھیلوں، صحافیوں اور صنعتکاروں کے وفود کے تبادلوں سے کم کرنا ہو گا۔ عوامی رابطوں سے مکالمہ ہو گا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم ہونگے۔ افغانستان کے سابق وزیر ٹرانسپورٹ دلیر صحافی نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن نے پختونوں کو تقسیم کیا، انھوں نے کہا کہ یہ عجیب پالیسی ہے کہ ایک طرف ڈرون حملوں کی مخالفت کی جاتی ہے تو دوسری طرف دہشت گردوں کو کابل پر قبضے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

افغان مندوبین نے اس بات پر خاص طور زور دیا کہ افغانستان کی آزاد حیثیت کو عملی طور پر تسلیم کیا جائے اور برابری کی بنا پر بات چیت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی دفاعی مبصر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان حقیقی سرحد ہے، اس سرحد کو نظر انداز کر کے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اﷲ بابر نے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران ہے اور یہ بحران ختم ہونے سے ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے، لہٰذا اعتماد سازی کے لیے عوامی سطح پر بات چیت انتہائی ضروری ہے۔ سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد قائم کر کے امن کی کوششوں کی ضرورت ہے اور افغان صدر حامد کرزئی امن کی تحریک کے حامی ہیں۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک نے 2014ء میں امریکا اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد رونما ہونے والی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ فوجوں کے انخلاء سے خطہ عدم توازن کا شکار ہو گا، اگر نیٹو افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو بلوچستان اور کے پی کے میں مہاجرین کی یلغار آ جائے گی جس میں نہ صرف امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گا بلکہ دونوں صوبوں کی معیشت بھی متاثر ہو گی۔ وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے مختلف مندوبین کے اٹھائے ہوئے نکات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک میں مداخلت کے حق میں نہیں ہے، یوں جمہوری اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

افغان وفد کے رکن نے یہ نکتہ اٹھایا کہ افغانستان کے عوام اپنے ملک میں پاکستان اور بھارت کی پراکسی وار کے حق میں نہیں ہے، اس جنگ نے افغانستان کے عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان، بھارت اور پاکستان دونوں سے خوشگوار تعلقات قائم کرتا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے انتہائی اہم بات کی کہ پاکستان کو اب جہادی پالیسی کو ترک کر دینا چاہیے۔ سیفما کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم نے اس کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پہلی دفعہ دونوں ممالک کے صحافیوں، دانشوروں اور اساتذہ کو آزادانہ طور پر تبادلہ خیال کا موقع ملا مگر خفیہ ایجنسیوں کے افسران بالا اس کانفرنس کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوئے، انھوں نے سازشی نظریہ کے تحت معاملے کو دیکھا۔ اس کانفرنس کے لیے جرمنی کی غیر سرکاری تنظیم نے مالیاتی امداد فراہم کی، ہمارے اہلکار کانفرنس میں بھارت، افغانستان اور امریکا کی ایجنسیوں کے کردار کو تلاش کرتے رہے، یوں غلط مفروضے کی بنیاد پر بننے والی پالیسی دیرپا ثابت نہیں ہو سکی۔

کانفرنس میں شریک عسکری اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے علاوہ دونوں ممالک کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ افغانستان میں امن سے پاکستان سمیت خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے اور مستقل امن کے لیے عسکری مقتدرہ کی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کو تبدیل کرنا ہو گا اور پاکستان کو نئے افغانستان کی صورتحال کے مطابق پالیسی تیار کرنا ہو گی۔ اس طرح 2014ء کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوا تو اس کا فائدہ براہ راست پاکستان کو ہو گا۔ پاکستان کے براستہ افغانستان وسطی ایشیائی ممالک تک رابطے کے راستے کھل جائیں گے یوں ان ممالک کے درمیان گیس اور تیل کی درآمد کے لیے پائپ لائن کی تنصیب کی خواہش عملی شکل اختیار کر سکے گی۔ اس طرح پاکستان ان ممالک سے فوری طور پر بجلی حاصل کر کے ملک میں بجلی کے بحران کو ختم کر سکتا ہے، پھر افغانستان میں امن سے بلوچستان میں بھی سکون ہو گا۔ وزیر اعظم نواز شریف کے گوادر سے وسطی ایشیائی ممالک تک ریل اور سڑک کے قیام کے منصوبے پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا، خطے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔ اس کانفرنس کی ایک اہم بات یہ تھی کہ بیشتر افغان مندوبین نے فارسی اور پشتو میں تقاریر کیں اور ان کا ترجمہ ہوا۔ ان میں سے اکثریت انگریزی اور اردو زبان سے واقف تھی۔ مگر پاکستانی مندوبین انگریزی میں اظہارِ خیال کرتے رہے۔

افغانستان اور پاکستان کی ہزاروں سال کی تاریخ شاہد ہے کہ افغانستان سے آنے والے حملہ آوروں نے ہندوستان پر حکومت کی، یوں یہ لوگ ہمارے معاشرے میں رچ گئے، پاکستان کے قیام کے بعد ملک میں قوموں کے حقوق تسلیم نہ کرنے کی بناء پر پختونوں اور بلوچوں کے حقوق غصب ہوئے۔ افغانستان کی حکومتوں نے پختونوں اور بلوچوں کے حقوق کی حمایت کی، پھر اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان پر بالادستی کی پالیسی اختیار کی، اس پالیسی کے تحت گلبدین حکمت یار، احمد شاہ مسعود اور استاد ربانی جیسے لوگوں کی سرپرستی کی گئی۔ جنرل ضیاء الحق نے امریکی منصوبے کے تحت افغانستان کی پہلی عوامی حکومت کے خلاف مہم شروع کی۔ امریکی منصوبے کے تحت اس لڑائی میں مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی کوششوں کے باوجود گزشتہ صدی کا آخری عشرہ وار لارڈز کی جنگوں میں گزرا۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد دنیا تبدیل ہو گئی۔ امریکا اور نیٹو فورس کے حملے میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی۔

پاکستان بظاہر امریکا کا اتحادی بنا مگر طالبان کی سرپرستی جاری رہی، کابل میں ہونے والی لڑائی کراچی تک پہنچ گئی۔ افغانستان میں یہ بات عام ہوئی کہ پاکستان طالبان کے ذریعے افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانا چاہتا ہے مگر اب وزیر اعظم نواز شریف نے تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے خاتمے کا اعلان کیا اور افغانستان میں عدم مداخلت کا نظریہ اپنایا۔ اب جب 2014ء میں افغانستان سے نیٹو افواج واپس جا رہی ہیں تو پھر ایک مستحکم افغانستان کا سوال اہم ہو گیا ہے۔ امتیاز عالم نے اس موقع پر افغانستان اور پاکستان کے دانشوروں کے مذاکرات کے لیے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی، وہ ان مذاکرات کا اگلا دور کابل میں کرانا چاہتے ہیں، سول سوسائٹی کو ان کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، امن کی تحریک کو مستحکم کیا جا سکتا ہے جس کا لازمی نتیجہ ترقی کی صورت میں نکلے گا۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند